میرے آقا اعلیٰ حضرت ، امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے والد ماجد رئیسُ الْمُتَکَلِّمِیْن حضرت مولانانقی علی خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن لکھتے ہیں : وہ جناب ( یعنی نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) سفر میں {۱} مسواک اور {۲} سرمہ دان اور {۳} آئینہ اور {۴} شانہ (یعنی کنگھا) اور {۵} قینچی اور {۶} سُوئی {۷} دھاگا اپنے ساتھ رکھتے ۔ (انوارِ جمالِ مصطفیٰ ص ۱۶۰ ) ایک دوسری روایت میں {۸} ’’تیل‘‘ کے الفاظ (بھی) نقل ہوئے ہیں۔ (سُبُلُ الْھُدٰی ج۷ ص۳۴۷)
حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کھانا کھانے سے پہلے مسواک کر لیا کرتے تھے۔ (مُصَنَّف ابن اَبی شَیْبہ ج۱ص۱۹۷)
حضرتِ سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’کھانے کے بعد مِسواک کرنا دانتوں کا پیلاپن دور کرتا ہے۔ ‘‘ (الکامل فی ضعفاء الرجال ج۴ص۱۲۳)
ماہرین کی تحقیق کے مطابِق ’’80 فیصد امراض معدے (یعنی پیٹ) اور دانتوں کی خرابی سے پیدا ہوتے ہیں ۔ ‘‘ عموماً دانتوں کی صفائی کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے مسوڑھوں میں طرح طرح کے جراثیم پرورِش پاتے پھر معدے میں جاتے اور طرح طرح کے اَمراض کا سبب بنتے ہیں ۔
٭ اَمریکا کی ایک مشہور کمپنی کی تحقیقات کے مطابق مِسواک میں نقصان دینے والے بیکٹیریا (Bacteria) کو ختم کرنے کی صلاحیت کسی بھی دوسرے طریقے کی نسبت 20 فیصد زیادہ ہے ٭ سویڈن کے سائنسدانوں کی ایک تحقیق کے مطابق مِسواک کے ریشے بیکٹیریا کو چھوئے بغیربراہِ راست (Direct) ختم کردیتے ہیں اور دانتوں کوکئی بیماریوں سے بچاتے ہیں ٭ یو۔ ایس۔ نیشنل لائبریری آف میڈیسن (U.S. National Library of Medicine) کی شائع شدہ تحقیق میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگرمِسواک کو صحیح طور پر استعمال کیا جائے تو یہ دانتوں اور منہ کی صفائی نیز مَسُوڑھوں کی صحّت کا بہترین ذَرِیعہ ہے ٭ ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ مِسواک کے عادی ہیں ان کے مَسُوڑھوں سے خون آنے کی شکایات بہت کم ہوتی ہیں ٭ اٹلانٹا امریکا میں دانتوں سے متعلّق ہونے والی ایک نشست میں بتایا گیا کہ مِسواک میں ایسے مادَّے (Substances) ہوتے ہیں جو دانتوں کو کمزوری سے بچاتے ہیں اور وہ تمام دوائیں جو دانتوں کی صفائی میں استعمال ہوتی ہیں ، ان سب سے زیادہ فائدہ مند مِسواک ہے ٭ مِسواک دانتوں پر جمی ہوئی میل کی تہ کو ختم کرتی ہے ٭ مِسواک دانتوں کو ٹوٹ پھوٹ سے بچاتی ہے ٭ دائمی نزلہ و زکام کے ایسے مریض جن کا بلغم نہ نکلتاہو، جب وہ مِسواک کرتے ہیں تو بلغم نکلنے لگتا ہے اور یوں مریض کا دِماغ ہلکا ہونا شروع ہوجاتا ہے ٭ پیتھالوجسٹِز (Pathologists) کے تجربے اور تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ دائمی نزلے کے لیے مِسواک بہترین علاج ہے۔
منہ کے بعض قسم کے چھالے معدے کی گرمی اور تیزابیت کی وجہ سے ہوتے ہیں ۔ ان میں ایک قسم ایسی بھی ہے جس کے جراثیم پھیلتے ہیں ، اس کے لیے تازہ مسواک منہ میں ملیں اور اس کا بننے والا لُعاب (یعنی تھوک) بھی خوب ملیں ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ مَرض دور ہو جائے گا۔ بعض لوگ شکایت کرتے ہیں کہ دانت پیلے پڑ گئے ہیں یا دانتوں سے سفیدی کا اَستر اُتر گیا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے مسواک کے نئے ریشے مفید ہیں ، نیز دانتوں کی زَردی (یعنی پیلا پن) ختم کرنے کے لیے بھی فائدہ مند ہیں ۔ مسواک تَعَفُّن (یعنی بدبو) کو دفع (یعنی دور) اور منہ کے جراثیم کاخاتمہ کرتی ہے، جس سے انسان بے شمار اَمراض سے بچ سکتاہے ۔
بعض فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں : مِسواک کے وَقت یہ دُعا پڑھے :
اَللّٰهُمَّ بَيِّضْ بِهٖ اَسْنَانِيْ وَشُدَّ بِهٖ لِثَاتِيْ وَثَبِّتْ بِهٖ لِهَائِيْ وَبَارِكْ لِيْ فِيْهِ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔ ( )
اَللّٰهُمَّ طَهِّرْ فَمِيْ وَنَوِّرْ قَلْبِيْ وَطَهِّرْ بَدَنِیْ وَحَرِّمْ جَسَدِيْ عَلَى النَّارِ وَاَدْخِلْنِيْ بِرَحْمَتِكَ فِيْ عِبَادِكَ الصّٰالِحِيْنَ۔ ( )
مَدَ نی پھول: چاہیں تو دونوں دعائیں پڑھئے یا کوئی ایک دُعا پڑ ھ لیجئے۔
٭ مِسوا ک پیلو یا زیتون یا نیم وغیرہ کڑوی لکڑی کی ہو٭ مِسوا ک کی موٹائی چھنگلیا یعنی چھوٹی اُنگلی کے برابر ہو٭ مِسوا ک ایک بالشت سے زیادہ لمبی نہ ہو ورنہ اُس پر شیطان بیٹھتا ہی٭ اِس کے ریشے (رے۔ شے) نرم ہوں کہ سخت ریشے دانتوں اور مَسُوڑھوں کے درمیان خلا (GAP) کا باعث بنتے ہیں ٭ مِسواک تازہ ہوتوخوب (یعنی بہتر) ورنہ کچھ دیر پانی کے گلاس میں بھگو کر نرم کرلیجئی٭ طبیبوں کا مشورہ ہے کہ مِسواک کے ریشے روزانہ کاٹتے رہئے۔
٭ دانتوں کی چَوڑائی میں مِسواک کیجئے ٭ جب بھی مِسواک کرنی ہو کم از کم تین بار کیجئے ، ہر بار دھو لیجئیے٭ مِسواک سیدھے ہاتھ میں اِس طرح لیجئے کہ چھنگلیا یعنی چھوٹی اُنگلی اس کے نیچے اور بیچ کی تین اُنگلیاں اُوپر اور انگوٹھا سِرے پر ہو، پہلے سیدھی طرف کے اوپر کے دانتوں پر پھر اُلٹی طرف کے اوپر کے دانتوں پر پھر سیدھی طرف نیچے پھر اُلٹی طرف نیچے مِسواک کیجئے ٭ مٹھی باندھ کرمِسواک کرنے سے بواسیر ہوجانے کا اندیشہ ہے ٭ مِسواک وضو کی سنَّتِ قبلیہ ہے (یعنی مسواک وضو سے پہلے کی سنّت ہے وُضو کے اندر کی سنّت نہیں لہٰذا وضو شروع کرنے سے قَبل مسواک کیجئے پھر تین تین بار دونوں ہاتھ دھوئیں اور طریقے کے مطابق وضو مکمّل کیجئے) البتّہ سنَّتِ مُؤَکَّدَہ اُ سی وقت ہے جبکہ منہ میں بدبو ہو ( ما خوذ از فتاویٰ رضویہ ج۱ ص ۸۳۷ )
٭ ’’ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت‘‘ میں ہے : ’’عورَتوں کے لیے مِسواک کرنا اُمُّ الْمُؤمنین حضرت ِعائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی سُنَّت ہے لیکن اگر وہ نہ کریں تو حرج نہیں ۔ ان کے دانت اورمُسَوڑھے بہ نسبت مردوں کے کمزور ہوتے ہیں ، (ان کیلئے) مسی یعنی دَنداسہ کافی ہے۔ ‘‘ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ص ۳۵۷ )
٭ مِسواک جب ناقابلِ اِستِعمال ہوجائے تو پھینک مت دیجئے کہ یہ آلۂ ادائے سنّت ہے، کسی جگہ اِحتیاط سے رکھ دیجئے یا دَفْن کردیجئے یا پتھروغیرہ وَزْن باندھ کر سمندر میں ڈبو دیجئے ۔ ( تفصیلی معلومات کیلئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ بہارِ شریعت جلد اوّل صفحہ294تا295کا مطالعہ فرما لیجئے )
٭ ہوسکتا ہے آپ کے دل میں یہ خیال آئے کہ میں تو برسوں سے مِسواک اِستِعمال کرتا ہوں مگر میرے تو دانت اور پیٹ دونوں ہی خراب ہیں ! میرے بھولے بھالے اِسلامی بھائی! اس میں مِسواک کا نہیں آپ کا اپنا قصور ہے۔ میں (سگِ مدینہ عُفی عَنْہُ ) اِس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آج شاید ہزاروں میں سے کوئی ایک آدھ ہی ایسا ہو جو صحیح اُصولوں کے مطابِق مِسواک اِستِعمال کرتا ہو، ہم لوگ اکثر جلدی جلدی دانتوں پرمِسواک مَل کر وُضُو کرکے چل پڑتے ہیں یعنی یوں کہئے کہ ہم مِسواک نہیں بلکہ ’’رسمِ مِسواک‘‘ ادا کرتے ہیں !