30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دُعا قبول ہونے کا علم کیسے ہو؟
سُوال : ہمیں یہ کیسے پتا چلے کہ ہماری دُعا قبول ہوگئی ہے؟ (SMSکے ذریعے سُوال)
جواب : ہر دُعا قبول ہوتی ہے ، ([1]) لیکن دُعا قبول ہونے کی صورتیں ہوتی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جو مانگیں وہ مِل جائے تو دُعا قبول ہے۔ بچہ بیمار ہے ، دعا مانگی ، بچّہ ٹھیک ہوگیا تو ہم نے ذہن بنالیا کہ ہماری دُعا قبول ہوگئی۔ بے شک یہ بھی دُعا قبول ہونے کی صورت ہے ، لیکن دُعا کی قبولیت کی اور بھی صورتیں ہیں۔ مثلاً بچّہ وہیں کا وہیں ہے اور اس کی بیماری نہیں گئی تو اس میں بھی دُعا قبول ہونے کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ اگر دُعا نہ مانگتے تو بچّہ اور بیمار ہوجاتا ، دُعا کی بَرَکت سے اس کی بیماری رُک گئی اور آگے نہیں بڑھی ، یہ بھی قبولیت ہے۔ دُعا قبول ہونے کی ایک صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ آنے والی مصیبت ٹَل جاتی ہے۔ ([2]) قیامت کے دن بظاہر قبول نہ ہونے والی دُعاؤں کا اَجر جب بندہ دیکھے گا تو تمنّا کرے گا کہ کاش! دُنیا میں میری کوئی دُعا قبول نہ ہوتی۔ ([3]) جس طرح نَماز اور روزہ اللہ پاک کی عبادت ہے ، اسی طرح دُعا بھی اللہ پاک کی عبادت ہے ، ([4])بلکہ دُعا عبادت کا مغز ہے۔ ([5])
سُوال : سنا ہے کہ جس کے Dialysis ہورہے ہوتے ہیں وہ چھ مہینے بعد انتقال کرجاتا ہے۔ کیا یہ دُرُست ہے؟
جواب : یہ بات غلط ہے۔ میں نے ایسے مریض بھی دیکھے ہیں جن کے بَرسوں سے Dialysis ہورہے ہیں اور وہ جی رہے ہیں۔ اگر Dialysis کا مریض یہ ذہن بنالے گا کہ میرے گردے فیل ہوگئے ہیں ، بس چھ ماہ باقی ہیں ، میں تو گیا۔ ‘‘ توپھر سمجھو کہ وہ مزید خطرے میں پڑ گیا۔ ایسی چیزوں میں نفسیات کا بڑا دَخل ہوتا ہے۔ ایک ڈاکٹر نے بڑا عجیب قصّہ سنایا تھا
[1] مراٰۃ المناجیح ، ۲ / ۳۱۹ ماخوذاً۔
[2] مسند امام احمد ، مسند ابی سعید الخدری ، ۴ / ۳۷ ، حدیث : ۱۱۱۳۳۔
[3] شعب الایمان ، الباب الثانی عشر ، ذکر فصول فی الدعاء ، ۲ / ۴۹ ، حدیث : ۱۱۳۳۔
[4] ابن ماجه ، کتاب الدعاء ، باب فضل الدعاء ، ۴ / ۲۶۲ ، حدیث : ۳۸۲۸۔
[5] ترمذی ، کتاب الدعوات ، باب ماجاء فی فضل الدعاء ، ۵ / ۲۴۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع