30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لے آئے ہیں، بس پھر سب کی نگاہوں میں پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے جلوے پھر سے اُبھرنے لگے، بے قرار دل تڑپنے لگے ، لوگ منّت وسماجت اور رو رو کر التجائیں کرتے ہوئے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے ایک بار پھر اپنی سوز و گداز بھری اَذان سُنانے کا مُطالَبہ کرنے لگے مگر حضرتِ بلال رضی اللہ عنہ نے معذرت کی اور اِرشاد فرمایا: اے بھائیو! تم جانتے ہو کہ جب میں رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ظاہری حیات میں اَذان دیتا تھا تو”اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ “ کہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا دیدار کر لیا کرتا تھا لیکن آہ! آج وہ مَنظر نگاہوں سے اوجھل ہوگا! اس لئے میں اذان دینے کی تاب نہیں رکھتا، بہرحال حضرت بلال رضی اللہ عنہ کسی صورت اذان دینے پر راضی نہ ہوئے،بعض صحابہ ٔ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ تجویز دی کہ کیوں نہ حَسَنینِ کریمین رضی اللہ عنہم ا کو بلا لیا جائے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے نواسے فرمائش کریں گے تو پھر حضرتِ بلال رضی اللہ عنہ کے پاس اِنکار کی گنجائش نہ رہے گی، چنانچہ لوگ جلدی سے دونوں شہزادوں کو لے آئے، حضرتِ بلال رضی اللہ عنہ نے دونوں شہزادوں کو سینے سے چمٹا لیا اور پیار کرنے لگے،شہزادوں نے فرمائش کی: اے بلال! ایک بار ہمیں وہ اَذان سنا دیجئے جو آپ ہمارے نانا جان صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی حیاتِ ظاہری میں دیا کرتے تھے، اب اِنکار کی گنجائش کہاں تھی؟ چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ مسجدِ نبوی شریف کی چھت کے اُس حصّے میں تشریف لے گئے جہاں حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی حیاتِ ظاہری میں اذان دیا کرتے تھے،جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے مدینہ شریف کی پُر نور فضاؤں میں اپنی سوز بھری آواز میں” اللہ اَکْبَر ، اللہ اَکْبَر“سے اذان کا آغاز فرمایا تو دَرو دیوار دہل گئے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع