30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرماتے ہیں:ایک مقام پر حضرتِ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم ا نے اپنی اونٹنی کو گھمایا، پوچھنےپر اِرشاد فرمایا: مجھے اس کے سِوا کچھ معلوم نہیں کہ میں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اس مقام پر ایسا کرتے دیکھا تھا لہٰذا میں نے بھی ا یسا ہی کیا ہے۔( الشفا، 2/15ماخوذاً)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا جذبۂ اِتباعِ سنّت دیکھئے اور دوسری طرف اپنی محبّت پر غور کیجئے کہ بالکل کھوکھلی، عمل سے خالی اور زبان کی نوک تک محدود ہے۔آہ! جب ہمارے سامنے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ذکرِ خیر ہوتا ہے تو ہم پر کوئی خاص کیفیّت طاری نہیں ہوتی !اس کے برعکس جب ہمارے بزرگانِ دین رحمۃُ اللہ علیہ م کے سامنے پیارے آقا،مکی مدنی مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ذکرِ خیر ہوتا تو ہیبت و جلال سے ان کے چہروں کا رنگ بدل جاتا اورعشق و محبت میں اُن کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہونے لگتے۔ اس ضمن میں 2 رِقَّت انگیز واقعات سنئے اور عشقِ رسول میں اِضافہ کیجئے:
(1) ہمیں اُن پر رحم آنے لگتا
حضرتِ اِمام مالک رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت اَیوب سختیانی رحمۃُ اللہ علیہ کے سامنے جب نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی حدیث ِمبارک بیان کی جاتی تو وہ اس قدر روتے کہ ہمیں اُن پر رحم آنے لگتا۔( شفاء، 2/41ملتقطاً)
(2)ذکرِ مبارک سنتے ہی سنجیدہ ہو جاتے
حضرتِ اِمام ابنِ سیرین رحمۃُ اللہ علیہ بڑے ہنس مکھ اور شِگُفتہ مِزاج تھے لیکن جب ان کے سامنے پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ذکر ِ خیر ہوتا تو بالکل سنجیدہ ہوجاتے، چہرے پر رُعب طاری ہو جاتا، بدن مبارک سے عاجزی و انکسار ظاہر ہونے لگتا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع