30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یاد رکھئے! ایک مٹّھی داڑھی رکھنا واجب اور داڑھی منڈانا یا ایک مٹھی سے کم کروانادونوں حرام اور جہنم میں لے جانے والے کام ہیں۔دیکھیے! داڑھی رکھنا تمام انبیائے کرام علیہمُ السّلام کی سنّتِ مُبارکہ ہے، کوئی نبی ایسا نہیں جس نے مَعاذَ اللہ داڑھی منڈائی ہو۔ اسی طرح کوئی ولی بھی داڑھی منڈا نہیں ہوسکتا اور اگر کوئی داڑھی منڈا خود کو ”ولی“ کہے یا کہلوائے تو وہ لوگوں کو دھوکا دیتا ہے کیونکہ جب تک اِتّباعِ سُنّت نہ پائی جائے اس وقت تک کوئی” ولی “نہیں ہو سکتا، یہاں تک کہ ایک عارفِ باصفا (یعنی اللہ پاک کے ایک ولی)کا اِرشاد ہے : اگر تُو کسی شیخ کو ہَوا میں اُڑتا ہوا یا پانی پر چلتا ہوا دیکھے لیکن وہ عملاً اللہ پاک کے کسی فرض یانبی کی کسی سنت کا تارک ہو تو وہ جھوٹا ہے، یہ اس کی کرامت نہیں اِسْتِدْراج (بے باک فجاریا کفّار سے جو خلافِ عادت بات ان کے موافق ظاہر ہواس کو استدراج کہتے ہیں) ہے۔
مشرکین کی مخالفت کرو
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!ہم پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی محبّت کا دم تو بھرتے ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پیاری پیاری سنّت داڑھی شریف اپنے چہرے پر نہیں سجاتے حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے واضح طور پر اِرشاد فرمایا: خَالِفُوا الْمُشْرِکِیْنَ وَفِّرُوا اللِّحَی وَاَحْفُو الشَّوَارِبَ ”یعنی مشرکین کی مُخالَفت کرو، داڑھیاں بڑھاؤ اور مُونچھیں خوب پست کرو۔“ ( بخاری،4/ 75،حدیث:5892)
اسی طرح ایک مقام پر اِرشاد فرمایا: مَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَيْسَ مِنِّيْ ”یعنی جس نے میری سنّت سے اِعراض کیا (یعنی منہ پھیرا) وہ مجھ سے نہیں۔“ (بخاری، 3/421،حدیث:5063) یونہی ایک حدیثِ پاک میں فرمایا: مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ ”یعنی جو شخص جس قوم سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع