30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کی بَرَکت یہ ظاہر ہوئی کہ میں نماز کا پابند بن گیا یہاں تک کہ میں نے اپنی جیب میں حاضری نماز کی کاپی رکھ لی اور ہر نماز کی حاضری خود ہی لگایا کرتا تھا ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ یوں میری فیشن سے جان چھوٹ گئی اور مجھے اس بے ڈھنگے لباس سے بھی نفرت ہو گئی ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے کرم اور شیخِ طریقت ، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُم العالیہ کی نگاہِ عنایت سے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستگی کے بعد آج تک فیشن والا لباس تو کیا میں نے رنگین کپڑے بھی نہیں سلوائے بلکہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ سنّت کے مطابق سفیدکرتا، شلوارپہنتاہوں ۔
مجھے مدنی اِنعامات کا کارڈ بھی انہی مکتبے کے اسلامی بھائی نے ہدیۃًدیا میں نمازِ فجر جماعت سے توکیاگھر میں بھی نہیں پڑھتاتھا ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِعَزَّوَجَلَّ مدنی انعامات پر عمل کی بَرَ کت سے فرائض تو فرائض میں نوافل بھی پابندی سے ادا کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور اب اذانِ فجر سے آدھا گھنٹہ پہلے ہی اُ ٹھ جاتا ہوں اور مسجد میں جاکر تہجد کی نماز ادا کرتا ہوں ، موقع ملنے پر اذانِ فجربھی دیتا ہوں ۔
کچھ دنوں کے بعدمعلوم ہواکہ ہمارے علاقے میں ہونے والے سنّتوں بھرے اجتماع میں شہزادۂ عطارؔحضرت مولانا ابو اُسَید عُبیدرضا عطاری المدنی سلَّمہ الغنی تشریف لا رہے ہیں ۔ میں بھی اُس اجتماع میں حاضر ہو گیا ، اجتماع کے آخر میں شہزادۂ عطارؔ کے ذَریعے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِعَزَّوَجَلَّ میں شیخِ طریقت ، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُم العالیہ کا مرید بن گیا ۔ ایک پیرِ کامل کے ہاتھوں میں ہاتھ دینے کی بَرَ کت یوں ظاہر ہوئی کہ ایک ہفتہ کے بعد والدین کی اجازت سے مجھ جیسا گناہ گار درسِ نظامی (عالِم کو رس) کے لئے دعوتِ اسلامی کے ’’جامعۃ المدینہ ‘‘میں داخل ہوکر علمِ دِین حاصل کرنے لگا ۔ میں نمازظہر تک جامعۃ المدینہ میں تعلیم حاصل کرتا اور ظہر کے بعد ورکشاپ پر جا کر کام کرتا ، اور پھر رات کو اپنے اسباق یاد کرتا، کیونکہ کچھ مجبوریوں کی وجہ سے میں ورکشاپ کا کام نہیں چھوڑ سکتا تھا اس لئے وقت یونہی گزرتا گیا ۔ کچھ حالات بہتر ہوئے تومیں نے ورکشاپ پر کام چھوڑ کر اپنے آپ کو مکمل طورپر علم ِدِین سیکھنے کے لئے وقف کر دیا ۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریر دعوتِ اسلامی کے جامعہ بنام ’’جامعۃ المدینہ ‘‘بابُ المدینہ (کراچی)میں دورۂ حدیث کا طالب العلم ہوں اور اس کے ساتھ سا تھ دعوتِ اسلامی کے علمی اور تحقیقی شعبہ المَدینۃُ الْعِلْمِیۃ میں تحریری کام کی بھی سعادت ملی ہو ئی ہے ۔ اس میں میرا اپنا کوئی کمال نہیں بلکہ یہ سب میرے پیرومُرشِد شیخِ طریقت ، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُم العالیہ کا فیض ہے ۔ اللّٰہعَزّوَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
{7} کیسٹ بیان کی بَرَکت
بلوچستان (پاکستان)کے شہر کوئٹہ میں مُقِیم ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لباب ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستگی سے قبل میری زندگی کے شب وروز گناہوں میں بسر ہورہے تھے ۔ فلمیں ڈرامے دیکھنا ، گانے باجے سننا، نمازیں قضاء کرنا، والدین کو ستانا اورلوگوں کی دِل آزاری کرناوغیرہا گناہ میری زندگی کا جُزْوِ لَا یَنْفَکْ بن چکے تھے ۔ میری قسمت یوں چمکی کہ ۱۴۲۲ ھبمطابق 2001ء میں میری ملاقات تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بھائی سے ہوئی ۔ انہوں نے اِنفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُم العالیہ کے سنّتوں بھرے بیانات کی دو کیسٹیں بنام ’’بدنصیب دُولہا، بے نمازی کا انجام‘‘ تحفۃً پیش کیں ۔ ان بیانات کو سننے کی بَرَکت سے گناہوں سے بیزاری کا ذِہن بنا، مَیں دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے لگا اور رفتہ رفتہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو گیا ۔ تھوڑے عرصے کے بعد ایک اسلامی بھائی کی اِنفرادی کوشش کے نتیجے میں 63دن کے تربیتی کورس کرنے کی بھی سعادت نصیب ہوئی ۔ تربیتی کورس کے دوران مزید علمِ دین سیکھنے کا جذبہ ملاتو میں نے علمِ دین سیکھنے کے لئے دعوتِ اسلامی کے جامعۃالمدینہ میں داخلہ لے لیا ۔ تادمِ تحریرمَیں جامعۃ المدینہ میں درسِ نظامی(عالِم کورس) کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہوں ۔ اللّٰہعَزّوَجَلَّ کی امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
{8}قبر کے سُوال جواب
بابُ المدینہ(کراچی)میں مُقِیم ایک اسلامی بھائی کے بیان کاخُلاصہ ہے کہ میں اپنے مَحلّے کی مسجدمیں کبھی کبھار نماز پڑھ لیا کرتا تھا لیکن نمازوں میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع