30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور ہنسی والا اَنداز بالکل ختم ہو جاتا۔( شفاء، 2/43مفہوماً)
غَمِ مصطفےٰ میں مدینہ شریف سے ہجرت
اے عاشقانِ رسول! ہمارے پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے وصالِ ظاہری کے بعد بہت سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے مدینہ شریف میں رہ کر زندگی گزارنا مشکل ہوگیا کیونکہ جب وہ مدینہ شریف میں آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اُٹھنے بیٹھنے کے مقامات اور ان گلیوں کو دیکھتے جہاں آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم قدم رَنجا فرمایا کرتے تھے تو بہت رَنجیدہ ہوجاتے اور ان سے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی جدائی برداشت نہ ہوتی چنانچہ اسی فِراق و جُدائی کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ مدینہ شریف سے ہجرت کر گئے۔( مدارج النبوۃ، 2/444ملتقطاً)
مؤذنِ رسول کی مدینہ شریف سے ہجرت
حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ سے بھی نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی جدائی برداشت نہ ہوئی، چنانچہ کبھی آپ رضی اللہ عنہ پر ایسی رِقَّت طاری ہوجاتی کہ مدینہ شریف کی گلیوں میں دیوانہ وار گھومتے اور لوگوں سے پوچھتے تھے کہ اگر تم نے کہیں تاجدارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو دیکھا ہے تو مجھے بھی دِکھا دو ،آخر کار جدائی کی تاب نہ لاتے ہوئے آپ مدینہ شریف چھوڑ کر ملکِ شام کے شہر ”حَلَب“میں رہائش پذیر ہو گئے، کچھ عرصہ گزرنے کے بعد جب ایک رات سوئے تو قسمت چمک اُٹھی اور خوا ب میں مدینے کے تاجدار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی زیارت سے مُشَرَّف ہوئے، لبہائے مبارَکہ کو جنبش ہوئی، رَحمت ومحبّت کے پھول جھڑنے لگے اور الفاظ کچھ یوں ترتیب پائے: مَاھٰذِہِ الْجَفْوَۃُ یَا بِلَال! اَمَا اٰنَ لَکَ اَنْ تَزُوْرَنِی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع