30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَلَیْكُمْ
ترجمہ: تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے۔ (1)
امام فخرُالدّین رازی رحمۃُ اللہ علیہ آیت کے اِس حصّے کی یوں وضاحت فرماتے ہیں: یعنی وہ دنیا و آخرت میں تمہیں بھلائیاں پہنچانے پر حریص ہیں۔(2)
حکیمُ الامّت مفتی احمدیارخان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ
کامعنیٰ یہ ہیں کہ کوئی تو اولاد کے آرام کا حریص ہوتا ہے کوئی مال کا، کوئی عزت کا،کوئی پیسے کا، کوئی کسی اور چیز کا مگر محبوب علیہ السّلام نہ اولاد کے، نہ اپنے آرام کے، (بلکہ)تمہارے حریص ہیں اسی لئے ولادتِ پاک کے موقع پر ہم کو یاد کیا، معراج میں ہماری فکر رکھی،بروقتِ وفات ہم کو یاد فرمایا، قبر میں جب رکھا گیا تو عبد اللہ بن عباس نے دیکھا کہ لب ِ پاک ہل رہے ہیں غور سے سنا تو امّت کی شفاعت ہورہی ہے،رات رات بھر جاگ کر اُمت کے لئے رو رو کر دعائیں کرتے ہیں کہ خدایا!اگر تو اُن کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر ان کو بخش دے تَو تُوعزیز اور حکیم ہے۔ قیامت میں سب کو اپنی اپنی جان کی فکر ہوگی مگر محبوب علیہ السّلام کو جہان کی۔ سب نبی نفسی نفسی فرمائیں گے اور محبوب علیہ السّلام امّتی امّتی۔(3)
آئیے! ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے کس انداز سے ہماری خیرخواہی فرمائی ہے:
اعلانِ نبوت سے پہلےاندازِخیرخواہی:
رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اعلانِ
[1] پ11، التوبۃ:128
[2] تفسیرکبیر، التوبۃ، تحت الآیۃ:128،178/6
[3] شانِ حبیب الرحمن،ص99-100
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع