30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آپ کے عشق میں اے کاش! کہ روتے روتے
یہ نکل جائے میری جان مدینے والے
(وسائلِ بخشش، ص422)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے! ایک خاتون کا عشقِ رسول کہ قبرِ انور کی زیارت کرتے ہی اس پر عشق و محبّت کی کیفیت طاری ہوئی اور اس نے روتے روتے بارگاہِ رسالت میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا! اسی طرح ہمارے بزرگوں کو سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے والہانہ عقیدت و محبّت ہوا کرتی تھی، مگر افسوس! آج ہمارے اندرصحیح معنوں میں محبّت کا جذبہ اور وَلوَلہ نہ رہا۔صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم صرف زبانی طور پر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے محبّت کا دم نہیں بھرتے تھے بلکہ عملی طور پر اس کے دلائل بھی رکھتے تھے جبکہ ہم محض زبانی طور پر محبّت کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن عملی طور پر اس کے دلائل نہیں رکھتے۔صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سرکار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اِک اِک اَدا پر عمل کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہا کرتے تھے، چنانچہ
محبوب کی اَدا سے محبّت
حضرتِ انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی دعوت کی، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ دعوت میں شریک ہوا، جَو کی روٹی اور شوربا حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سامنے لایا گیا جس میں کَدّو اور خشک کیا ہوا نمکین گوشت تھا، کھانے کے دوران میں نے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو دیکھا کہ پیالے کے کناروں سے کَدّو کی قاشیں (یعنی ٹکڑے) تلاش کر رہے ہیں، اسی لئے میں اس دن سے کَدّو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع