دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Mukhtasar Fatawa Ahlesunnat | مختصر فتاویٰ اہلِ سنّت (قسط:۱)

Hijama Kya Hai Aur Iss Ki Haqeeqat Kya Hai

book_icon
مختصر فتاویٰ اہلِ سنّت (قسط:۱)
            

حجامہ

حجامہ کرواناسنت ہےیانہیں؟

حجامہ کی حقیقت

فتوی:154 کیا فرماتے ہیں عُلَمائے دین و مفتیانِ شرع متین اِس بارے میں کہ حجامہ کروانا سنّت ہے یا نہیں؟ آجکل بہت سے حجامہ سینٹر کھلے ہوئے ہیں، ایک تو اِسے سنّت کہتے ہیں اور دوسرا کئی بیماریوں سے شِفا یابی کا دعوی کرتے ہیں۔ اِس کی اِسلام میں کیا حقیقت ہے؟ رہنمائی فرمادیجئے۔ سائل:محمد حیدر عطاری (راولپنڈی) بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ ’’حجامہ‘‘ عَرَبی کا لفظ ہے، اِس کا معنی ہے پچھنے لگانا۔ حجامہ کروانا حضورِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ثابِت ہے، اَحادیثِ طیّبہ میں حجامہ کی ترغیب بھی دی گئی اور اِسے شِفا یابی کا سبب بھی قرار دیا گیا۔ حجامہ اَحادیثِ طیّبہ سے ضرور ثابت، بلکہ بعض میں جسم کے کچھ مقامات کی نشاندہی بھی فرمائی گئی کہ اِن میں حجامہ کروانا بہت مفید ہے، مگر اِن پر اپنی مرضی سے عمل نہیں کرنا چاہئے، بے شک اَحادیث میں تجویز فرمائے گئے علاج برحق ہیں، لیکن اِن کا حکم خُصوصی طور اَہلِ عَرَب کی کیفیات و اَمراض کو مدِّنظر رکھتے ہوئے فرمایا گیا، جیسا کہ کلونجی کے متعلق وارِد ہوا کہ اِس میں موت کے سوا ہر بیماری کی شفا ہے، اِس کے تحت مُحدِّثینِ کِرام نے یہی فرمایا: یہاں عَرَب کی عام بیماریاں مراد ہیں، جبکہ ہمارے مزاج و امراض اَہلِ عرب سےقدرے مختلف ہیں، لہٰذا بغیر طبیبِ حاذِق کے مشورے کے پچھنے نہ لگوائے جائیں۔ عَلاوہ ازیں خیال رہے کہ حجامہ بھی دیگر علاجوں کی طرح باقاعِدہ ایک علاج ہے، اِس میں جسم سے غیر مقصودی خون نکالا جاتا ہے، اور اِس بات کو اِس فن کے لوگ ہی پہچانتے ہیں، لہٰذا حجامہ کے لئے بھی دیگر علاجوں کی طرح حجامہ کرنے والے کا حقیقی ماہر ہونا ضروری ہے، تا کہ حقیقی فوائد حاصل ہو سکیں۔ وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کتبـــــــــــــــــــــــــہ مفتی محمد قاسم عطاری

مسواک

عورت کا مسواک یا دنداسا استعمال کرنا

فتوی:155 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عورت کے لئے مِسواک کرنا سنّت ہے یا نہیں؟ نیز اگر عورت دَنداسا یا کوئی اور چیز استعمال کرے تو اسے مِسواک کا ثواب ملے گا یا نہیں؟ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ عورت کے لئے مسواک کرنا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی سنّت ہے البتہ عورت کے لئے مستحب ہے کہ وہ بجائے مسواک کے دوسری نرم چیزیں، مثلاً مِسِّی کے ذریعے دانت صاف کرے کیونکہ عورتوں کے دانت مَردوں کے مقابلے میں کمزور ہوتے ہیں اور مسواک پر مُوَاظَبَت (ہمیشگی) ان کے دانتوں کو مزید کمزور کردے گی اور مِسِّی یا کسی پاؤڈر کے ذریعے دانت صاف کرتے وقت حصولِ ثواب کی نیت پائے جانے کی صورت میں مسواک کا ثواب بھی ملے گا کہ عورت کے لئے یہ چیزیں ثواب کے معاملے میں مسواک کے قائم مقام ہیں۔ وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کتبـــــــــــــــــــــــــہ مفتی محمد ہاشم خان عطاری

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن