30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یَا بِلَال ! ”یعنی اے بلال! یہ کیا جفا ہے! کیا ابھی وہ وقت نہ آیا کہ تم میری زیارت کے لئےحاضرہو جاؤ!“فرمانِ والا شان سنتے ہی حضرت بلال رضی اللہ عنہ رَختِ سفر باندھ کر سواری پر سوار ہوئے اور مدینہ شریف کی طرف چل پڑےاور بڑی تیزی کے ساتھ منزلوں پر منزلیں طے کرتے ہوئے مدینۂ پاک کی طرف بڑھتے چلے جارہے تھے،یاد رکھئے! جس کی کمر عزمِ طیبہ کے لئے بندھی ہو اُسے اِرد گرد کے ماحول سے کوئی سَرو کار نہیں ہوتا اس لئے حضرتِ بلال رضی اللہ عنہ پر صرف ایک ہی دُھن سوار تھی کہ جلد اَز جلد پیارےآقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے قدموں میں پہنچ جاؤں۔
گھر سے کہیں اچھا ہے مدینے کا مسافر یہاں صبح وطن شام غریب الوطنی ہے
کہتا ہے مسافر سے یہ ہر نخلِ مدینہ آرام ذرا لے لو یہاں چھاؤں گھنی ہے
آخر کار یہ عاشقِ زار مدینہ ٔ پاک کی مہکی مہکی فضاؤں میں پہنچ گئے، مدینہ شریف کی گلیوں میں پہنچتے ہی دل کی دنیا بدل گئی، کیف ومستی کا عالَم طاری ہوگیا،دیوا نہ وار مدینہ شریف کی گلیوں میں تاجدارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو تلاش کرنے لگے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم مدینہ شریف کی گلیوں میں نظر نہ آئے تو تمام مسلمانوں کی پیاری امّی جان حضرتِ بی بی عائشہ رضی اللہ عنہ ا کے حجرے میں موجود رَسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی قَبرِ اَنوَر پر پہنچے اور رو رو کر عرض کی: یا رسولَ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ! حَلَب سے غلام کو زیارت کے لیے بلایا اور جب غلام زیارت کے لئے حاضر ہوا تو آپ پردہ میں چھپ گئے۔
الغرض! اِدھر عرض و مَعروض پیش کی جا رہی تھی اور اُدھر مدینۂ طیبہ میں یہ خبر تیزی سے پھیل گئی کہ مُؤذّنِ رَسُول حضرتِ بلال رضی اللہ عنہ مدینہ شریف میں تشریف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع