30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اِنہی عالم صاحب کا کچھ یوں بیان ہے کہ خواب دیکھنے کے بعد میں امیرِ اہلسنّت دامَتْ بَرَ کاتُہُمُ العالیہ کا مُعتَقِد ہو چکا تھا اور بے قرار تھا کہ کسی طرح آپ دامَتْ بَرَ کاتُہُمُ العالیہ سے ملاقات کرسکوں ۔ بالاآخر انتِظارکی گھڑیاں ختم ہونا شروع ہوئیں ۔ ہوا یوں کہ یہ اعلان میرے کانوں میں پڑا کہ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ ۱۰ صَفَرُ الْمُظَفَّر ۱۴۲۷ھ ، 11مارچ 2006ء کو ا میرِاَہلسنّت دامَتْ بَرَ کاتُہُمُ العالیہ باب المدینہ میں عام ملاقات کریں گے یہ سن کر میں جھوم اُٹھا! ضلع رحیم یار خان سے سفر کرکے عالمی مَدَنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی جا پہنچا۔ امیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَ کاتُہُمُ العالیہ سے عام ملاقات کے دن چونکہ عوام کا ایک اِژدِحام ہوتا ہے ، لہٰذا ملاقات کے لئے ’’ٹوکن‘‘ تقسیم کیے جاتے ہیں ۔ ہمارا قافلہ پہنچ تو گیا مگر ملاقاتیوں کی بھیڑ بھاڑ کے باعث ہمارے شہر کے کسی بھی اسلامی بھائی کو’’ٹوکن‘‘ نہ مل سکا، میں بڑا دل برداشتہ ہوا کہ اللہ عَزّوَجَلَّکے ولی سے ملاقات کی سعادت نہ مل سکی۔ خیرمیں نے دل کو تسلی دی کہ ان کی زِیارت بھی عین سعادت ہے۔ میں ایسی جگہ جا بیٹھا جہاں سے باآسانی امیرِ اَہلسنّتدامَتْ بَرَ کاتُہُمُ العالیہ کی زیارت کرسکتا تھا۔ میں نے سرجھکا ئے آنکھیں بند کئے امیرِ اَہلسنّتدامَتْ بَرَ کاتُہُمُ العالیہ کی بارگاہ میں اِستغاثہ کیا:’’ حضور! ملاقات کی تمنا لئے حاضر ہوا ہوں مگر کوئی سبب نظر نہیں آرہا، کرم فرمادیجئے اور کوئی ایسا ذریعہ بنادیجئے کہ آپ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوجائے۔ ‘‘ ابھی میں اِستغاثہ پیش کر ہی رہا تھا کہ اچانک کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا، میں نے پلٹ کر دیکھا تو سامنے ایک نوجوان عاشقِ رسول سر پر سبز عمامہ سجائے مُسکرا رہے تھے۔ انہوں نے سلام کیا اور پوچھا:’’آپ کو ملاقات کاٹوکن نہیں ملا!‘‘میں نے جواب دیا :’’ نہیں ۔ ‘‘ اس پر انہوں نے میرے ہاتھ میں ٹوکن تھمایا اور مُسکراتے ہوئے پُر اَسرار انداز میں لَوٹ گئے۔ میں اپنے اس ’’پُراَسرار محسن‘‘ کا شکریہ بھی ادا نہ کرسکا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ یوں میں نے رات کم و بیش 3:00بجے امیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَ کاتُہُمُ العالیہ سے ملاقات کی سعادت حاصل کی۔
کیوں کر نہ میرے کام بنیں غیب سے حسنؔ
بندہ بھی ہوں تو کتنے بڑے کارساز کا
اللہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
{9 } غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا سلام
حیدرا ٓبا د(باب الاسلام سندھ) کے علاقہ دادن شاہ کے مقیم اسلامی بھائی کے حلفیہ (یعنی قسمیہ) بیان کا خلاصہ ہے کہ ’’ غالِباًیہ1991 ء کی بات ہے ایک رات جب میں سویاتوخواب میں ایک نورانی چہرے والے بُزُرگ جنہوں نے سبز عمامہ شریف کا تاج سجا رکھا تھا، فرمارہے ہیں :الیاس قادری کو میرا سلام کہنااور پیغام دینا کہ اپنے مریدین(اور متعلقین) سے کہیں کہ وہ اچھی طرح قفلِ مدینہ لگائیں ۔ ‘‘ میں امیرِاَہلسنّت دامَتْ بَرَ کاتُہُمُ العالیہ تک یہ پیغام نہ پہنچا سکا۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!چند روز بعد یہی اسلامی بھائی عاشقان رسول کے ہمراہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قَافلے میں سفرپَرروانہ ہوئے۔ شرکاء میں ایک ڈاکٹرصاحب بھی تھے جو آج کل اسلام آباد میں نیورو سرجن ہیں انہوں نے حلفیہ بیان دیاکہ مسجد میں دورانِ درس مجھ سمیت تمام شرکائے قافِلہ نے عین بیداری کے عالم میں دیکھا کہ اچانک قریب رکھی ہوئی چادر اُڑی اور سامنے دروازے کے قریب جاکر بچھ گئی۔ تمام شرکاء حیرت زدہ تھے کہ یکایک وہ اسلامی بھائی جنہیں خواب میں امیرِاَہلسنّت دامَتْ بَرَ کاتُہُمُ العالیہ کو سلام وپیام پہنچانے کا حکم ملا تھا، روتے ہوئے با ادب انداز میں اُٹھے اورجو چادر اُڑکر بچھی تھی اس کے قریب دوزانو بیٹھ کر رونا شروع کردیا۔ کافی دیر ان کی یہ ہی کیفیت رہی، اِفاقہ ہونے پر پوچھا گیا تو بتایا کہ میں نے چادر پر اُنہی سبزعمامے والے بُزُرگ کو تشریف فرما دیکھا جو خواب میں تشریف لائے تھے۔ اور امیرِاَہلسنّت دامَتْ بَرَ کاتُہُمُ العالیہ کے لئے پیغام دیا تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ’’ تم نے ابھی تک میرا پیغام الیاس قادری کو نہیں پہنچایا، میں شَیخ عبد القادر جیلانی( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )ہوں ، الیاس قادری کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ اپنے مریدین (اورمتعلقین) سے کہیں کہ وہ سختی کے ساتھ قفلِ مدینہ لگائیں ۔
اللہ ہمیں کردے عطا قفلِ مدینہ
ہر ایک مسلماں لے لگا قفلِ مدینہ
اللہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع