30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہو سکتا، اللہ پاک بندے کو اس درخت کے قریب کردے گا اور وہ اس کا سایہ حاصل کرے گا اور پانی پئے گا،پھر اُسے جنّت کے دروازے کے پاس ایک درخت دکھائی دے گا جو پہلے والے دونوں درختوں سےزیادہ حسین اور خوبصورت ہوگا، وہ اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کرے گا:اے مولا! تُو مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس سے سایہ حاصل کروں اور اس کا پانی پیوں میں اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگوں گا، اللہ پاک فرمائے گا: اے ابنِ آدم! کیا تُو نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تُو اس کے علاوہ کچھ اورنہیں مانگے گا؟بندہ عرض کرے گا: کیوں نہیں یارَبّ! لیکن اب اس کے علاوہ کچھ اور نہیں مانگوں گا، اللہ پاک اس کی معذرت قبول فرمائے گا کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہاہوگا جس پر اسے صبر نہیں ہو سکتا، اللہ پاک بندے کو اس درخت کے قریب کردے گا اور وہ اس کا سایہ حاصل کرے گا اور پانی پئے گا،پھر جب وہ جنتیوں کی آوازیں سُنے گا تو اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کرے گا: اے ربّ ! تُو مجھے جنت ہی میں داخل کردے، اللہ پاک کی رحمت جوش میں آئے گی اور اِرشاد ہوگا: اے بندے! تیرے سُوالوں کو کونسی چیز روک سکتی ہے؟ کیا تُو اس بات پر راضی ہوجائے گا کہ میں تجھے دنیا سے دوگنی جگہ جنّت میں عطا کردوں؟ بندہ (حیرت سے) عرض کرے گا: اے اللہ ! کیا تُو مجھ سے مذاق کرتا ہے حالانکہ تُو رَبُّ الْعَالمین ہے؟
اتنا واقعہ سنانے کے بعد حضرتِ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی اور وہ حاضرین سے فرمانے لگے:تم مجھ سے پوچھتے نہیں کہ میں کیوں مسکرایا؟ سب نے عرض کی: آپ کیوں مسکرا ئے؟ ارشاد فرمایا: جب نبی ِکریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے یہ واقعہ سنایا تھا تو آپ بھی مسکرا دیئے تھے،صحابہ ٔ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع