30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حفاظتی اُمورپر مُتَعَیَّنہیں اُنہوں نے صبح کے وقت دیکھا کہ قبر سے سبز رنگ کی روشنی نکل رہی ہے ۔عارضی طور پرقبر دُرُست کرنے والے اسلامی بھائیوں کا حلفیہ ( یعنی قسم کھا کر) کچھ یوں بیان ہے کہ ہم نے دیکھا کہ تدفین کے تقریبًا ساڑھے تین سال بعد بھی مفتیِ دعوتِ اسلامیقدّس سرہ السّامی کی مبارَک لاش اور کفن اِس طرح سلامت تھے کہ گویا ابھی ابھی انتقال ہوا ہو ، تکفین کے وقت سر پر رکھا جانے والا سبز سبز عمامہ شریف آپ کے سرِمبارک پر اپنے جلوے لٹا رہا تھا ،عمامے شریف کی سیدھی جانب کان کے نزدیک آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی زُلفوں کا کچھ حصہ اپنی بہاریں دکھا رہا تھا، پیشانی نُورانی تھی اور چہرہ مبارک بھی قبلہ رُخ تھا ۔ مفتیِ دعوتِ اسلامی کی قبر مبارک سے خوشبوکی ایسی لَپٹیں آرہی تھیں کہ ہمارے مشامِ جاں مُعَطَّر ہوگئے ۔قبر میں بارش کا پانی اترجانے کی وجہ سے یہ امکان تھا کہ قبر مزید دھنس جائے اورسلیں مرحوم کے وجُودِ مسعود کو صدمہ پہنچا ئیں لہٰذا اس واقعے کے تقریباً دس روز بعد یعنی شبِ بدھ ۶ شعبانُ المعظم ۱۴۳۰ھ ( 28-7-2009) بَشُمُول مفتیان کرام و عُلَمائے عِظام ہزارہا اسلامی بھائیوں کاکثیر مجمع ہوا، غلامزادہ ابو اُسَید حاجی عُبَیدرضا ابنِ عطارؔمدنی سلَّمہُ اللہ الغنی پہلے سے موجود شگاف کے ذریعے قبر کے اندر اترے تاکہ یہ اندازہ لگائیں کہ آیا منتقلی کیلئے جسمِ مبارَک باہَر نکالنے کی حاجت ہے یا اندر رہتے ہوئے بھی قبر شریف کی تعمیرِ نو ممکن ہے۔ انہوں نے اندر کا جائزہ لیا اور اندر ہی سے دعوتِ اسلامی کے دارالافتاء اہلسنّت کے مفتی صاحِب کو صورتِ حال بیان کی انہوں نے بدن مبارَک باہَرنہ نکالنے کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع