30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا تھا: یا رسولَ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ! آپ کیوں مسکرائے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا تھا: رَبُّ الْعَالمین کے مسکرانے کے سبب کیونکہ جب بندہ کہے گا:کیا تُو مجھ سے مذا ق کرتا ہے حالانکہ تُو رَبُّ الْعَالمین ہے؟ تو اللہ پاک اِرشاد فرمائے گا:میں تجھ سے مذا ق نہیں کر رہا لیکن مجھے ہر شے پر قدرت حاصل ہے۔
( مسلم، ص100،حدیث:463ملتقطاً)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے! صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اِتباعِ سنّت کا کیسا جذبہ رکھتے تھے! وہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پیاری پیاری اَداؤں کو اَپنانے کی بھرپور کوشش کرتے تھے اور اس سلسلے میں یہ بھی نہیں دیکھتے تھے کہ اگر ہم فلاں کام نہ کریں تو گناہ نہیں ملے گا یا پھر فلاں کام کرنا سنّتِ مؤکدہ ہے اور فلاں سنّتِ غیرِ مؤکدہ ہے وغیرہ وغیرہ ، وہ بس اتنا دیکھتے تھے کہ فلاں کام نبی ِکریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اس طریقے سے کیا پھر اُس کام کو بالکل اسی طریقے کے مطابق کرنے کی کوشش کرتے تھے اور کسی تنقید کرنے والے کی تنقید کو خاطِر میں نہ لاتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ
عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ
اے عاشقانِ رسول! صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ایسے زبردست عاشق ِرسول تھے کہ وہ پیارے آقا ، مکّی مدنی مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ہر اَدا کو اپنانے کے لئے بےقرار رہا کرتے تھے۔ اس ضمن میں ایک اور محبّت بھرا واقعہ پڑھئے :
اونٹنی کے ساتھ پھیرے لگانے کی حکمت
حضرتِ علّامہ قاضی عیاض رحمۃُ اللہ علیہ اپنی مشہور کتاب”شفاء شریف“ میں نقل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع