سُوال : کیا میاں بیوی دونوں جنّت میں ایک ساتھ رہیں گے ؟
جواب : جی ہاں ! اگر میاں بیوی کا خاتمہ اِیمان پر ہوا تو یہ دونوں جنّت میں ساتھ رہیں گے۔
( التذکرة باحوال الموتی وامور الاخرة ، ص 462 )اگر ان میں سے کسی کا مَعاذَ اللہ ایمان سَلامت نہ رہا تو دوزخ اس کا ٹھکانا ہو گا اور جو جنّت میں جائے گا اس کا کسی دوسرے جنّتی سے نکاح ہو جائے گا۔
(ملفوظاتِ امیرِاہلِ سنت،قسط:8)
سُوال:اگر شوہر اپنی بیوی کے ساتھ نَرمی کرتا ہے تو لوگ کہتے ہیں تم”زَن مُرید“بن گئے ہو، اس کا کیا حَل ہے ؟
جواب:اگر کوئی شخص خوفِ خدا کے باعِث اپنی زوجہ سے خوش اَخلاقی کے ساتھ پیش آتا ہے یا اُس سے نَرم برتاؤ کرتا ہے اور لوگ اسے ”زَن مُرید“ہونے کا طعنہ دیتے ہیں تو یقینا ً ًیہ اس کی دِل آزاری کا سبب ہو گا ۔ لیکن شوہر کو چاہیے کہ اپنی زوجہ کے ساتھ حُسنِ سُلوک جاری رکھے لوگوں کے کچھ بھی کہنے پر دِل بَرداشتہ نہ ہو اور ہرگز اپنے رویے میں تبدیلی نہ لائے بلکہ مزید نَرمی کے ساتھ پیش آئے ۔ فی زمانہ لوگوں کے انداز یکسر بدل چکے ہیں خُصُوصاً اپنی زوجہ کے ساتھ ان کا رویہ اِنتہائی ناگفتہ بہ ہوتا جا رہا ہے ۔ اس کے باوجود یہ لوگ اپنی زوجہ سے مُعافی مانگنا اپنی کسرِ شان سمجھتے ہیں، حالانکہ بیوی پر ظُلم کیا ہو تو مُعافی مانگنا واجب ہے ۔ انھیں چاہیے کہ اپنی زوجہ سے مُعافی تلافی کرتے رہا کریں ۔ یہ ضَروری نہیں کہ ظُلم کیا ہوگا تو ہی مُعافی مانگی جائے گی بلکہ اِحتیاطی مُعافی مانگ لی جائے تب بھی حَرج نہیں بلکہ اِحتیاطی مُعافی مانگنا میاں بیوی کے دَرمیان محبت میں اِضافے کا سبب ہے ۔ اَلحمدُ لِلّٰہ! میرا معمول ہے میں اِحتیاطی مُعافی مانگتا رہتا ہوں جیسے کوئی بڑی رات یا بڑا دن آتا ہے تو میں مُعافی تلافی کی تَرکیب بنا لیتا ہوں اس سے ہرگز کسی کی شان میں کمی نہیں آتی اور نہ ہی کسی کی عزت کم ہوتی ہے ۔ (ملفوظاتِ امیرِاہلِ سنت،قسط:11)
سُوال : کیا بىوى شوہر کی جُوٹھی چائے پى سکتى ہے ؟
جواب : دونوں اىک دوسرے کا جُوٹھا پى سکتے ہىں ۔(ملفوظاتِ امیرِاہلِ سنت،قسط:26)
سُوال: آج کل گھروں میں انٹر نیٹ ،سوشل میڈیاکے بہت زیادہ استعمال کی وجہ سے میاں بیوی میں طرح طرح کے مسائل بلکہ طلاق تک ہوجانے کی اطلاعات ہیں ،کوئی حل اِرشاد فرمادیجئے۔(نگرانِ شورٰی کے سوال کا خلاصہ)
جواب: انٹرنیٹ کے بے جا اِستعمال مىں اپنی اور گھر کى بَربادى ہے لہٰذا گھر چلانے کے لیے میاں بیوی کو اِس کے زیادہ اِستعمال سے بچنا ہو گا ۔ اگر بىوى نیٹ اِستعمال کر رہی ہو اور اُسی وقت اُسے شوہر کہے کہ مجھے چائے بنا کر دے دو تو اُسے چاہیے کہ لَبَّیْک کہتی ہوئی اُٹھے اور ہاتھوں ہاتھ چائے بنا کر پیش کر دے، اگر اُس وقت نہىں اُٹھے گى تو گھر کیسے چلے گا؟ بیوی کو
شوہر کی اِطاعت کرنی چاہیے۔اگر بیوی شوہر کى اِطاعت نہىں کرے گى تو آپس میں مُنہ مارى ہوتى رہے گى۔ عورت سامنے سے جواب دے گى تو پھر دُنىا کى بَربادی کے ساتھ آخرت کى تباہ کارى بھى ہو گی۔ ہر فرىق سامنے والے کى غَلَطىاں ثابت کرنے کى کوشش کرے گا۔ جھوٹ ، غىبت، تہمت اور دِیگر گناہوں کے دَروازے کھلىں گے مثلاً بیوی کہے گی کہ مجھے مارپیٹ کر کے ظلم کرتا ہے ، کھانا اور خرچى نہىں دىتا ۔ جواب میں شوہر کی طرف سے بھی اِلزامات کی بوچھاڑ ہو گى اور اِس جنگ کا نتیجہ مَعاذَ اللہ طلاق ىا جُدائى پر ہو گا۔ بس اللہ پاک مسلمانوں پر رحم فرمائے۔(ملفوظاتِ امیرِاہلِ سنت،قسط:35)
سُوال : بعض لوگ مىاں بىوى کے دَرمیان جُدائی ڈلوانے کے لیے عملىات کرواتے ہیں، اگر بىوى پر اس جادو کے اثرات ہوں جس کے باعث شوہر کے گھر آنے پر اس کا سانس بند ہونے لگے تو اس مسئلے کا کیا حل کیا جائے ؟
جواب : عملیا ت کرنے والے میاں بیوی میں جُدائی ڈلوانے کے لیے بھی عملىات کرتے ہىں مگر ىہ بات ثابت کس طرح ہو گی کہ کسى نے اس پر کچھ کروایا ہے یا فُلاں رِشتہ دار نے کروایا ہے ؟بعض عامل جادو کروانے والے کے بارے میں کچھ اِشارہ دے دىتے ہىں یا اس کے نام کا پہلاحرف بتا دىتے ہىں ، اب اگر اِتفاق سے کسی رِشتہ دار کا نام اسی حرف سے شروع ہوتا ہو تو اس کے بارے میں بَدگمانى کی جاتی ہے کہ یہی جادو کروانے والا ہے حالانکہ اس بے چارے کو پتا بھى نہىں ہوتا تو ىوں عامل آپس میں لڑوا دىتے ہىں ۔ شوہرکے گھر بیوی کی سانس رُکتی ہے توجب تک شرعی ثبوت نہ ہو کسی کے بارے میں یہ کہنامشکل ہے کہ فُلاں رِشتہ دار عمل کروا کر جُدائى ڈلوا رہا ہے ۔ بابا جى کا کہہ دینا شرعى ثبوت نہىں کہلاتا ۔ بیوی جب بھى شوہر کے گھر جاتى ہے بے چارى کا سانس رُکنے لگتا ہے تو اس کى کوئى بھى وجہ
ہو سکتى ہے ۔ نفسىاتى اَثر بھى ہو سکتا ہے جبکہ ذہن مىں یہ بات بىٹھ گئی ہو کہ شوہر کے گھر جاؤں گی تو مىرا سانس رُکے گا کیونکہ فلاں دِن بھی سانس رُک گیا تھا حالانکہ اىک بار اىسا ہوجانا بار بار ایسا ہونے کی دَلیل نہیں۔ ممکن ہے اس دِن کہىں سے سىڑھىاں چڑھ کر تھکی ہاری شوہر کے گھر گئى ہو جس کی وجہ سے سانس پھول گىا ہو اور اِتفاق سے رُکنے لگا ہوتو اس واقعے کو دَلیل بناکر یہ کہہ رہی ہے کہ شوہر کے گھر میرا سانس رُکتا ہے ۔ یاد رَکھیے ! نفسىاتى اَثر کے بڑے اَثرات ہوتے ہىں اوربندے کو ایسا لگتا ہے کہ اس کے ساتھ یوں ہوتا ہے حالانکہ حقیقت میں اىسا نہىں ہوتا۔ (ملفوظاتِ امیرِاہلِ سنت،قسط:52)
سُوال:اگر عورت اپنے شوہر سے پانچ یا چھ ماہ الگ رہتی ہو تو کیا اس سے نکاح پر کوئی فرق پڑے گا ؟نیز اگر شوہر کی رضا کے بغیر الگ رہتی ہو تو کیا حکم ہے ؟
جواب:عورت اپنے شوہر سے الگ رہتی ہو تو اس سے نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔نیز اگر عورت شوہر کی رضا کے بغیرالگ رہتی ہو تب بھی نکاح نہیں ٹوٹے گا البتہ گناہ گار ہونا الگ بات ہے ۔ اگر شوہر ظلم کرتا ہے اس وجہ سے الگ رہتی ہے تو پھر دارُالافتا اہلِ سنَّت سے رُجوع کرنا چاہیے تاکہ صورتِ حال بتا کر طے ہو کہ وہ کیوں شوہر سے الگ رہ رہی ہے؟ مگر اس سے نکاح نہیں ٹوٹے گا ۔ (ملفوظاتِ امیرِاہلِ سنت،قسط:65)
سُوال: کیا بیوی شوہر سے پہلے بیعت ہو سکتی ہے؟
جواب:جی ہاں ہو سکتی ہے اس میں کوئی حَرج نہیں۔ (ملفوظاتِ امیرِاہلِ سنت،قسط:65)
سُوال: میاں بیوی کے درمیان ناچاقی ، نااتّفاقی اور لڑائی جھگڑا ہوجائے تو اِس کا کیا حل ہے؟
(SMS کے ذریعے سُوال)
جواب: تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے ، اگر میاں کو کہیں کہ تم مُعافی مانگو تو وہ کہے گا کہ میں کیوں معافی مانگوں؟ یہ مُنہ پھٹ ہے۔ اگر بیوی سے کہیں کہ تم مُعافی مانگو تو وہ بولے گی کہ میں کیوں مانگوں؟ اِس نے مجھے ایسا بولا تھا۔ اِس لئے اگر دونوں تھوڑا تھوڑا جُھک جائیں تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔ البتہ صحیح بات یہ ہے کہ قرآنِ کریم میں ہے:(اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ) (پ5، النساء:34)” ترجَمۂ کنز الایمان : مَرد افسر ہیں عورتوں پر۔“ تو مرد عَورَت پر حاکم ہے ، اِس لئے عَورَت مرد کی اِطاعت کرے گی ، مرد عَورَت کی اِطاعت نہیں کرے گا ، لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مرد ظلم کرتا ، مار دھاڑ کرتا اور جھاڑتا رہے ، ایسا نہیں چلے گا ، اگر مرد ظلم کرے گا تو اُسے عَورَت سے مُعافی مانگنی پڑےگی ، اگر اَڑی کرے گا کہ ’’میں عَورَت سے مُعافی مانگوں؟ بیوی سے مُعافی مانگوں؟ میں مانگوں؟ لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ تو یاد رہے کہ اگر آخرت میں اللہ پاک نے فرمادیا کہ اِسے جہنّم میں لے جاؤ ، تو پھر کیا کریں گے؟ اِسی طرح اگر عَورَت زبان درازی کرے گی ، بولتی چلی جائے گی ، زبان نکالتی رہے گی اور برتنوں کی توڑ پھوڑ مچائے گی تو پھر اُسے مُعافی مانگنی ہوگی۔ جس نے بھی ظلم کیا ہو اُسے مُعافی کے ساتھ ساتھ توبہ بھی کرنی ہوگی۔ عام طور پرذِہنی ہم آہنگی کا فُقدان ہوتا ہے جو برسوں تک چلتا ہے، پھر ایک دوسرے کی پہچان ہوجاتی ہے ، بچّے وغیرہ ہوجاتے ہیں تب عُموماً جھگڑے وغیرہ کم ہوجاتے ہیں۔ بہرحال! لڑنا نہیں چاہئے ، گجراتی کی کہاوت ہے : ” نَمْیو تےاللہ نے گَمْیو “ یعنی جو جھکتا ہے وہ اللہ کو پسند آتا ہے۔ قُصور نہ بھی ہو تو مسکرا کر مُعافی مانگ لینی چاہئے۔ مُعافی مانگنے میں بھی بعض اَوقات انداز اَڑی والا ہوتا ہے کہ ”اے! مُعاف کرتی ہے کہ نہیں؟
کتنی بار مُعافی مانگوں؟ پاؤں پڑوں تیرے؟ نہیں پڑوں گا ، مُعاف کرتی ہے تو کر ، نہیں تو جا اپنی ماں کے پاس“یہ مُعافی کا طریقہ نہیں ہے ، اگر بُھول ہوجائے توعاجزی ، اِنکساری ، خوش دِلی اور اچھے ذِہن سے مُعافی مانگنی چاہئے ، اِن شاءَ اللہُ الکریم دِل صاف ہوجائے گا۔ہنس بول کر زِندَگی گُزاریں گے تو صحّت بھی اچّھی رہے گی ، گھر بھی آباد ہوگا اور بچّوں کی تربیت بھی اچّھی ہوگی۔ ورنہ اگر آئے دن جنگِ عظیم چھڑتی رہی اور بولا بولی ہوتی رہی تو بچّے بھی بولا بولی دیکھ کر مارا ماری سیکھ جائیں گے۔ اِس لئے بچوں پر بھی رَحم کیا جائے۔ لڑائی لڑائی معاف کرو ، اپنا دل صاف کرو اور مُعاف کرنا اِختِیار کرو۔ مُعاف کرنا پیارے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سُنّت ہے۔( مسلم،ص1071، حدیث : 6592) آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنے خون کے پیاسوں کو بھی فتحِ مکّہ کے موقع پر مُعافی عطا فرمادی تھی۔( مراٰۃ المناجیح ، 3/ 93) قرآنِ کریم میں بھی اللہ پاک نے آپ سے فرمایا ہے : (خُذِ الْعَفْوَ )(پ9 ، الاعراف : 199) ”ترجمۂ کنز الایمان : اے محبوب! معاف کرنا اختیار کرو“۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ جب بھی مُعافی مانگنے کا موقع آئے گا تو آپ کے سامنے شیطان آئے گا کہ”تو نے مُعافی مانگی تو سامنے والا سَر پر چڑھ جائےگا کہ دیکھا! قُصور کیا تھا جبھی تو مُعافی مانگی ، میں ہوں ہی مظلوم اور بے قُصور“اِس طرح کے وسوسے آئیں گے ، لیکن آپ نے شیطان کو بھگانا ہے ، کیونکہ مُعافی مانگنے سے عزّت کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھتی ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ جب ایک پارٹی مُعافی مانگے تو دوسری بھی مُعافی مانگ لے ، بلکہ دوسری پارٹی پہلی والی پارٹی سے زیادہ مُعافی مانگے، اگر پہلی والی نے ہاتھ جوڑ کر مُعافی مانگی ہے تو دوسری والی پاؤں چُھوکر مُعافی مانگ لے۔ اِن شاءَ اللہُ الکریم اچّھی طرح دل صاف ہوجائے گا۔ اللہ کریم ہمارے گھروں کو امن کا گہوارہ بنائے۔(ملفوظاتِ امیرِاہلِ سنت،قسط:72)
سُوال: گھر میں جھگڑے ختم کرنے اور خوشگوار محبّت بھرا ماحول بنانے کےلئے میاں بیوی کیا کرسکتے ہیں؟
جواب: ایک دوسرے کے سامنے مسکراتے رہیں ، کبھی مُنہ نہ پھلائیں۔ جب بھی شوہر گھر آئے، بیوی بھاگ کر دروازہ کھولے اور مسکرا کر ’’مَرحَبا “یا Welcome”‘‘ کہے۔ پھر پوچھے کہ پانی لاؤں؟ چائے لاؤں؟ اگر وہ غصّے میں بھرا ہوا گھر آیا تھا تو اِس طرح کی Offer (پیش کش)سے غصّہ ٹھنڈا ہوجائے گا۔ شوہر کو چاہئے کہ کبھی اپنے ہاتھ سے بھی کوئی کام کرلیا کرے ، جیسے ایک آدھ پیالہ دھودیا ، پانی خود اُٹھ کر بھرلیا وغیرہ۔ ایسا کرنے سے شوہر چھوٹے باپ کا نہیں ہوگا بلکہ بیوی کی نظر میں عزّت اوربڑھے گی اور وہ بھاگے گی کہ آپ رہنے دیں ، میں کردیتی ہوں۔ اِس بارے میں میرا اپنا ذاتی تجربہ ہے ، ہمارے گھر میں
اَلحمدُ لِلّٰہ! جھگڑے نہیں ہوتے، لیکن باوُجود اس کے کہ میری Physical condition (جسمانی حالت) اب ایسی نہیں رہی اور کُرسی سے اُٹھ کر کسی چیز کو اُٹھانا ، یا رکھنا میرے لئے مشکل ہوتا ہے ، پھر بھی جب کھانا آتا ہے تو میں اکثر اُٹھالیتا ہوں ، وہ کہتی ہے کہ ’’رہنے دیجئے ، میں اُٹھا رہی ہوں ، میں اُٹھا کرلے آتی ہوں“وغیرہ۔ وہ بے چاری کوتاہی نہیں کرتی لیکن میرے اِ س انداز سے دِل میں خوشی داخل ہوتی ہے اور محبّت کا رِشتہ مضبوط ہوتا ہے۔ اگر میں Order کرتا رہوں کہ”یہ اُٹھالو ، یہ کرلو“تو وہ کرتو لے گی لیکن ایسا کرنے میں مجھے مزہ نہیں آتا۔ مجھے اگر کسی کو کوئی کاغَذ دینا ہو توبجائے حکم دینے کے کہ ”آکر کاغَذ لے جاؤ“اکثر میں خود ہی اُٹھ کر دے آتا ہوں کہ وہ بے چارہ کام میں لگا ہوا ہوگا، میں اُس کو بُلاؤں ، وہ اپنا کام چھوڑ کر آئے ، اِس سے بہتر ہے کہ میں ہی اُٹھ کر دے آؤں۔ ایسا کرنے سے اگر میری شان میں فرق آتا ہوتا تو یہ لاکھوں مجھ سے محبّت کرنے والے نہ ہوتے۔ ’’دانہ خاک میں مِل کر گُلِ گلزار ہوتا ہے۔ ‘‘(ملفوظاتِ امیرِاہلِ سنت،قسط:76)
سُوال:شوہرکارات دیر تک لائٹ جلا کر مطالعہ کرنا کیسا ہے؟
جواب : میاں کو مُطالعے کا شوق ہے یہ لائٹ جَلاکر مُطالعہ کر رہا ہے اور بے چاری بیوی کو سخت نیند آرہی ہے لیکن اس روشنی کی وجہ سے وہ سو نہیں پا رہی اور دانت پیس کر پڑی ہے کہ اگر میاں کو بولوں گی تو لڑائی ہو جائے گی اور بعض اوقات لڑائی ہو بھی جاتی ہو گی تو ایسا کرنا ہرگز مناسب نہیں ہے۔ یاد رَکھیے!کسی بھی کمزور یا ماتحت پر ظلم کرنے کی اِجازت نہیں ہے اگرچہ وہ حاکم ہی کیوں نہ ہو ۔ دوسروں کو تکلیف دے کر اپنی آخرت داؤ پر لگانے کے بجائے ایسی جگہ مُطالعہ کریں جہاں کسی کو تکلیف نہ ہو۔(ملفوظاتِ امیرِاہلِ سنت،قسط:77)
سُوال: بیوی اپنے شوہر کو کہے کہ میں زیادہ پڑھی لکھی ہوں اور تم مجھ سے کم پڑھے لکھے ہو، کیا اِس طرح کہہ کر وہ اس کی تَذلیل کر سکتی ہے؟
جواب:توبہ،اَسْتَغْفِرُاللہ! یہ کہنے سے شوہر کا دِل دُکھے گا اور عورت اپنا گھر تڑوالے گی۔ اس کے پاس کاغذ کی لکھی ہوئی سند ہو گی لیکن بعض اوقات شوہر کے پاس تَجرِبہ ہوتا ہے اگرچہ وہ پڑھا ہوا نہ ہو۔ بہرحال اس طرح کسی کو بولنا سخت دِل آزاری کا سبب ہو سکتا ہے۔ میں اپنے پاس ملاقات کے لیے تشریف لانے والے اسلامی بھائیوں کو دینے کے لیے رِسالہ رکھتا ہوں ، بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ کسی کو رِسالہ دینے لگتا ہوں تو دوسرا اسلامی بھائی بولتا ہے کہ ان کو اُردو نہیں آتی ، میں نے ایسوں کو سمجھایا ہے کہ اس طرح نہ بولا کریں کیونکہ اس سے سامنے والے کا دِل دُکھ سکتا ہے ، ظاہر ہے پاکستان میں رہنے والے کو اُردو نہ آتی ہوتو یہ تعجب کی بات ہے ، ہاں اگر وہ خود بول دے کہ مجھے اُردو نہیں آتی تو الگ بات ہے۔ میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جو بہترین انگریزی جانتے ہیں ، عام پڑھا لکھا شخص ان کو دیکھ کر حیران رہ جائے لیکن وہ اُردو سے نا آشنا ہوتے ہیں۔(ملفوظاتِ امیرِاہلِ سنت،قسط:97)