دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Ameer e Ahle Sunnat Say Miyan Bivi Kay Baray Main Sawal Jawab | امیرِ اہلِ سنّت سے میاں بیوی کے بارے میں سوال جواب

Gali Dena

book_icon
امیرِ اہلِ سنّت سے میاں بیوی کے بارے میں سوال جواب

شوہر کو گالی دینا کیسا؟

سُوال : بیوی کا اپنے شوہر کو مذاق مىں گالى نکالنا کىسا؟
جواب : گالی  نکالنے کو حدىثِ پاک مىں فِسق( گناہ)کہا گىا ہے ۔( بخاری ، 1/ 30، حدیث : 48) اگر بیوی  شوہر کو گالى نکالے تو یہ اور بھى سخت ہو جائے گا کیونکہ اس نے  تو شوہر کی تعظىم اور اِطاعت کرنی ہے لہٰذا عورت  شوہر کو گالی نکالنے پر توبہ کرے ، شوہر سے معافى مانگے اور آئندہ ایسا کرنے سے بچے ۔  (ملفوظاتِ امیرِاہلِ سنت،قسط:52)
سُوال : بیوی  کو نَماز کی طرف لانا ہو تو کون سا طریقہ اپنا نا چاہیے؟ نیز بیوی کو گالی گلوچ سے روکنے کا بھی کوئی حل بتادیجئے۔ (SMS کے ذریعے سُوال)
جواب : بیوی کو نَرمی ، پیار اور شفقت سے نَماز کی تلقین کرنی چاہیے اور نَماز پڑھنے کے فضائل ، نیز نہ پڑھنے کی وعیدیں سُنانی چاہئیں۔ اَلحمدُ لِلّٰہ! دعوتِ اِسلامی کےمکتبۃ المدینہ کی کتاب ’’فیضانِ نَماز‘‘موجود ہے ، بیوی کو بٹھا کر اِس سے درس دیں اور گھر میں مَدَنی چینل چلائیں ، اِس طرح بیوی کا دِل نَرم پڑے گا اور وہ ان شاء اللہ  الکریم نَمازی بن جائے گی۔ اگر شوہر  شور شَرابا کرتا رہے گا تو بیوی کو ضِد چڑھے گی اور  پھر مشکل ہے کہ وہ نَمازی بنے۔ 
جہاں تک گالی گلوچ کا تعلّق ہے تو مسلمان کو گالی دینا گُناہ کا کام ہے۔( بخاری ،4 / 111 ، حدیث: 6044) شوہر  اور بیوی تو مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ قریبی رِشتہ دار بھی ہیں اور اُن کے صلۂ رَحمی کے بھی مُعامَلات ہیں۔ اگر شوہر بیوی کوگالی دیتا ہے تو اُسے چاہیے کہ توبہ 
کرے اور مُعافی بھی مانگے ، گالی گلوچ تو ویسے بھی اچھے لوگوں کا کام نہیں ہے ، جبکہ بیوی تو رفیقۂ حَیات یعنی زندگی کی ساتھی ہے۔ اگر بیوی شوہر کو گالی دیتی ہے تو یہ اور بڑی بات ہے ، 
کیونکہ شوہر کا اُس پر بڑا حق ہے ، یُوں شوہر کو گالی دینا اور بڑا جُرم ہوگیا ، ایسی صُورَت میں بیوی کو چاہیے کہ توبہ کرے اور شوہر سے مُعافی بھی مانگے۔ گالی گلوچ گندے لوگوں کا کام ہے،  گالی دینے والے سے لوگ بھی نفرت کرتے ہیں۔  بعض گالی دینے والے یہ سمجھتے ہیں کہ لوگ اُنہیں سَلام کرتے ہیں ، حالانکہ وہ سَلام اِس لئے کررہے ہوتے ہیں تاکہ آپ کے شَر سے بچے رہیں کہ  ”یار! اِس کو مُنہ کہاں لگائیں! “ بس سَلام کردیا اور نکل گئے۔ گالی دینے والوں کو توبہ کر نی چاہیے اور چونکہ گالی دینے سے سامنے والے کا دِل بھی دُکھتا ہے ، اِس لئے جنہیں گالی دی ہے اُن سے مُعافی بھی مانگیں۔ (ملفوظاتِ امیرِاہلِ سنت،قسط:230)
سُوال : بدگُمانی میں پڑجانے اور حُسنِ  ظن نہ رکھ پانے کے اسباب بیان فرمادیجئے۔ 
جواب : اس کے مختلف اسباب ہوتے ہیں ، جیسا کہ اس بارے میں دینی مطالعہ کی کمی ہونا ، ماحولیات کا اثر ، بری صحبت ، سمجھانے والوں کی کمی اورسب سے بڑھ کریہ کہ بدگُمانی سے ہونے والے نقصانات کی طرف توجہ نہ ہونا ، کیونکہ بعض اوقات بدگُمانی  خون خرابابھی کروا دیتی ہےیاگھر ہی اجاڑ دیتی ہے ، جیسےاگر شوہر بیوی سے بدگُمانی کرےیابیوی شوہر سے بد گُمانی کرےتواس کے نتیجےمیں دونوں ایک دوسرے پر شک کریں گے اوربات لڑائی جھگڑے بلکہ اس سے بھی آگے چلی جائے گی اوریوں پوراگھر تباہ ہوسکتاہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں : بدگُمانی ریاسے کم حرام نہیں ہے۔(فتاویٰ رضویہ ، 5/ 323)ہمیں تو ہر مسلمان کے بارے میں حُسنِ ظن رکھنا چاہیے ، مسلمان کےہر عمل کواچھے گمان پر محمول کرنا یعنی اس کے بارے میں اچھا گمان قائم کرنا واجب ہے۔( فتاویٰ رضویہ ، 5 / 324 ماخوذا ‬)اسی طرح بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ     سے مروی ایک واقعہ ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام نے ایک شخص کو چوری کرتے ہوئے دیکھ لیاتو فرمایا: کیا تونے چوری کی ہے؟ اُس نے کہا : اللہ کی قسم !میں نے چوری نہیں کی ، (حالانکہ آپ علیہ السلام نے اپنی آنکھوں  سے اسے چوری کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ آپ علیہ السلام پرخوفِ خُدا کا غلبہ ہوا اور) آپ نے فرمایا : میں مان لیتا ہوں ، میری آنکھوں نے دھوکا کھایا ہے۔ ( بخاری ، 2 / 458 ، حدیث : 3444)ہمیں بھی چاہیے کہ دوسرے مسلمانوں کےلئے حُسنِ ظن قائم کریں اور بدگُمانی سے بچیں۔ (ملفوظاتِ امیرِاہلِ سنت،قسط:122)
 سُوال: بعض لوگ کہتے ہیں کہ عورت کو چاند کی مُبارَک باد  نہیں دینی چاہیے،کیا یہ دُرُست ہے ؟ (سوشل میڈیا کے ذَریعے سُوال)
جواب: اگر کوئی مُقَدَّس مہینا ہے جیسا کہ ہمارے یہاں ماہِ جَشنِ وِلادت کا چاند ہوتا ہے تو رَبیع الاول کی مُبارَک باد دیتے ہیں، اگر مُبارَک باد دینے والا مَحْرَم ہے تو مُبارَک باد دے سکتا ہے جیسے بھائی بہن کو ، بیٹا ماں کو اور  شوہر بیوی کو مُبارَک باد دے سکتا ہے ۔ (قسط:85)
سوال: کیا عورت عِدَّت مىں مَدَنى چىنل دىکھ سکتى ہے؟  (SMSکے ذَریعے سُوال)  
جواب: عورت عِدَّت مىں مَدَنى چىنل دىکھ سکتى ہے۔ (مَدَنی مذاکرے میں شریک مفتی صاحب نے فرمایا: )اگر عورت عِدَّت میں مَدَنى چىنل گھر کے اندر ہى  دىکھتى ہے تو جن صورتوں میں  دِىگر اسلامى بہنوں کو  دىکھنے کى اِجازت ہے  تو  انہیں صورتوں میں ىہ بھى دىکھ سکتى ہے۔ مَدَنى چىنل دىکھنے کا عِدَّت سے یُوں کوئى تعلق نہىں ہے کہ اِس کی وجہ سے عِدَّت میں کوئى فرق پڑتا ہو۔ عِدَّت اصل مىں ایک وقت کا نام ہے جو طلاق ىا موت کى صورت مىں شروع ہو جاتا ہے۔ عِدَّت میں بنیادی طور پر عورت پر دو حکم ہوتے ہىں: ایک یہ کہ بِلا ضَرورتِ شرعی گھر سے باہر نہىں جا سکتى ۔ دوسرا یہ کہ زىنت ىعنى سنگھار  ،مىک اَپ وغىرہ کرنا عورت کے لىے ممنوع ہو جاتا ہے۔( بہارِشریعت، 2/ 242-244، حصہ: 8 ماخوذا)(ملفوظاتِ امیرِاہلِ سنت ، قسط :36 )

شوہر خرچہ نہ دے تو بیوی کیا کرے؟

سُوال: اگر شوہر اَخراجات  نہ دے تو بیوی کو کیا کرنا چاہیے؟ (SMS کے ذریعے سُوال)
جواب: بیوی کو نان ، نفقہ اور مکان دینا شوہر پر واجب ہے ، نہیں دے گا تو گُناہ گار ہوگا۔ ( جوہرة نیرة ،2/ 108) یہ سب چیزیں نہ دینے کی صُورت میں بیوی مُقَدَّمہ بھی کر سکتی ہے ،  قاضی اُس کو خرچہ دِلوائے گا۔( بہار شریعت ، 2 / 269، حصہ : 8)لیکن اب ایسا انداز نہیں رہا۔  اِس لئے ایسی صُورَت میں آپس میں مِل کر خاندان والے طے کرلیں اور ترکیب بنالیں۔   Case (مُقَدَّمہ) کریں گے تو گھر بیٹھ جائے گا اور سب  مشکل ہوجائے گا ، ساتھ ہی رُسوائی  اور بدنامی بھی ہوگی۔ شوہر کو بھی چاہئے کہ  اپنی بیوی کےجائز اَخراجات جن کو پورا کرنے  کا شریعت نے کہا ہے اُنہیں  پُورا کرے۔ (ملفوظاتِ امیرِاہلِ سنت،قسط:88)
سُوال: اگر شوہر تنگ دست ہو تو بیوی کو کیا کرنا چاہئے؟ (نگرانِ شوریٰ کا سُوال)
جواب: شوہر کی حوصلہ اَفزائی کرے اور تسلّی دے کہ آپ فکر نہ کریں۔ ایسےموقع پر فرمائش نہ کرے ، کیونکہ فرمائش بھی آزمائش میں ڈال دیتی ہے اور بعض اَوقات شوہر حرام کی طرف رُخ کربیٹھتا ہے۔ بیوی اگر شوہر کو Freehand دے (یعنی فرمائشیں کرنے سے بچےگی)تو شوہر کو  سُکون ملے گا اور وہ Tension free  (ذہنی دباؤ سے فارغ) بھی رہے گا ، اللہ پاک کرے گا کہ بَرَکتیں بھی آہی جائیں گی۔ اپنے نصیب میں جو روزی ہو  وہ مِل کر رہتی ہے۔ عوامی مُحاوَرہ ہے : ہر بہانے روزی اور ہر بہانے موت ہے۔
 (ملفوظاتِ امیرِاہلِ سنت،قسط:66)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن