30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں عرض کی: یارسولَ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ! آپ مجھے میری جان کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ
محبوب ہیں،آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا: نہیں! اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! (اے عمر! تمہاری محبّت اس وقت تک کامل نہیں ہوگی) جب تک میں تمہارے نزدیک تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں، فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یارسولَ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ! خدا کی قسم! آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں،یہ سن کرآپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشادفرمایا : اَلْاٰنَ يَاعُمَر ” یعنی اے عمر! اب (تمہاری محبّت کامل ہوگئی)۔“ ( بخاری، 4/283،حدیث:6632ملتقطاً)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ذاتِ والا صفات ہمیں جان سے بھی زیادہ عز یز ہونی چاہیے، اگرچہ ہم زبانی طور پر پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اپنی جان سےزیادہ عز یز کہتے اور محبّت کا دم بھرتے ہیں لیکن اس محبّت کی نشانی اور تڑپ ہمارے اندر عملی طور پر نہیں پائی جاتی جبکہ ہمارے بزرگانِ دین رضی اللہ عنہ صرف گفتار کے غازی نہیں ہوتےتھے بلکہ عملی طور پر کر کے بھی دکھاتے تھے ، انہیں سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے اس قدر والہانہ عشق تھاکہ جس کی مثال نہیں ملتی، وہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ہر ہر اَدا کو اپنانے کی کوشش کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ اگر کسی حدیثِ پاک کو بیان کرتے ہوئے سرکار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے کوئی خاص اَدا اَپنائی ہوتی تو صحابہ ٔ کرام رضی اللہ عنہم بھی اس حدیثِ پاک کو بیان کرتے ہوئے اس خاص اَدا کو اپنایا کرتے تھے ،جیساکہ
سب سے آخری جنّتی شخص
حضرتِ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع