30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پسند کرنے لگا۔( بخاری، 3/537،حدیث:5436ملتقطاً)
اے عاشقانِ رسول! دیکھا آپ نے! صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کس قدر سرکار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پسند کا خیال رکھا کرتے تھے، مگر آہ! ہم بہت سے معاملات میں آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پسند اور سنّتوں کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں، عقیقہ، نکاح اور ولیمے (یاد رہے! شَبِ زِفاف کے بعد دو دن کے اندر ولیمہ کرنا سنت ہے۔(ترمذی،2/349،حدیث: 1099)) جیسی سنّتوں کی ادائیگی کے موقع پر ہم سنّتوں کے بجائے فیشن کو پیشِ نظر رکھتے ہیں،فیشن کے مطابق لباس سلواتے، بال کٹواتے اور داڑھی منڈا کر اپنا چہرہ آتش پرستوں جیسا بناتے ہیں، اگر ہم اپنے خاندان پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ خاندان کے کسی بھی فرد کو زلفیں رکھنے کی سعادت نصیب نہیں، حالانکہ زلفیں رکھنا پیارے آقا،مکی مدنی مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پیاری پیاری سنّت ہے ، آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ہمیشہ زلفیں رکھیں، کبھی آدھے کان تک،کبھی پورے کان تک اور کبھی زیادہ بڑھ جاتیں تو مبارک شانوں سے چُھو جاتیں۔( الشمائل المحمدیۃ،ص18،34،35 )
(امیرِ اہلِ سنت مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ داڑھی سے متعلق اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے اِرشاد فرماتے ہیں:) اللہ پاک ہمیں ایمان پر موت نصیب فرما دے اس سے پہلے کہ ہمارا چہرہ مَعاذَ اللہ دشمنانِ مصطفےٰ جیسا ہوجائے!اپنا یہ ذہن بنالیجئے کہ اگر اُسترا چلے تو ہماری گردن پر چلے، ہماری داڑھی پر ہرگز نہ چلے۔افسوس! آج کل بہت سے مسلمان داڑھی شریف کے بالوں کو نوچ نوچ کر گندی نالیوں میں بہادیتے ہیں! آہ! ایسوں کا آخرت میں کیا بنے گا؟ ایسا کرنے والوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع