30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی سفر کرتے ہیں۔ آپ بھی ساری رات اِجتماع میں شِرکت کی نیّت کریں ، مہینے میں کم از کم تین دن مَدَنی قافلے میں سفر بھی کریں ، عِلاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت کی ترکیب رکھیں۔ اگر آپ کے عِلاقے کے ذِمّہ داران آپ کو کوئی ذِمّہ داری دیتے ہیں تو وہ بھی قبول فرمائیں اور اس کے مُطابق مَدَنی کام کریں۔ اللہ پاک آپ کو اور ہم سبھی کو دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں پر اِستِقامت نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
سُوال : اللہ پاک کا شکر کیسے ادا کریں؟ شکر کے سب سے اچھے کلمات کیا ہیں؟ (SMSکے ذریعے سُوال)
جواب : اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا بھی اللہ کا شکر ہے۔ زبان سے کہنا کہ’’اللہ کا شکر ہے‘‘یہ بھی شکر ہے۔ اصل شکر یہ ہے کہ جو نعمت عطا کی گئی ہے بندہ اسے اللہ پاک کی مرضی کے کاموں میں استعمال کرے۔ ([1]) ہاتھ ہے تو وہ اللہ پاک کی اطاعت ہی میں اُٹھے اور استعمال ہو۔ نعمت کا حقیقی شکر یہی ہے۔ بہت پرانے بزرگ([2]) کا ایک رسالہ ہے’’اَلشُّکْرُ لِلّٰہ۔ ‘‘ اِس کا اُردو ترجمہ([3]) مکتبۃ المدینہ نے ’’شکر کے فضائل‘‘ کے نام سے چھاپا ہے۔ اِس میں شکر کے بہت فضائل ہیں۔ یہ اِتنا پیارا رِسالہ ہے کہ اِس جیسا رِسالہ میری نظر سے آج تک نہیں گزرا۔ اِس رسالے کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ہم جو سانس لیتے ہیں یہ بھی اللہ پاک کی نعمت ہے اور سانس کا نکلنا یہ بھی اللہ پاک کی نعمت ہے ، بندے کو چاہیے کہ ہر سانس کے لینے اور نکالنے پر اللہ پاک کا شکر ادا کرے۔
[1] منھاج العابدین ، الباب السابع ، العقبة السابعة وهی عقبة الحمد والشکر ، ص۱۸۹ ماخوذاً۔
[2] آپ کا نام امام ابوبکر عبدُاللہ بن محمد قرشی المعروف امام ابنِ ابی دنیا رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ۲۰۸ھ کوبغداد میں پیدا ہوئےاور کثیر علماء سے اکتسابِ فیض کیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے تلامذہ کی بڑی تعداد ہے ، جنہوں نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے وسیع علم سے وافر حصّہ پایا۔ آپ نے کثیر کتابیں یادگار چھوڑیں ، جن میں سے اکثر ’’زُہْد ورَقائِق‘‘ پر مشتمل ہیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی نصیحتوں اور مواعظ اور کتب کوہر دور میں بے پناہ مقبولیت حاصل رہی ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ خوشبوئے علم سے اکنافِ عالم کومعطر فرماتے ہوئے ۲۸۱ ھ ماہِ جُمَادَی الاُولٰی میں اس دُنیائے فانی سے رُخصت ہوگئے اور اپنے محبوبِ حقیقی سے جاملے۔ (سیر اعلام النبلاء ، الطبقة الخامسة عشر ، ابن ابی الدنیا...الخ ، ۱۰ / ۶۹۴ ماخوذاً۔ تھذیب التھذیب ، حرف العین ، عبد الله بن محمد بن عبيد القرشی ، ۴ / ۴۷۳ ماخوذاً)
[3] اس کا اردو ترجمہ دعوتِ اسلامی کے شعبۂ تصنیف و تالیف “ اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَۃْ “ کے علماء نے کیا ہے۔ (شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنّت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع