30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی نعتوں کی کتاب ’’مدینے کی دُھول‘‘ اُٹھائی اورایک عاشقِ رسول کا سوز و گداز میں ڈوبا ہوا کلام پڑھنے لگی۔ میری آنکھوں میں آنسو جاری تھے۔ دل ہی دل
میں استغاثہ پیش کر رہی تھی کہ یا رسو ل اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اب آپ ہی مجھ پر کرم فرمائیں اور میری مشکل آسان کریں ۔ روتے روتے میری آنکھ لگ گئی۔ میری تقدیر کا ستارہ چمک اُٹھا ۔ میں نے اپنے آپ کو ایک جنگل میں پایا جہاں میرے پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف فرماتھے۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھے دلاسادیا۔ پھر میری آنکھ کھل گئی۔
دُکھ درد کے ماروں کو غم یاد نہیں رہتے
جب سامنے آنکھوں کے غمخوار نظر آئے
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
{8} بَغداد شریف میں دعوتِ اسلامی کا اجتماع
ضلع رحیم یار خان (پنجاب پاکستان) کے ایک عالِم صاحب کی حلفیہ تحریر کا لُبِّ لُباب ہے کہ میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کو پسند کرتا تھا مگرذہن میں چندوَسوسے تھے جنہیں میں دُور کرنا چاہتا تھا مگرتشفی نہیں ہورہی تھی مَثَلاً:
{۱}دعوتِ اسلامی کے مبلغین ’’فیضانِ سنّت ‘‘سے ہی کیوں دَرس دیتے ہیں ؟
{۲} امیرِاَہلسنّت دامَتْ بَرَ کاتُہُمُ العالیہ کا’’ اجتماعی بَیْعَت ‘‘کراناسمجھ میں نہیں آتاتھا۔
{۳} امیرِاَہلسنّت دامَتْ بَرَ کاتُہُمُ العالیہ کی موجودگی میں بَیْعَت کا اعلان و ترغیب کیوں دی جاتی ہے؟
{۴}عمامہ شریف’’ سبز رنگ ‘‘کا ہی کیوں ؟
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ مجھے ایک ایمان افروز خواب کے ذریعے ان کے جوابات مل گئے، تحدیثِ نعمت کے طور پروہ ’’خواب‘‘ تحریر کررہا ہوں ۔ چنانچہایک رات جب میں سویا تو یہ خواب دیکھا کہ ایک بس کھڑی ہے جس میں سبز عمامے والے سُوار ہیں ۔ ایک با عمامہ اسلامی بھائی نے مجھے بغداد شریف میں ہونے والے تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی۔ میں اُن کی دعوت پر لَبَّیک کہتا ہوابس میں سُوار ہوگیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے بغداد شریف آگیا اور ہم سب غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مزار ِپُر انوار کے سامنے جا پہنچے۔ قریب ہی ایک وسیع میدان میں بہت بڑااجتماع جاری تھا۔ ہر طرف سبز عماموں کی بہار تھی۔ میں بھی اجتماع گاہ میں جاکربیٹھ گیا۔ میں نے دیکھا کہ روضۂ پاک کے ساتھ ’’تین منبر‘‘ رکھے ہیں ۔ ایک پر غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جلوہ فرماہیں اور دوسرے پر امیرِ اَہلسنّت دامَتْ بَرَ کاتُہُمُ العالیہ اور ان کے برابروالے منبر پر جو شخصیت جلوہ فرما تھیں میں انہیں پہچان نہ سکا۔ حیرت انگیز طور پَر میری تشفّی کا سامان یوں ہوا کہ تینوں بزرگوں کے سروں پرسبز عمامہ شریف کا تاج سجا ہواتھااور غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دستِ مبارک میں فیضان سنّت تھی اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان فرما رہے تھے، انداز بالکل سادہ اورعام فَہم تھا۔ بیان کے اختتام پر اجتماعی بَیْعَت کیلئے غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی موجودَگی میں ترغیب پَر مبنی اعلان ہوا۔ پھر حضورِ غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک ’’سنہری رَسی‘‘ پھینکی جو حَدِّ نگاہ تک جاپہنچی ، اُس رَسی کو امیرِاَہلسنّت دامَتْ بَرَ کاتُہُمُ العالیہ ، تمام شرکاء اجتماع اور میں نے بھی تھام رکھا تھا۔ جن الفاظ کے ساتھ امیرِاَہلسنّت دامَتْ بَرَ کاتُہُمُ العالیہ بَیْعَت کے کلمات ادا فرماتے ہیں کم و بیش انہی الفاظ کے ساتھ غوثِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بَیْعَت کروائی ، جب میری آنکھ کھلی اس وقت اذانِ فجر ہورہی تھی۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ میرے تمام وَسوسوں کی کاٹ ہو گئی اوراس مبارَک خواب کے ذریعے مجھے درسِ فیضانِ سنت ، امیرِ اہلسنّت دامَتْ بَرَ کاتُہُمُ العالیہ کی موجودگی میں بیعت کا اعلان ، اجتماعی بیعت اور سبز عمامے کے متعلق وسوسوں کا جواب مل گیا۔
مریدوں کو خطرہ نہیں بَحرِ غم سے
کہ بیڑے کے ہیں ناخدا غوثِ ا عظم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع