30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلُّو ا عَلَی الحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
{11}معاشرے کا بگڑا ہوا شخص
پنجاب(پاکستان)کے شہرچشتیاں میں مُقِیم اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لباب ہے :داڑھی منڈانا، والدین کی نافرمانی ، نمازیں قضاء کرنا وغیرہ وغیرہ گناہ میری زندگی کا حصہ بن چکے تھے ۔ گانے باجے سننے کاتو مجھے جنون کی حدتک شوق تھا ہر وقت مختلف قسم کے گانے میرے موبائل فون اورکمپیوٹر میں موجود رہتے تھے ۔ انٹرنیٹ کا غَلَط اِستعمال کرنے کے گناہ میں بھی میں مُلوّث تھا ۔ جینز کی پینٹ کے سوا لباس نہ پہنتاحتی کہ ایک مرتبہ عید کے موقع پر میرے لئے والدصاحب نے سوٹ سلوا لیا لیکن میں نے پہننے سے اِنکار کردیا، نفس کی خواہِش کے مطابق پینٹ شرٹ خریدی اور پھر عید کے پُر مَسرَّت موقع پر اِسی بے ہودہ لباس میں ملبوس ہوا ۔ فیشن کا دلدادہ ہونے کی وجہ سے میں نے عمامہ اور کُرتے کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہ تھا، الغرض گناہوں بھری زندگی میں شب وروزگزر تے رہے ۔ میرے سُدھرنے کے اسباب یوں ہوئے کہ ہماری مسجدمیں جونئے امام صاحب تشریف لائے وہ تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ تھے ۔ ایک دن انہوں نے مجھ پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی ترغیب دِلائی ، ان کی اِنفرادی کوشش کے سبب میں نے ایک دو مرتبہ ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی ۔ ایک دن انہوں نے میرے والد صاحب کو امیرِاہلسنّت ، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولانا محمداِلیاس عطارؔقادِری دَامَتْ بَرَکاتُہُم العالیہ کاسنّتوں بھرابیان بنام’’مُردے کی بے بسی‘‘ تحفۃََ دیا ۔ ایک رات مجھے یہ بیان سننے کی سعادت حاصل ہوئی ۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِعَزَّوَجَلَّاس بیان کی بَرَ کت سے میرے دِل میں مد نی اِنقلاب برپاہونے لگا ۔ خاص کران الفاظ نے میرے دِل پر کافی اَثرکیاکہ ’’انسان کو مرنے کے بعد اندھیری قبر کے حوالے کردیاجائے گا، گاڑی ہوئی تو گیرج میں کھڑی رہ جائے گی‘‘ میں نے ہاتھوں ہاتھ اپنے تمام سابِقہ گناہوں سے توبہ کرتے ہوئے اپنے موبائل اور کمپیوٹرکو گانوں کی نحوستوں سے پاک کردیااور اپنے چہرے پرپیارے آقا صلَّی اللّٰہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبت کی نشانی داڑھی شریف سجانے کے ساتھ ساتھ اپنے سرپرعمامہ شریف کا تاج سجا لیااورسنّت کے مطابق مدنی لباس کوبھی زیبِ تن کرلیا ۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہِعَزَّوَجَلَّتادمِ تحریرمَیں یونیورسٹی کے ہوسٹل میں دعوتِ اسلامی کے شعبہ تعلیم کے ذِمَّہ دار کی حیثیت سے مدنی کاموں کی دُھومیں مچانے میں مصروف ہوں ۔ اللّٰہعَزّوَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
{12}قبر کی پہلی رات
بابُ المدینہ(کراچی)کے اسلامی بھائی کے مکتوب کا خُلاصہ ہے : تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستگی سے قبل میں گناہوں کی دلدل میں دھنستا جارہا تھا اوراِصلاح کی کوئی سبیل نظر نہیں آرہی تھی یہاں تک کہ مجھ پر اسٹیج ڈراموں میں کام کرنے کا بھوت سوار ہو گیا اورمیں اس بُرے کا م میں دھنستاگیا ۔ آخرِ کار گناہوں کی بیماری سے مجھے چھٹکارا اس طرح نصیب ہوا کہ خوش قسمتی سے ۱۴۲۴ھ بمطابق 2004ء میں مجھے زمانے کے ولی کامل شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُم العالیہ کا سنّتوں بھرا بیان ’’قبرکی پہلی رات ‘‘سننے کی سعادت حاصل ہوئی ۔ شیخِ طریقت امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُم العالیہ کے بیان کی بَرَکت سے میرا دل چوٹ کھاگیا ۔ کچھ دنوں کے بعد عاشقانِ رسول کے ساتھ مجھے مدنی قافلے میں سفر کی سعادت نصیب ہوئی ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّاس طرح مجھے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستگی نصیب ہوگئی ۔ اللّٰہعَزّوَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
{13}شادی میں اجتماعِ ذکرونعت
پنجاب(پاکستان)کے شہرساہیوال کے علاقے چیچہ وطنی میں مُقِیم ایک اسلامی بھائی نے امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُم العالیہ کے بیان کی مَدَنی بہار اس طرح بیان کی : دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میں مختلف گناہوں مثلاًوالدین سے جھگڑاکرنا، نمازیں قضاکرنا، نیکیوں سے غفلت میں مبتلا تھا گانوں باجوں سے اس قدرشدید محبت تھی کہ میں نے یہ نیتِ فاسدہ کررکھی تھی کہ اپنی شادی پر مَعاذَاللّٰہ خوب ناچ رنگ کی محفل سجاؤں گا ۔ الغرض میری زندگی کے شب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع