30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لوگوں میں غم اور صدمے کی کیفیت برپا ہوگئی، بتدریج (یعنی آہستہ آہستہ)آواز مدینہ شریف کی فضاؤں میں بلند ہوئی جسے سُن کر لوگوں کی ہچکیاں بندھ گئیں، سب لوگ اپنے گھروں سے باہر آگئے، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ” اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ “کہا تو ہزارہا چیخیں ایک دَم فضا میں بلند ہوئیں اور اس وقت لوگوں کے رونے کا کوئی ٹھکانا نہ تھا،چھوٹے بچے اپنی ماؤں سے پوچھنے لگے: مؤذّنِ رسول حضرتِ بلال رضی اللہ عنہ تو آچکے ہیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا نورانی چہرہ نظر نہیں آرہا وہ کب تشریف لائیں گے؟
بہرحال جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے” اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ “ کہا اور پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو آنکھوں کے سامنے نہ پایا تو غمِ جدائی میں ان کی ایک زور دار چیخ فضا میں گم ہو گئی اور بےہوش ہو کرزمین پر تشریف لے آئے، جب ہوش آیا تو اُٹھے اور روتے ہوئے ملکِ شام روانہ ہو گئے۔
(مدارج النبوۃ، 2/583ملتقطاً)
حضرتِ بلال کا وصال
جب حضرتِ بلال رضی اللہ عنہ کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپ کی زوجہ روتے ہوئے کہنے لگیں: وَاحُزْنَاہُ ”یعنی ہائے غم کی بات “ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی غمزدہ زوجہ کو دِلاسہ دیتے ہوئے فرمایا: وَاطَرَبَاہُ ”یعنی واہ خوشی کی بات “ غَدًا نَلْقَی الْاَحِبَّةَ مُحَمَّدًا وَحِزْبَہ ”یعنی كل ہم اپنے دوستوں اپنے آقا ومولیٰ محمدِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اور آپ كے اصحاب سے ملاقات کریں گے۔“( احیاء العلوم، 5/231ملتقطاً)
کسی عاشق نے کیا خوب کہا ہے:
قبر میں سرکار آئیں تو میں قدموں میں گِروں گَر فرشتے بھی اُٹھائیں تو میں ان سے یہ کہوں
اب تو پائے نا ز سے میں اے فرشتو!کیوں اٹھوں مَرکے پہنچا ہوں یہاں اِس دِلرُبا کے واسطے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع