دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Misli Aur Qimi Ashiya Ki Pehchan Aur Sharai Ahkam | مثلی اور قیمی اشیاء کی پہچان اور شرعی احکام

mukhtalif misli aur qeemi ashiya ki pehchan aur misalain

book_icon
مثلی اور قیمی اشیاء کی پہچان اور شرعی احکام
            

تیسرا باب

(مختلف مثلی اور قیمی اشیاء کی پہچان اور مثالوں کے بارے میں ) پہلی فصل (مثلی اور قیمی اشیاء کی پہچان اور وہ چیزیں جو عمومامثلی یا قیمی ہوتی ہیں) مثلی اور قیمی اشیاء کی تعریف پیچھے بیان ہوچکی ہے۔(1)یہاں اس فصل میں مثلی اور قیمی اشیاء کی پہچان کے حوالے سے عمومی باتیں جانتے ہیں کہ کن امور میں مُماثلت/ مشابہت کی وجہ سے ایک چیز کو دوسری چیز کے ہم مثل کہا جائے گا اور عموما کونسی چیزیں مثلی ہوتی ہیں اور کونسی قیمی ہوتی ہیں ؟ کن امور میں مماثلت/مشابہت کی وجہ سے ایک چیز کو دوسری چیز کی ہم مثل کہا جائے گا؟ ایک چیز کے دوسری چیز کے ہم مثل ہونے کے لیے بیک وقت دو شرائط کا پایا جانا ضروری ہے،اگر ان دونوں میں سے ایک شرط بھی نہیں پائی جائے گی،تو ان دونوں چیزوں کو ایک دوسرے کے ہم مثل نہیں کہا جائے گا۔وہ شرائط درج ذیل ہیں: دو چیزوں کے ہم مثل ہونے کی پہلی شرط: دونوں اشیاء مالیت میں برابر ہوں،یعنی ان دونوں کی قیمت ایک جیسی ہو،اگر بالفرض ان کی قیمت میں فرق ہو،تو بہت تھوڑا ہو،جسے عام طور پر لوگ فرق شمار ہی نہ کرتے ہوں ۔لہذا جن دوچیزوں کی قیمت میں بہت زیادہ فرق ہوگا،انہیں ایک دوسرے کی ہم مثل نہیں کہا جائے گا، اگرچہ وہ بقیہ امور میں ایک دوسرے کی ہم مثل ہوں ۔ مثال:ایک انڈاقیمت کے اعتبار سے عموماً دوسرے انڈے کی ہم مثل ہی ہوتا ہے،جبکہ اس کے مقابلے میں حیوان کی ایک جنس کے افراد بھی قیمت کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں ،مثلاً ایک بھینس کی قیمت مختلف اسباب(قد،نسل اور دودھ کم،زیادہ ہونے)کی وجہ سے دوسری بھینس سے مختلف ہوگی ۔ دو چیزوں کے ہم مثل ہونے کی دوسری شرط: دونوں چیزیں قیمت میں برابر ہونے کے ساتھ اوصاف/ کوالٹی میں بھی ایک جیسی ہوں یعنی اگر ایک عمدہ ہے،تو دوسری بھی عمدہ ہو اور ایک ناقص ہے،تو دوسری بھی ناقص ہووغیرہ۔لہذا اگر دو چیزوں کے اوصاف/ کوالٹی میں فرق ہے،تو وہ ایک دوسرے کی ہم مثل نہیں ہوں گی،اگرچہ بقیہ امور میں وہ ایک دوسرے کے ہم مثل ہوں۔ مثال:اعلیٰ کوالٹی کی گندم اسی کوالٹی کی گندم کی ہم مثل تو ہو گی (جبکہ ان کی قیمت میں بہت زیادہ فرق نہ ہو)لیکن نارمل کوالٹی کی گندم کی ہم مثل نہیں ہوگی۔یونہی اعلیٰ کوالٹی کے چاول اسی کوالٹی کے چالوں کی ہم مثل تو ہوں گے(جبکہ ان کی قیمت میں بہت زیادہ فرق نہ ہو)،لیکن نارمل کوالٹی کے چاولوں کی ہم مثل نہیں ہوں گے(2)۔اسی اصول اور ضابطے کے پیشِ نظر بقیہ اشیاء کے معاملہ میں بھی فیصلہ کیا جائے گا۔ مذکورہ بالا دونوں شرائط کے فقہی جزئیات: مالیت میں ایک دوسرے کے ہم مثل ہونے کے بارے میں تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے:’’ قلنا:انما تعتبر المماثلة فی المالية ومالية هذه الاشياء متساوية،فان الفلس يماثل الفلس في المالية وكذلك الجوز والبيض ولهذا لا تتفاوت قيمة آحاده عرفا،فكانت المماثلة فيه اتم من المكيل والموزون،فوجب جبر الفائت بجنسه، لكونه مثلا له صورة ومعنى ‘‘ ترجمہ:ہم نے کہا کہ (تاوان کے معاملہ میں دوچیزوں کے درمیان )مالیت میں مماثلت ضروری ہے اور ان اشیاء(عددی متقارب جیسے اخروٹ اور انڈے وغیرہ)کی مالیت برابر ہے،پس بے شک ایک پیسہ مالیت میں دوسرے پیسے کی مثل ہے اور اسی طرح اخروٹ اور انڈے ،اسی وجہ سے ان چیزوں کے افراد کی قیمت میں عرفاً کوئی فرق نہیں ہوتا،پس ان(عددی متقارب اشیاء )میں مکیلی اور موزونی اشیاء کی بنسبت بھی زیادہ کامل طریقے سے مماثلت پائی جاتی ہے۔لہذا (عددی متقارب میں )ان کی جنس کے ساتھ نقصان پورا کرنا واجب ہے،کیونکہ ان میں سے ایک دوسرے کی صورتاً اور معناً مثل ہے۔ ( تبیین الحقائق،ج5،ص224،مطبوعہ ملتان ) اور قیمت مختلف ہونے کے سبب مماثلت ختم ہوجانے کے بارے میں فتح القدیر میں ہے:’’ ينعدم التماثل بالتفاوت فی القيمة ‘‘ ترجمہ:قیمت میں فرق کے سبب مماثلت ختم جائے گی۔ ( فتح القدیر،ج10،ص236،مطبوعہ دار الفکر ) اور اوصاف/ کوالٹی میں مماثلت کے بارے میں تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے:’’ مطلق الجنس لا يكفی بل لا بد من اعتبار المماثلة فی الصفة كالجودة والرداءة ‘‘ ترجمہ: فقط جنس میں مماثلت کافی نہیں،بلکہ صفت جیسے عمدہ اور گھٹیا ہونے کے معاملہ میں بھی مماثلت ضروری ہے۔ ( تبیین الحقائق،ج5،ص224،مطبوعہ ملتان ) ناقص چیز کے بدلے میں اعلیٰ کوالٹی کی چیز تاوان میں نہیں لی جائے گی۔چنانچہ اس بارے میں اصول السرخسی میں ہے:’’ لا يجوز ان يوجب على المتلف فوق ما اتلف في صفة المالية كما لا يوجب الجيد باتلاف الردیء ‘‘ترجمہ:ہلاک کرنے والے پر ہلاک شدہ چیز کی مالیت سے بڑھ کر کوئی چیز لازم کرنا ،جائز نہیں،جیسا کہ گھٹیا چیز ہلاک کرنے کی صورت میں عمدہ چیز لازم نہیں کی جا سکتی۔ ( اصول السرخسی،ج2،ص259،مطبوعہ،دار المعرفہ،بیروت ) مزید اسی بارے میں البحر الرائق میں ہے:’’ فاذا اتلف جیدا لزمہ مثلہ قدرا وجودۃ ان کان مثلیا وقیمتہ جیدا ان کان قیمیا ‘‘ترجمہ:پس جب عمدہ چیز کو ہلاک کیا،تو مقدار اور کوالٹی کے اعتبار سے اسی کی مثل ہلاک کرنے والے پر لازم ہو گی ،جبکہ ہلاک شدہ چیز مثلی ہو اور عمدہ چیز کی قیمت لازم ہوگی،جبکہ وہ قیمی ہو۔ ( البحر الرائق،ج6،ص141،مطبوعہ،دار الکتاب الاسلامی )

کون سی اشیاء عموماً مثلی ہوتی ہیں اور کون سی قیمی ؟

وہ اشیاء جو عموماً مثلی ہوتی ہیں: درج ذیل اشیاء عموماً مثلی ہوتی ہیں: (1)مکیلی: یعنی کسی پیمانے کے ذریعہ ماپ کر بیچی جانے والی اشیاء،جیسے پیٹرول وغیرہ۔ (2)موزونی :یعنی وزن کے ساتھ بیچی جانے والی اشیاء،جیسے لوہا،تانبا، آٹا وغیرہ۔ (3)عددی متقارب: یعنی گنتی کے ساتھ بکنے والی اشیاء جن کے افراد(pieces)میں فرق نہیں ہوتا یا ہوتا ہے، تو معمولی فرق ہوتا ہے،جولوگوں کی نظر میں کالعدم ہوتاہے، اسی وجہ سے ایک پیس کی قیمت دوسرے پیس سے مختلف نہیں ہوتی، بلکہ سب کی قیمت ایک جیسی ہوتی ہے،جیسے مرغی کے انڈے کہ ہر انڈے کا سائز دوسرے انڈے سے اگرچہ معمولی سا بڑا یا چھوٹا ہوگا، لیکن قیمت سب کی برابر ہوگی۔ (4)بعض مذروعات: یعنی گزوغیرہ کے ذریعہ ماپ کر بِکنے والی وہ اشیاء،جن کے افراد میں فرق نہیں ہوتا،جیسے فی زمانہ کپڑا،شیشے کی شیٹیں،پلائیاں،کارپٹ وغیرہ۔ وہ اشیاء جو عموماً قیمی ہوتی ہیں: درج ذیل اشیاء عموماً قیمی ہوتی ہیں: (1)عددی متفاوت:یعنی گنتی کے ساتھ بکنے والی وہ اشیاء جن کے افراد(pieces) ایک جیسے نہیں ہوتے، بلکہ ان میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے یعنی ایسا فرق کہ اس فرق کے سبب ان کے ہر فرد کی قیمت دوسرے سے مختلف ہوتی ہے،جیسے خربوزے وغیرہ (2)بعض مذروعات:یعنی گزوغیرہ کے ذریعہ ماپ کر بِکنے والی وہ اشیاء،جن کے افراد میں فرق ہوتاہے،جیسے زمین وغیرہ۔ (3)حیوانات:تمام جانور قیمی ہیں ،جیسے گائے ،بھینس، بیل وغیرہ۔ ان اشیاء کے ہر فردکا دوسرے فرد سے کافی فرق ہوتا ہے اور اس فرق کے سبب قیمت میں بھی نمایاں فرق ہوتا ہے۔ مکیلی ،موزونی اور عددی متقارب مثلی ہیں۔چنانچہ ملتقی الابحر اور اس کی شرح مجمع الانہر میں ہے:’’( المثلى ) وهو ما يوجد له مثل فی الاسواق بلا تفاوت متعد به،كما فی اكثر الكتب۔۔ ( كالكيلی والوزنی والعددی المتقارب ) ای ما لا يتفاوت آحاده فی القيمة ‘‘ترجمہ:مثلی سے مراد وہ چیز ہے کہ جس کی مثل معتد بہا فرق کے بغیر بازار میں پائی جاتی ہو،جیسا کہ اکثر کتب میں ہے،جیسے مکیلی،موزونی اور عددی متقارب یعنی وہ کہ جس کے افراد قیمت میں مختلف نہ ہوں۔ ( ملتقی الابحر مع مجمع الانھر،ج2،ص456،مطبوعہ دار احیاء التراث ) یونہی مذروعات جن میں تفاوت نہیں ہوتا،وہ بھی مثلی ہیں۔چنانچہ العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:’’ ان المذروع الذی لا يتفاوت مثلی ‘‘ ترجمہ بے شک مذروع(گز وغیرہ سے ماپ کر بکنے والی اشیاء)جن میں فرق نہیں ہوتا،وہ مثلی ہیں۔ ( العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ،ج2،ص163،مطبوعہ دار المعرفہ ) عددی متفاوت،بعض مذروعات اور حیوانات قیمی ہیں۔چنانچہ اس بارے میں فتاوی شامی میں شرح طحاوی کے حوالہ سے ہے: ’’ والحيوانات والذرعيات والعددي المتفاوت کرمان وسفرجل قیمیات ‘‘ترجمہ:اور تمام جانور،گزوں کے ساتھ بکنےوالی (بعض )اشیاء اورگنتی کے ساتھ بکنے والی وہ اشیاء جن کے افراد میں فرق ہوتا ہے،جیسے انار اور بہی ،یہ قیمی ہیں۔ ( فتاوی شامی،ج6،ص254،دار الفکر،بیروت ) مزید عددی متفاوت کی تفصیل کے بارے میں مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے:’’ العدديات المتفاوتة هی المعدودات التی يكون بين افرادها وآحادها تفاوت فی القيمة فجميعها قيميات ‘‘ترجمہ:عددی متفاوت :یہ گنتی کے ساتھ بکنے والی ایسی اشیاء ہیں کہ جن کے افراد کے درمیان قیمت میں فرق ہوتا ہے،پس یہ تمام قیمی ہیں۔ ( مجلۃ الاحکام العدلیہ،ص33،مطبوعہ کراچی ) کون سی اشیاء مثلی ہوتی ہیں اور کون سی قیمی ؟ان دونوں کے بارے میں الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:’’ المال المثلی: ما له مثل او نظير فی الاسواق من غير تفاوت فی اجزائه او وحداته تفاوتاً يعتد به فی التعامل والاموال المثلية اربعة انواع هی: المكيلات ( كالقمح والشعير ) والموزونات ( كالقطن والحديد ) والعدديات المتقاربة فی الحجم كالجوز والبيض وبعض انواع الذرعيات ( التی تباع بالذراع او المتر ونحوهما ) وهی التی تتساوى اجزاؤها دون فرق يعتد به كاثواب الجوخ والقطن والحرير والواح البلور والاخشاب الجديدة۔۔ والمال القيمی:هو ما ليس له نظير او مثل فی السوق او له مثل ولكن مع التفاوت المعتد به بين وحداته فی القيمة مثل افراد الحيوان ‘‘ترجمہ:مالِ مثلی وہ ہے کہ جس کی مثل یا نظیر اس کے اجزاء یا افراد میں فرق کے بغیر بازار سے مل سکے ، ایسے فرق کے بغیر کہ عرف میں جس کو فرق سمجھا جاتا ہواور اموالِ مثلی چار قسم کے ہیں ۔(1)مکیلی چیزیں،جیسے گیہوں اور جو۔(2)موزونی چیزیں ،جیسے روئی اور لوہا۔ (3)گنتی کے ساتھ بِکنے والی اشیاء جو حجم میں ایک دوسرے کے قریب قریب ہوں،جیسے اخروٹ اور انڈے۔(4)اور بعض ذرعیات یعنی وہ اشیاء جن کو گز یا میٹر وغیرہ کے ذریعہ ماپ کر بیچا جاتا ہےاور یہ وہ چیزیں ہیں کہ جن کےافراد برابر ہوں،ان میں معتد بہا فرق نہ ہو،جیسے اون،روئی اور ریشم کے بنے ہوئے کپڑے،شیشے کی شیٹیں اور جدید لکڑیاں ۔ اور مالِ قیمی وہ ہے کہ جس کی نظیر یا مثل بازار میں موجود نہ ہویا اس کی مثل بازار میں موجود ہو،لیکن اس کے افراد میں قیمت کے اعتبار سے معتد بہا فرق ہو،مثلاً:حیوان کے افراد۔ ( الفقہ الاسلامی وادلتہ،ج4،ص407،مطبوعہ دار الفکر ) دوسری فصل (کتب فقہ میں بیان کردہ مختلف مثلی اور قیمی اشیاء کی مثالیں) کتبِ فقہ میں کئی اشیاء کے مثلی اور قیمی ہونے کی صراحت موجود ہے ۔اس فصل میں ان میں سے چند اشیاء بیان کی جا رہی ہیں ۔ اس فصل میں ان اشیاء کو کسی حد تک جمع کرنا مقصود ہے کہ جن کے مثلی یا قیمی ہونے پر فقہائے کرام نے کلام فرمایا ہے۔ البتہ یہ واضح رہے کہ اس فصل میں بیان کردہ اشیاء کی جو حیثیت زمانہ ماضی کے احوال کے اعتبار سے فقہائے کرام نے لکھی ہے ، ضروری نہیں کہ آج بھی ان کی وہی حیثیت ہو، بلکہ ممکن ہے کہ مختلف احوال و اسباب کی وجہ سے ان کی حیثیت مثلی سے قیمی یا قیمی سے مثلی ہو چکی ہو،جیسا کہ ایسی چند چیزوں کے متعلق حاشیے میں اس حوالے سے وضاحت کی جائے گی۔لہذا کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرتے وقت درج ذیل جزئیات کے ساتھ ساتھ چیز کے مثلی و قیمی ہونے کے اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے زمانہ حال سے مطابقت دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔ کتب میں بیان کردہ بعض مثلی اشیاء: (۲،۱)تانبااورپیتل دونوں مثلی ہیں،کیونکہ یہ دونوں موزونی ہیں۔ جامع الفصولین میں شرح طحاوی کے حوالہ سے ہے:’’ شحی:الصحیح ان النحاس والصفر مثلیان ‘‘ترجمہ:شرح طحاوی میں ہے:صحیح یہ ہے کہ تانبا اور پیتل دونوں مثلی ہیں۔ ( جامع الفصولین،ج2،ص97،مطبوعہ امیر حمزہ کتب خانہ ، افغانستان ) (۴،۳)لوہا اورسیسہ مثلی ہیں،کیونکہ یہ دونوں موزونی ہیں ۔ جامع الفصولین میں شرح قدوری کے حوالہ سے ہے:’’ شقی:الحدید والرصاص........ کل منھا جنس لم یجز التفاضل ببیعہ وھذا دل علی انہ مثلی ‘‘ترجمہ: شرح قدوری میں ہے:لوہااورسیسہ ،ان میں سے ہر ایک(الگ الگ) جنس ہے،ان (میں سے ہر ایک )کی(اپنی جنس کے ساتھ ) بیع میں کمی بیشی جائز نہیں اور یہ دلیل ہے اس بات پر کہ یہ مثلی ہیں۔ ( جامع الفصولین،ج2،ص97،مطبوعہ امیر حمزہ کتب خانہ ، افغانستان ) (٥ تا ٧)اخروٹ ، انڈے(3) ، اور کرنسی کے سکے مثلی ہیں، کیونکہ عددی متقارب ہیں ۔ جامع الفصولین میں ہے:” وكذا العددي المتقارب كجوز وبيض وفلوس ونحوها “ ترجمہ: اسی طرح عددی متقارب چیزیں (بھی مثلی ہیں ) جیسے اخروٹ ، انڈے اور کرنسی کے سکے اور اس طرح کی دیگر چیزیں۔ ( جامع الفصولین،ج2،ص97،مطبوعہ امیر حمزہ کتب خانہ ، افغانستان ) (٨تا١٠)ناشپاتی ، خوبانی اور آڑو مثلی ہیں ۔ العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:’’ الكمثرى والمشمش والخوخ كلها من ذوات الامثال ‘‘ترجمہ: ناشپاتی، خوبانی اور آڑو،یہ تمام ذوات الامثال میں سے ہیں ۔ ( العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ،ج2،ص162،مطبوعہ دار المعرفہ ) (١١) لوبیا مثلی ہے۔ مجمع الضمانات میں ہے: ” والفول من ذوات الامثال “ترجمہ:اور لوبیا مثلی چیزوں میں سے ہے۔ ( مجمع الضمانات،ص 118،مطبوعہ دار الكتاب الاسلامی ) (١٢،۱۳)سرکہ اور شیرہ مثلی ہیں۔ جامع الفصولین میں ہے:’’ نو: الخل والعصیر۔۔مثلی ‘‘ترجمہ: نوادر ہشام میں ہے : سرکہ اورشیرہ مثلی ہیں۔ ( جامع الفصولین،ج2،ص98،مطبوعہ امیر حمزہ کتب خانہ ، افغانستان ) (١٤تا١٦)روئی، اون اور اس کا سوت مثلی ہیں۔ العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:’’ والقطن والصوف وغزله۔۔۔۔۔مثلی ‘‘ ترجمہ:اور روئی ،اون اور اس کا سوت مثلی ہیں۔ ( العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ،ج2،ص162،مطبوعہ دار المعرفہ ) (۱۸،۱۷)آٹا اوراس کی بھوسی مثلی ہیں۔ جامع الفصولین میں ہے:’’ نو:الدقیق والنخالۃ۔۔۔۔مثلی ‘‘ترجمہ: نوادر ہشام میں ہے : آٹا ،بھوسی جو چھلنی میں رہ جائے مثلی ہیں۔ ( جامع الفصولین،ج2،ص98،مطبوعہ امیر حمزہ کتب خانہ ، افغانستان ) (١٩)بھوسا اور اس کی تمام اقسام مثلی ہیں۔ العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:’’ والتبن وجميع انواعه مثلی ‘‘ترجمہ:اور بھوسا اور اس کی تمام اقسام مثلی ہیں۔ ( العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ،ج2،ص162،مطبوعہ دار المعرفہ ) (۲۰ ، ۲۱)زیتون اور اس کا تیل مثلی ہیں۔ العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:’’ الزيتون مثلي مكيل مضمون بمثله كما في الخيرية ‘‘ترجمہ:زیتون مثلی اور مکیلی ہے،اس کا مثل کے ساتھ تاوان دیا جائے گا،جیسا کہ خیریہ میں ہے۔ ( العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ،ج2،ص162،مطبوعہ دار المعرفہ ) مزید اسی میں ہے:’’ الزيت مثلي خيرية من البيع الفاسد الزيتون مثلي خيرية قبيل الاقالة ‘‘ترجمہ:خیریہ کے بیع فاسد کے باب میں ہے کہ زیتون کا تیل مثلی ہے اور خیریہ کے اقالہ کے باب سے تھوڑا سا پہلے ہے کہ زیتون مثلی ہے۔ ( العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ،ج2،ص162،مطبوعہ دار المعرفہ ) (٢٢)کاغذ مثلی ہے۔(4) جامع الفصولین میں فتاوی رشید الدین کے حوالہ سے ہے:’’ فش:الکاغذ مثلی ‘‘ ترجمہ: فتاوی رشید الدین میں ہے:کاغذ مثلی ہے۔ ( جامع الفصولین،ج2،ص98،مطبوعہ امیر حمزہ کتب خانہ ، افغانستان ) (۲۳ ، ۲۴)چونا اوربال صفا پاؤڈر،جو چونے اور ہڑتال یعنی ایک قسم کی زہریلی دھات سے تیار کیا جاتا ہے،یہ مثلی ہیں۔ العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:’’ والجص والنورة۔۔ مثلي ‘‘ترجمہ:چونا اور بال صفا پاؤڈر مثلی ہیں۔ ( العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ،ج2،ص162،مطبوعہ دار المعرفہ ) (٢٥ ،٢٦)ریشم اور خشک پھول مثلی ہیں۔ (٢٧، ٢٨)مہندی اور وسمہ (نیل کے پتے جن سے خضاب تیار کیا جاتا ہے)مثلی ہیں۔ جامع الفصولین میں فوائدِ صدر الاسلام کے حوالے سے ہے:’’ فص:الابریسم والحناء والوسمة والریاحین الیابسۃ.... مثلی ‘‘ترجمہ: فوائدِ صدر الاسلام میں ہے:ریشم اور مہندی اور وسمہ اورخشک پھول مثلی ہیں ۔ ( جامع الفصولین،ج2،ص98،مطبوعہ امیر حمزہ کتب خانہ ، افغانستان ) (٢٩)دودھ مثلی ہے۔ محیطِ برہانی میں ہے:’’ ان اللبن مثلی ‘‘ترجمہ:بیشک دودھ مثلی ہے۔ ( محیطِ برھانی،ج7،ص625،مطبوعہ دار الکتب العلمیہ،بیروت ) (٣٠تا ٣٢)سونے اور چاندی وغیرہ کے سکّے مثلی ہیں۔يونہی رائج کرنسی کے سکے بھی مثلی ہیں۔ العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:” ثم المثل قد يكون ۔۔مصنوعا بحيث لا تخرجه عن المثلية لبقاءكثرته وعدم تفاوته كالدراهم والدنانير المضروبة “ترجمہ:پھر مثلی چیز کبھی تیار کی گئی ہوتی ہےاس حیثیت سے کہ صنعت (بناوٹ) اسے مثلی ہونے سے خارج نہیں کرتی ،اس لیے کہ اس طرح کے اور افراد بکثرت موجود ہوتے ہیں اور باہم ان میں فرق نہیں ہوتا،جیسے ڈھلے ہوئے دراہم و دنانیر۔ ( العقود الدرية فی تنقيح الفتاوى الحامدية،ج2، ص 162،مطبوعہ دار المعرفہ، بیروت ) تبیین الحقائق میں ہے:’’ الفلس يماثل الفلس فی المالية ‘‘ ترجمہ: ایک پیسہ مالیت میں دوسرے پیسے کی مثل ہے۔ ( تبیین الحقائق،ج5،ص224،مطبوعہ ملتان ) نوٹ: اوپر فقہاء کی بیان کردہ تمام مثلی اشیاء پر غور کیا جائے ،تو یہ سب مکیلی(ماپ کر بکنے والی)یا موزونی(وزن سے بکنے والی) یا عددی متقارب (گِن کر بکنے والی ایسی اشیاء جن کا ہر ایک فرد ، دوسرے کے قریب ہوتا ہے ۔) ہیں۔ البتہ یہ واضح رہے کہ ان میں سے بعض اشیاء ایسی ہیں کہ ایک ہی شے کی مختلف انواع ہوتی ہیں یا یہ کہیے کہ ایک ہی شے مختلف کوالٹی میں دستیاب ہوتی ہے اور کوالٹی کے عمدہ یا ناقص ہونے کی وجہ سے یا نوع و قسم کے بدلنے سے ان کی قیمتوں میں بھی فرق پڑ جاتا ہے۔ جیسے کھجور کی بہت سی اقسام ہیں اور ان میں سے ہر ایک کی قیمت دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ایسی چیزوں میں ایک کوالٹی و نوع کی چیز اپنی ہی جیسی کوالٹی اور نوع کی مثل شمار ہوگی ، اس سے ہلکی یا اعلی کوالٹی یا کسی اور نوع کی مثل شمار نہیں ہوگی، جیسا کہ اس سے پچھلی فصل میں اس کی وضاحت گزری۔

کتب میں بیان کی گئی بعض قیمی اشیاء:

(١)تمام حیوان قیمی ہیں،کیونکہ یہ عددی متفاوت ہیں ،ان میں مماثلت ممکن نہیں ۔ (٢تا٤)زمینیں،درخت اور مکان قیمی ہیں،کیونکہ ان کے افراد میں فرق ہوتا ہےکہ ہر زمین دوسری زمین سے،ہر درخت دوسرے درخت سے اور ہر گھر دوسرے گھر سے مختلف ہوتا ہے اورمختلف اسباب و اوصاف کی بناء پر ان کی قیمتوں میں بھی نمایاں فرق ہوتا ہے۔ جامع الفصولین میں ہے:’’
والحيوانات ....فهی قيميات ترجمہ:اورحیوانات قيمی ہیں۔ ( جامع الفصولین،ج2،ص97،مطبوعہ امیر حمزہ کتب خانہ ، افغانستان ) اورتبیین الحقائق میں ہے:’’ لو اتلف دابة لا يجب عليه دابة مثلها مع اتحاد الجنس، لعدم امكان المماثلة، لاختلاف المعانی فيها ‘‘ترجمہ:اگر کسی کا کوئی جانور ہلاک کر دیا،تو اس پر اس کی مثل جانور لازم نہیں ہوگا،حالانکہ دونوں کی جنس ایک ہے،کیونکہ یہاں مماثلت ممکن نہیں کہ ان میں معانی(یعنی ان کے اوصاف وغیرہ) مختلف ہیں۔ ( تبیین الحقائق،ج2،ص64،مطبوعہ ملتان ) الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:’’ والمال القيمی:هو ما ليس له نظير او مثل فی السوق او له مثل ولكن مع التفاوت المعتد به بين وحداته فی القيمة مثل افراد الحيوان والاراضی والاشجار والدور ‘‘ترجمہ:اور مالِ قیمی وہ ہے کہ جس کی نظیر یا مثل بازار میں موجود نہ ہویا اس کی مثل بازار میں موجود ہو،لیکن اس کے افراد میں قیمت کے اعتبار سے معتد بہا فرق ہو،مثلاً:حیوان کے افراد، زمینیں، درخت اورمکان ۔ ( الفقہ الاسلامی وادلتہ،ج4،ص407،مطبوعہ دار الفکر ) (٥تا ٩)انار، بہی(ناشپاتی کی شکل کا ایک پھل) ککڑی، تربوز اورخربوزہ قیمی ہیں،کیونکہ یہ عددی متفاوت ہیں(5) یعنی یہ گن کر بکنے والی ایسی اشیاء ہیں، جن کے افراد برابر برابر نہیں ہوتے ،بلکہ ان میں فرق ہوتا ہے اوراس فرق کے سبب ان کے ہر فرد کی قیمت دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ جامع الفصولین میں شرح طحاوی کے حوالہ سے ہے:’’ عددی متفاوت کرمان وسفرجل ۔۔۔۔فهی قیمیات ‘‘ترجمہ: اور عددی متفاوت ،جیسے: اناراوربہی تو یہ قیمی ہیں۔ ( جامع الفصولین،ج2،ص97،مطبوعہ امیر حمزہ کتب خانہ ، افغانستان ) فتاوی ہندیہ میں ہے :” والرمان والسفرجل والقثاء ... والبطيخ كلها مما يتفاوت آحاده فيكون من ذوات القيم “انار، بہی، ککڑی ، اور خربوزہ یہ تمام ایسی چیزیں ہیں جن کا ایک فرد ، دوسرے سے مختلف ہوتا ہے ، لہذا یہ قیمی اشیاء میں سے ہیں۔ ( فتاوی ھندیہ ،ج5،ص119،مطبوعہ دار الفکر، بیروت ) مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے:’’ البطیخ الاخضر والاصفر ھی قیمیۃ ‘‘ترجمہ:تربوز اور خربوزہ قیمی ہیں۔ ( مجلۃ الاحکام العدلیہ،ص216،مطبوعہ کراچی ) (١٠)درختوں کے پتے قیمی ہیں۔ فتاوی ہندیہ میں ہے:’’ واوراق الاشجار کلھا من ذوات القیم ‘‘ترجمہ:اور تمام درختوں کے پتے قیمی اشیاء میں سے ہیں۔ ( فتاوی ھندیہ،ج5،ص119،مطبوعہ دار الفکر ) (۱۱ ، ۱۲)سبزیاں اور تر پھول(6) قیمی ہیں۔ (١٣ ،١٤)لکڑی(7) اور بانس قیمی ہیں۔ جامع الفصولین میں ہے: لم يجز قرض القيمي كثياب وحطب وخشب وقصب وسائر الرياحين الرطبة والبقول إذ الواجب في القرض رد المثل وليست هذه بمثلية “ترجمہ: قیمی چیز کا قرض جائز نہیں، جیسے: کپڑے، لکڑی ،لکڑی کے تختے، بانس اور سارے تر پھول اور سبزیاں ، کیونکہ قرض میں مثل ہی واپس لوٹانا واجب ہوتا ہے اور یہ چیزیں مثلی نہیں ہیں۔ ( جامع الفصولین،ج2،ص55،امیر حمزہ کتب خانہ ، افغانستان ) (١٥)گوبر قیمی ہے۔ (١٦ ،١٧)کچا چمڑا(جس کو ابھی دباغت سے پکایا نہ ہو) یا پکا چمڑا(جس کو دباغت سے پکالیا ہو) قیمی ہیں۔ فتاوی ہندیہ میں ہے:’’ والسرقين من ذوات القيم ‘‘ترجمہ:اور گوبر قیمی اشیاء میں سے ہے۔ ( فتاوی ھندیہ،ج5،ص119،مطبوعہ دار الفکر ) درمختار میں ہے :” وسيجيء في الغصب أن ....السرقين والجلود والصرم۔۔۔۔۔۔ قيمي “ترجمہ : عنقریب کتاب الغصب میں یہ بات بیان ہوگی کہ گوبر اور دباغت شدہ چمڑا اور بغیر دباغت والا چمڑا یہ قیمی ہیں۔ ( در مختار،ج5،ص226،مطبوعہ دار الفكر، بيروت ) (١٨)کُسُم(ایک قسم کا پھول ہے جس سے گہرا سرخ رنگ نکلتا ہے اور اس سے کپڑے رنگے جاتے ہیں )قیمی ہے۔(8) جامع الفصولین میں ہے:’’ ومن الثانی .... عصفر ‘‘ترجمہ: اور دوسری قسم یعنی قیمی چیزوں میں سے کُسُم بھی ہے۔ ( جامع الفصولین،ج2،ص98،مطبوعہ امیر حمزہ کتب خانہ ، افغانستان ) (١٩)کوئلا قیمی ہے ۔ (9) العقود الدریہ میں ہے :” الفحم كذلك،لان النار عملت فيه فكان قيميا،لا مثليا وبه صرح فی الدر المختار ‘‘ترجمہ: اورکوئلا بھی اسی طرح قیمی ہے، کیونکہ آگ نے اس میں عمل کیا ہوتا ہے، لہذا یہ قیمی ہوگا ، مثلی نہیں ہوگااور درمختار میں اسی کی صراحت کی ہے۔ ( العقود الدرية فی تنقيح الفتاوى الحامدية،ج1، ص 276،مطبوعہ دار المعرفہ، بیروت ) (٢٠)اینٹوں کوفقہائے کرام نے قیمی چیزوں میں شمار کیا ہے۔(10) در مختارو رد المحتار میں ہے ، وما بین الھلالین من الدر المختار : ’’( الآجر والصابون.... قيمی ) لاختلافهما فی الطبخ ‘‘ترجمہ:اینٹ اور صابن قیمی اشیاء ہیں، کیونکہ ان میں پکنے سے اختلاف و فرق آجا تا ہے۔ ( در مختار ،ج5،ص226،مطبوعہ دار الفکر،بیروت ) (٢١ تا ٢٤) بچھونے،چٹائیاں ، کپڑااورسوئی کو فقہاء نے قیمی کہا ہے۔(11) العقود الدریہ میں ہے:’’ والبسط والحصر....كلها قيميات كالثياب والابرة..... من ذوات القيم ‘‘ ترجمہ: بچھونے،چٹائیاں ، یہ تمام کی تمام قیمی ہیں ،جیسےکپڑے اور سوئی قیمی اشیاء میں سے ہیں۔ ( العقود الدرية فی تنقيح الفتاوى الحامدية،ج2، ص162،مطبوعہ دار المعرفہ، بیروت ) (٢٥)پنیر تاوان کے معاملے میں قیمی ہے کہ پنیر کی بناوٹ وغیرہ کے لحاظ سے اس میں تفاوت فاحش ( کافی زیادہ فرق) پیدا ہو جاتا ہے۔(12) (٢٦)سَتُّو کے بارے میں بھی علماء نے یہی لکھا کہ اس کی بھنائی میں فرق ہونے کی وجہ سے اس میں تفاوت فاحش ( کافی زیادہ فرق) آجاتا ہے،لہذا یہ بھی قیمی ہے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے : ” ذكر فی السير الكبير:من اتلف على آخر جبنه فعليه قيمته ولم يجعل الجبن مثليا مع انه موزون،لانه متفاوت فی نفسه تفاوتا فاحشا وان اعتبر مثليا فی حق جواز السلم كذا فی الذخيرة “ترجمہ: امام محمد رحمہ اللہ نے سیر کبیر میں ذکر کیا کہ اگر کسی نے دوسرے کا پنیر تلف کر دیا ،تو اس پر اس پنیر کی قیمت دینا لازم ہے ۔ امام محمد نے پنیر کو موزونی چیز ہونے کے باوجود مثلی قرار نہیں دیا، کیونکہ پنیر کےاندر فی نفسہ بہت زیادہ تفاوت (فرق) ہوتا ہے۔اگرچہ بیع سلم درست ہونے کے اعتبار سے پنیر کو مثلی شمار کیا گیا ہے۔ اسی طرح ذخیرہ میں ہے۔ ( فتاوی ھندیہ،ج5،ص119،مطبوعہ دار الفکر،بیروت ) رد المحتار میں نہر الفائق کے حوالے سے ہے:” السويق قيمی لما بين السويقين من التفاوت الفاحش بسبب القلی “ترجمہ: ستو قیمی ہے، کیونکہ ستو اور ستو کے درمیان بھنائی کے سبب کافی زیادہ فرق ہوتا ہے۔ ( ردالمحتار،ج4،ص543،مطبوعہ دار الفکر، بیروت ) (۲۷) روٹی کے بارے میں ظاہر الروایہ اور امام اعظم کا مذہب یہی ہے کہ یہ قیمی ہے، کیونکہ ہر روٹی دوسری روٹی سے سائز کے اعتبار سے موٹی اور پتلی ہونے کے اعتبار سے اور پکنے کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے۔(13) فتاوی ہندیہ میں ہے : ” وذكر قاضي خان في أول بيوع شرح الجامع الصغير أن الخبز من ذوات القيم في ظاهر الرواية كذا في الفصول العمادية. “ترجمہ : امام قاضی خان نے شرح الجامع الصغیر کی کتاب البیوع کے شروع میں یہ ذکر کیا ہے کہ ظاہر الروایہ کے مطابق روٹی قیمی اشیاء میں سے ہے ۔ ایسا ہی فصول العمادیہ میں ہے ۔ ( فتاوى هندیہ، 5/ 120، دار الفکر، بیروت ) جامع الفصولین میں ہے :” سلم الخبز وإقراضه لم يجز عند "ح" رحمه اللہ لا وزناً ولا عدداً وفي إتلافه تجب قيمته “ترجمہ : امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نزدیک روٹی کی بیع سلم اورروٹی قرض دینا جائزنہیں ہے ، نہ وزن کے اعتبار سے اور نہ گنتی کے اعتبار سے اور روٹی ضائع / تلف کرنے کی صورت میں اس کی قیمت لازم ہوگی ۔ ( جامع الفصولين ، 1/ 57، امیر حمزہ کتب خانہ ، افغانستان ) شرنبلالیہ میں ہے : ” وأما أبو حنيفة فقال: لا خير في استقراض الخبز عددا أو وزنا؛ لأنه يتفاوت بالخبز والخباز والتنور باعتبار كونه جديدا أو عتيقا والتقديم في التنور والتأخير عنه ويتفاوت جودة خبزه بذلك “ترجمہ: امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ روٹی قرض لینے میں خیر نہیں ، چاہے گن کر لی جائے ، چاہے وزن سے کیونکہ روٹی میں پکنے کے اعتبار سے، پکانے والے کے اعتبار سے ، تندور کے اعتبار سے، نئی اور پرانی ہونے کے اعتبار سے اور تندور میں لگاتے وقت تقدیم و تاخیر کے اعتبار سے فرق آجاتا ہے اور روٹی کی کوالٹی میں اس وجہ سے تفاوت آجاتا ہے۔ ( حاشیہ شرنبلالی علی درر الحكام،2/ 189، دار إحياء الكتب العربية ) تیسری فصل (فی زمانہ کتاب اور اس کے علاوہ دیگر مصنوعات کے مثلی اور قیمی ہونے کے بارے میں ) کتاب کے مثلی یا قیمی ہونے کی بحث

مختلف ادوار میں کتب کی صنعت کاری کے احوال اوراس صنعت کی ترقی و عروج کے مراحل:

زمانہ ماضی میں کتابوں کی ترویج و اشاعت کا معاملہ موجودہ دور سے بالکل مختلف رہا ہےاور وہ اس طرح کہ جب پرنٹنگ پریس نہیں تھے،تواس وقت لوگ ہاتھ سے کتابیں لکھتے تھےاورلازمی بات ہے کہ دوشخصوں کی الگ الگ طور پر لکھی ہوئی کتابیں ایک دوسرے سے کافی حد تک مختلف ہوتی ہیں، مثلاً: ایک خوشخطی سےلکھتا ہےاور دوسرا نارمل یا ایک لکھنے میں غلطی کرتاہے اور دوسرا نہیں یا ایک کم غلطیاں کرتا ہے اور دوسرا زیادہ یاایک لکھنے کے لیے سیاہی زیادہ استعمال کرتا ہے اور دوسرا کم یاایک بڑے الفاظ میں لکھتا ہےاور دوسرا چھوٹے چھوٹے الفاظ میں یا ایک کسی عبارت کو کم صفحات میں لکھتا ہےاور دوسرا اسی عبارت کو زیادہ صفحات میں، وغیرہ وغیرہ ۔ اور اگر ایک ہی شخص دو یا اس سے زیادہ کتابیں ہاتھ سے لکھے،تب بھی مختلف اسباب کی وجہ سے وہ کتابیں آپس میں مختلف ہو جاتی ہیں،مثلاً: ایک کتاب لکھتے وقت روشنی کم تھی اور دوسری کے وقت زیادہ یا ایک لکھتے وقت تھکاوٹ نہیں تھی اور دوسری کے وقت تھی یا ایک توجہ کے ساتھ لکھی اور دوسری میں بے توجہی و غفلت کا مظاہرہ کیایا ایک جوانی میں لکھی اور دوسری بڑھاپے میں، وغیرہ ۔ اسی طرح کاغذ کی صنعت نے اتنی ترقی نہیں کی تھی ،جس کی وجہ سے ایک ہی کتاب کے صفحات مختلف ہوجاتے تھے۔یونہی سیاہی بھی مختلف ہوتی تھی ۔اس اختلاف کے سبب ظاہر ہے کہ ایک کتاب کی مثل بازار سے ملنا مشکل تھا ،لہذا اس وجہ سے کتابیں قیمی ٹھہریں۔ اورجب پرنٹنگ پریس آئے ،تو اس معاملہ میں رفتہ رفتہ بہتری آتی رہی جس کی وجہ سے کتابوں کا آپس میں اختلاف کم ہوتاگیا،لیکن اتنا کم یا ختم نہ ہوا کہ جس کی وجہ سے کتابوں کو مثلی کہا جاسکے۔پھر ایک وقت وہ آیا کہ جب مطبوعہ کتابوں کا فرق بالکل تھوڑا رہ گیا،جس کی وجہ سے یہ کہا گیا کہ مخطوطات(ہاتھ سے لکھی گئی کتابیں) قیمی ہیں اور مطبوعات غیر مجلد(پرنٹنگ پریس سے چھَپی ہوئی ایسی کتابیں ،جن کو ابھی تک جِلدنہ کیا گیا ہو،وہ)مثلی ہیں۔یہاں غیر مجلد(جِلد نہ کیا گیا ہو) کی قید اس لیے لگائی گئی کہ مطبوعہ(چھَپی ہوئی) کتابوں کا کاغذ اور چھاپہ وغیرہ تو ایک جیسا ہوتا تھا،لیکن جب انہیں جلد کیا جاتا ،توایک کتاب کی جلد دوسری سے مختلف ہوجاتی کہ اس وقت ایک جیسی جلد کرنے کے اسباب مہیا نہیں تھے۔لہذا اس دور میں مجلد کتابوں کو قیمی کہا گیا۔ جبکہ فی زمانہ یہ صنعت دیگر صنعتوں کی طرح بہت ترقی کر چکی ہےکہ سالوں کا کام مہینوں میں،مہینوں کا کام ہفتوں میں اورہفتوں کا کام دنوں میں مکمل ہوجاتاہے،نیز اب ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی پریس سے چھپنے والی کتاب کا میٹریل مثلاً: کاغذ،سیاہی اورجلد وغیرہ ایک ہی طرح کی ہوتی ہے، اگرچہ وہ کتاب ہزاروں، بلکہ لاکھوں کی تعداد میں چھپے، وجہ اس کی یہ ہے کہ ایک پلیٹ سے جتنی بھی کاپیاں بنائی جائیں، وہ ایک جیسی ہوتی ہیں، ایک پریس سے جتنی فوٹو اسٹیٹس ہوں گی، وہ ایک جیسی ہوں گی،کاغذ کا رِم جتنے گرام اور کوالٹی کا ہو گا، وہ ایک جیسا ہو گا، پھر بائنڈنگ اور جلد جس مشین سے ہو گی وہ ایک جیسی ہو گی،اگر بائنڈنگ ہاتھ سے ہو،تب بھی جدید سہولیات مہیا ہونے کی وجہ سے وہ ایک جیسی ہی ہوگی،اس میں زياده فرق نہیں ہوگا۔اسی وجہ سے ایک کتاب کے ایک کتب خانے کے ایک ہی چھاپے و اشاعت کے جتنے بھی نسخے ہوتے ہیں، ان میں سے جو بھی نسخہ لیا جائے اس کی قیمت اور اس کے ساتھ کے دوسرے نسخے کی قیمت برابر ، برابر ہوتی ہے۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر فی زمانہ حکم یہ ہے کہ ایک مطبوعہ اور ایک چھاپہ کی کتابیں مثلی ہیں ،کیونکہ ان کا مثلی ہونا بازار سے ان کی مثل ملنے پر موقوف تھا ،پس جب مثل مل جاتی ہے،تو یہ مثلی ہیں۔ البتہ اگر ایک ہی کتاب دو مختلف کتب خانوں نے چھاپی یا ایک ہی کتب خانے نے دو مختلف ایڈیشنز میں چھاپی اور اس میں ورق یا جلد کی کوالٹی تبدیل کر دی یا اغلاط کی تصحیح کر دی، یا کچھ اضافہ کر دیا ، یا کچھ ابواب وغیرہ کم کر دیے، یا پہلے بغیر تخریج چھاپی تھی، اب تخریج کر دی، پہلے بغیر فہرست کے چھاپی تھی، پھر اس میں فہرست شامل کر دی،جلد میں فرق کر دیا ،کئی کئی جلدوں پر مشتمل کتب میں پہلے ہر جلد پر الگ الگ کتاب اور مصنف کا نام لکھا تھا، اب خوبصورتی کے لیے سب جلدوں پر ملاکر کتاب اور مصنف کا نام لکھ دیا، وغیرہ ،الغرض کسی بھی طرح کی کوئی تبدیلی کی جس کی وجہ سے اس کی قیمت میں فرق ہو گیا، تو اب یہ کتاب اور پہلی دونوں ایک دوسرے کی مثل نہیں ہوں گی۔

کتاب کے مثلی اور قیمی ہونے کے بارے میں فقہی جزئیات:

دررالحکام شرح مجلۃ الاحکام میں مخطوطات کے قیمی ہونے کے بارے میں ہے:’’
وكتب الخط ولو كانت من جنس واحد قيمية۔۔مثلا النسختان من فتاوى البزازية المحررتان بخط اليد ليست احداهما مثلا للاخرى ولو كانتا مكتوبتين على ورق من جنس واحد او كان كاتبهما خطاطا واحدا، لانه قد يكون مداد احداهما وخطها اجودمن مداد وخط الاخرى، فتكون قيمتها اعلى من قيمة الاخرى،كما انه لو كان كل كتاب منهما محررا بخط خطاط آخر،فيكون احد الكتابين ارجح من الآخر فی القيمة،لحسن خطه وورقه ومداده ‘‘ترجمہ:اور ہاتھ سے لکھی ہوئی کتب اگرچہ ایک ہی جنس کی ہوں ،وہ قیمی ہیں،مثلاً: فتاوی بزازیہ کے ہاتھ سے لکھے ہوئے دو نسخوں میں سے ایک دوسرے کی مثل نہیں،اگرچہ وہ دونوں ایک ہی جنس کے کاغذ پر لکھے ہوئے ہیں یا انہیں لکھنے والا ایک ہی شخص ہے،کیونکہ کبھی ان میں سے ایک کی سیاہی اور خط دوسرے کی سیاہی اور خط سے عمدہ ہوتا ہے،پس اس کی قیمت دوسرے سے زیادہ ہوتی ہے،جیسا کہ ان میں سے ہر کتاب دوسرے شخص کے خط سے لکھی ہوئی ہو،پس دونوں کتابوں میں سے ایک خط،ورق اور سیاہی کے عمدہ ہونے کی وجہ سے دوسری کی بنسبت قیمت میں مہنگی ہوتی ہے۔ ( درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام،ج3،ص107،مطبوعہ دار الجیل ) اور مطبوعہ غیر مجلد کتب کے مثلی ہونے کے بارے میں اسی میں ہے:’’ اما الاجزاء من الكتاب المطبوع بترتيب واحد على ورق من جنس واحد وفی حجم واحدككتاب ردالمحتار الغير المجلد، فهو مثلی اذ ان الخمسة الاجزاء المطبوعة من كتاب ردالمحتار هی مثل للخمسة الاجزاء الاخرى من اجزاء كتاب رد المحتار ‘‘ ترجمہ: بہرحال ایک ترتیب کے ساتھ،ایک ہی جنس کے کاغذ پر اور ایک ہی سائز کی مطبوعہ کتاب کے اجزاء جیسا کہ غیر مجلد رد المحتار ہے،تو یہ مثلی ہے،کیونکہ مطبوعہ رد المحتار کے پانچ اجزاء رد المحتار کے دوسرے پانچ اجزاء کی مثل ہیں۔ ( درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام،ج3،ص107تا108،مطبوعہ دار الجیل ) اور مطبوعہ مجلد کتب کے قیمی ہونے کے بارے میں اسی میں ہے:’’ الكتاب المطبوع المجلد ولو كان من جنس واحد ومطبوعا بترتيب واحد،فلا يكون مثلا لكتاب آخر مجلد بشكل آخر،لانه بعلاوة صنعة التجليد الى الكتاب يخرج الكتاب عن ان يكون مثليا ويصبح قيميا،كخروج الذهب والفضة عن المثليات بحصول الصنعة فيهما والكتب فی زماننا يطبع قسم منها على ورق جيد والقسم الآخر على ورق ادون وتباع باسعار مختلفة، فلذلك لا يكون الكتاب المطبوع على ورق جيد مثلا للكتاب المطبوع على ورق اقل جيادة، فكتاب رد المحتار طبع مصر ليس مثلا لكتاب ردالمحتار طبع الآستانة،كذلك الطبعة الاولى من كتاب الفتاوى الهندية طبع مصر ليست كالكتاب الثانی الذی طبع اخيرا ‘‘ترجمہ:مطبوع مجلد کتاب اگرچہ ایک جنس اور ایک ہی ترتیب سے چھپی ہو،تو وہ کسی اور طرح کی مجلد کتاب کی مثل نہیں ہوگی،کیونکہ کتاب کو جلد کرنے کی کاریگری مختلف ہونے کی وجہ سے کتاب مثلی ہونے سے نکل جاتی ہے اور وہ قیمی ہو جاتی ہے،جیسا کہ سونا اور چاندی ان میں صنعت کے حصول کے سبب مثلی چیزوں سے نکل جاتے ہیں اور ہمارے زمانے میں بعض کتابیں عمدہ ورق پر چھاپی جاتی ہیں اور دوسری گھٹیا ورق پر اور یہ کتابیں مختلف قیمتوں پر بیچی جاتی ہیں ۔پس اسی وجہ سے عمدہ ورق پر چھاپی گئی کتاب اس کتاب کی مثل نہیں ہوگی جو اس سے کم عمدہ ورق پر چھاپی گئی ہو،جیسا کہ مصر کی مطبوعہ رد المحتار استانہ کی مطبوعہ رد المحتار کی مثل نہیں ،اسی طرح کتاب فتاوی ہندیہ جو پہلی مرتبہ مصر میں چھپی،وہ اس کتاب کی طرح نہیں جو دوسری مرتبہ چھپی۔ ( درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام،ج3،ص107تا108،مطبوعہ دار الجیل ) فی زمانہ جن کی مثل بازار سے مل جاتی ہے،جیسے کھانے پینے کے برتن اور مطبوعہ مجلد کتب وغیرہ ،ان کے مثلی ہونے کے بارے میں الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے: كما يعد المعدود المتقارب من المحصولات الطبيعية من المال المثلی،كذلك يعد المعدود المتماثل من المصنوعات من مادة واحدة وشكل واحد مالاً مثلياً كاوانی الاكل والشرب والسيارات المتحدة النوع وادوات غيارها والكتب الجديدة المطبوعة ‘‘ ترجمہ:جیسےقدرتی پیداوار میں سے عددی متقارب چیزوں کو مالِ مثلی میں سے شمار کیا جاتا ہے، اسی طرح ایک مادے اور ایک ہی شکل کی تیار کردہ اشیاء میں سے ایک دوسرے کی مثل عددی اشیاء کو بھی مالِ مثلی شمار کیا جائے گا،جیسے کھانے پینے کے برتن ،ایک طرح کی گاڑیاں ،ان کے اسپیئر پارٹس اور جدید مطبوعہ(چھَپی ہوئی) کتابیں۔ ( الفقہ الاسلامی وادلتہ،ج4،ص407،مطبوعہ دار الفکر )

”کتاب“ کے مثلی یا قیمی ہونے کے متعلق امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہکا نقطۂ نظر :

امام اہل سنت سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ (سالِ وفات:1340ھ) فتاوی رضویہ میں لکھتے ہیں :’’ کتاب کو علماء نے قیمی ٹھہرایا ہے،نہ مثلی ،مگر اس وقت تک چھاپے نہ تھے اور کہہ سکتے ہیں کہ اگر اسی چھاپے کی ہویعنی اسی بار کی چھپی ہواور کاغذ بھی ایک ہو اور جِلد نہ بندھی ہو، تو عجب نہیں کہ مثلی ہو سکے، یعنی کتاب کے معاوضہ میں ایسی ہی کتاب دینی آئے ،مگرتحقیق یہ ہے کہ چھاپے اور کاغذ کی وحدت بھی مستلزم مثلیت نہیں،ایک کاپی ایک پتھر پر جمی ہوئی ،اس کے ہزار کاغذ اٹھائے جاتے ہیں، کوئی ہلکا ہے کوئی بھرا ہوا، کوئی بہا ہوا ہے کوئی صاف ہے، تو بات وہی ہے ،جو علماء نے فرمائی کہ کتاب قیمی([14]) ہے۔‘‘ (
فتاوی رضویہ،ج16،ص227، رضا فاؤنڈیشن،لاھور ) اس مقام پر امام اہل سنت نے کتاب کو قیمی قرار دیا ہے،لیکن یہ آپ نے اپنے زمانے کی صنعت کے لحاظ سے فرمایا ہے، کیونکہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں بھی مطبوعہ کتابیں ایک جیسی نہیں ہوتی تھیں،بلکہ ان میں فرق ہوتا تھا،لہذا اس وجہ سے آپ نے بھی انہیں قیمی کہا اور ان کے قیمی ہونے کی وجہ خود ان الفاظ کے ساتھ بیان فرمائی:’’تحقیق یہ ہے کہ چھاپے اور کاغذ کی وحدت بھی مستلزم مثلیت نہیں،ایک کاپی ایک پتھر پر جمی ہوئی اس کے ہزار کاغذ اٹھائے جاتے ہیں، کوئی ہلکا ہے کوئی بھرا ہوا، کوئی بہا ہوا ہے ،کوئی صاف ہے۔‘‘ اور عرف شاہد ہے کہ فی زمانہ مطبوعہ کتابوں میں اس جیسا کوئی فرق نہیں ہوتا،لہذا آج کے اِس زمانہ میں کتاب مثلی ہے۔بلکہ اگر غور کیا جائے ،تو اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اسی جزئیہ میں خود بھی اس طرف اشارہ فرما دیا کہ کتابوں میں مذکورہ فرق ختم ہوجائے،تووہ مثلی ہوسکتی ہیں۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں :’’اور کہہ سکتے ہیں کہ اگر اسی چھاپے کی ہویعنی اسی بار کی چھپی ہواور کاغذ بھی ایک ہو اور جلد نہ بندھی ہو، تو عجب نہیں کہ مثلی ہو سکے، یعنی کتاب کے معاوضہ میں ایسی ہی کتاب دینی آئے۔‘‘ یہاں پر آپ علیہ الرحمۃنے کتاب کے مثلی ہونے کو بیان کرتے ہوئے اگرچہ یہ قید لگائی ہے کہ ’’جلد نہ بندھی ہو‘‘لیکن یہ بھی اس دور کے اعتبار سے ہے ،کیونکہ اس وقت جلد ایک جیسی نہیں ہوتی تھی اور فی زمانہ جب کاغذ،سیاہی اور جلد وغیرہ سب کچھ ایک جیسا ہوتا ہے،تو مطبوعہ مجلد کتب(چھَپی ہوئی ایسی کتابیں ،جن کو جِلد کر لیا گیا ہو،وہ)بھی مثلی ہیں اور یہ کہنا بعید نہیں کہ یہی امام اہل سنت کا ”قول ضروری(15)“ بھی ہے۔

کتاب کے علاوہ دیگرمصنوعات کے مثلی اور قیمی ہونے کے حوالے سے کلام

کتاب کے مثلی ہونے کے حوالہ سے ہم نے تفصیلی کلام کر دیا ہے،جس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے باقی مصنوعات کے مثلی یا قیمی ہونے کافیصلہ بھی بآسانی کیا جا سکتا ہےاور وہ اس طرح کہ فی زمانہ وہ تمام مصنوعات جو مِلوں فیکٹریوں اور کارخانوں وغیرہ میں تیار ہوتی ہیں، ان کی تیاری کا طریقہ اور خام مال وغیرہ سب ایک جیسا ہوتا ہے، اسی وجہ سے اس چیز کے جتنے بھی افراد (pieces)تیار ہوں، ان سب کی کوالٹی، بناوٹ ایک جیسی ہوتی ہے اور ہر فرد کی قیمت دوسرے فرد سے مختلف نہیں ہوتی، بلکہ ایک جیسی ہی ہوتی ہے، تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایسی تمام اشیاء جن کی صنعت و بناوٹ ایک جیسی ہو وہ تمام اشیاء مثلی ہیں، جبکہ ان کی مثل بازار میں مل رہی ہو۔لہذا اگر اس طرح کی چیز مارکیٹ میں ختم ہو چکی اور اب اس کی مثل بازار میں دستیاب نہیں ،تو اب وہ قیمی کے حکم میں آجائے گی۔ مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق اگر ہم جائزہ لیں ،تو الیکٹرک آلات ،جیسے: ایک کمپنی کے ایک طرح کے فریج، اےسی، روم کولر،واٹر کولر، اوون، استری، واشنگ مشین، ایل سی ڈی، ایل ای ڈی، لیپ ٹاپ،کمپیوٹر،سلائی مشین،موبائل،پنکھے، بلب اور ٹیوب لائٹس وغیرہ مثلی ہیں۔ ایک کمپنی کی ایک ماڈل اور ایک طرح کی گاڑیاں،موٹر سائیکل اور ان کے اسپیئر پارٹس وغیرہ بھی مثلی ہیں۔الغرض فی زمانہ ضروریاتِ زندگی میں استعمال ہونے والی اس طرح کی تقریباً تمام ہی مصنوعات جو مشینوں سے ایک ہی فارمولے کے ساتھ تیار کی جاتی ہیں وہ مثلی ہیں۔(16)

(1)پہلے باب کی دوسری فصل میں صفحہ 18تا19پر مثلی اور قیمی اشیاء کی لغوی و اصطلاحی تعریف اپنی تفصیل کے ساتھ بیان ہوچکی ہے۔ (2) ہاں سود کے باب میں چیز کی جنس ایک ہو، تو نوع کے فرق کو نہیں دیکھا جاتا، مثلا: اعلی کوالٹی کی ایک کلو کھجور کی ادنی کوالٹی کی دوکلو کھجور کے بدلے خرید و فروخت جائز نہیں ہے۔ ساجد (3)علماء نے لکھا ہے کہ انڈے چھوٹےسائز کے ہوں یا بڑے سائز کے ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ جیسا کہ جامع الفصولین میں ہے:” وصغير البيض وكبيره سواء بعد ان يكون من جنس واحد “(جامع الفصولین،ج2،ص97)یہ بات اس وقت تو ٹھیک ہے کہ جب چھوٹے اور بڑے انڈوں کا مارکیٹ میں ریٹ ایک جیسا ہو، ورنہ اگرسائز میں اتنا فرق ہے کہ جس سے چھوٹے اور بڑے کے ریٹ میں فرق ہوجاتا ہے، تو اب چھوٹے انڈے بڑے انڈوں کی مثل شمار نہیں ہوں گے، بلکہ بڑے انڈے ، دوسرے بڑے انڈوں کی مثل شمار ہوں گے اور چھوٹے انڈے ، دوسرے چھوٹے انڈوں کی مثل شمار ہوں گے۔ ساجد (4)البتہ اس کےقیمی ہونے کا بھی قول ہے چنانچہ علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس کے مثلی ہونے کی بات نقل کرنے کے بعد لکھا: ” ومقتضى ما قدمناه عن الحاوی انه قيمی والمشاهد تفاوته تأمل “( رد المحتار، 6/ 184، دار الفکر )۔ ساجد (5) ان کو فقہائے کرام نے اپنے زمانے کے عرف کے اعتبار سے عددی (گن کر بکنے والی چیزوں میں )شمار کیا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر زمانے میں یہ عددی ہوں ، جیسا کہ آج کل یہ چیزیں وزن سے بکتی ہیں ۔واللہ تعالی اعلم۔ ساجد (6)تر پھولوں کی پتیاں آج کل وزن سے بکتی ہیں، شادی بیاہ کی رسموں اور محافل میں ان کا استعمال عام ہے،جس کی وجہ سے یہ پورا سال بازار میں دستیاب بھی ہوتی ہیں۔اس طرح کی پتیاں قیمی نہیں، بلکہ مثلی کہلائیں گی۔ واللہ تعالی اعلم۔ ساجد (7)فی زمانہ بعض لکڑیاں بالکل ایک جیسی بازار سے مل جاتی ہیں اور ان کی قیمت میں بھی فرق نہیں ہوتاجیسے دروازے اور الماریاں بنانے والی لکڑیاں ،پلائی کی شیٹیں وغیرہ،تو یہ قیمی نہیں، بلکہ مثلی شمار ہوں گی۔ (8)البتہ بعض جزئیات میں اسے مثلی بھی کہا گیا ہے چنانچہ علامہ شامی علیہ الرحمۃ اس کے قیمی ہونے کا ذکرکرنے کے بعد لکھتے ہیں:” كذا قال فی الفصولين وذكر قبله عن كتاب آخر انه مثلی، لانه يباع وزنا وما يباع وزنا يكون مثليا “( رد المحتار، 6/184، دار الفکر،بیروت )۔ ساجد (9)اور اس کے مثلی ہونے کا بھی قول ہے ،چنانچہ العقود الدریہ میں ہی ایک اور جگہ ہے:” الفحم مثلی “( العقود الدریہ ، 2/ 162،دار المعرفہ ) لہذا آج کل جو کوئلاوزن سے بکتا ہےا ور اس میں آگ نے عمل نہیں کیا ہوتااور بازار میں اس کی مثل بلا تفاوت دستیاب ہوتی ہے، اسے مثلی ہی شمار کرنا چاہیے ۔ واللہ تعالی اعلم۔ساجد (10)اینٹ کے جس طرح قیمی ہونے کی روایت ہے،اسی طرح اس کے مثلی ہونے کی بھی روایت ہے۔ چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے : ” فی كون الآجر واللبن مثليا روايتان عن ابي حنيفة رحمه اللہ تعالى كذا فی القنية “( فتاوی ھندیہ، 5/ 120، دار الفکر )آج کل مختلف کوالٹی کی اینٹیں ملتی ہیں اور ایک ہی کوالٹی کی جتنی اینٹیں ہوتی ہیں، ان سب کا ریٹ ایک جیسا ہوتا ہےاو رپکائی کے معمولی فرق کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے، توظاہریہی ہے کہ فی زمانہ یہ عددی متقارب اور مثلی شمار ہوں گی اور امام اعظم سے مروی ہونے والی دوسری روایت جس میں اینٹوں کو مثلی شمار کیا گیا ہے ، وہ اسی طرح کی اینٹوں پر محمول ہوگی۔واللہ تعالی اعلم۔ ساجد (11)مذکورہ مصنوعات کوفقہائےکرام نے اپنے دور کی صنعت کے لحاظ سے قیمی قرار دیاہے ، جبکہ آج کے اس جدید دور میں ہر چیز کی صنعت میں ترقی ہو چکی اور اس طرح کی مصنوعات جب ایک کمپنی بناتی ہے،تو کمپنی ایک چیز کے جتنے افراد (pieces) تیار کرتی ہے ،وہ ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں اور قیمت میں بھی تفاوت نہیں ہوتا، اس لیے ایسی چیزیں اگر مارکیٹ میں دستیاب ہوں، تو انہیں مثلی شمار کیا جائے گا۔واللہ تعالی اعلم۔ ساجد (12)جدید صنعتی طریقہ کار کے مطابق فی زمانہ ممکن ہے کہ ایک ہی طرح کا پنیر دستیاب ہوتا ہو۔ ساجد (13) واضح رہے کہ متاخرین فقہائےکرام نے امام محمد علیہ الرحمۃ کے قول پر فتوی دیتے ہوئے کہ روٹی تول کر اور گن کر قرض لینا جائز قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ روٹیوں میں جو معمولی تفاوت اور فرق ہوتا ہے ،لوگ اس کو کالعدم شمار کرتے ہیں۔قال فی الدرالمختار :” ويستقرض الخبز وزنا وعددا ) عند محمد وعليه الفتوى ابن مالك واستحسنه الكمال واختاره المصنف تيسيرا وقال فی ردالمحتار : ” ( قوله وعليه الفتوى ) وهو المختار لتعامل الناس وحاجاتهم إليه ط عن الاختيار وما عزاه الشارح إلى ابن مالك ذكره في التتارخانية أيضا كما قدمناه في فصل القرض ( قوله واستحسنه الكمال ) حيث قال ومحمد يقول: قد أهدر الجبران تفاوته وبينهم يكون اقتراضه غالبا والقياس يترك بالتعامل، وجعل المتأخرون الفتوى على قول أبي يوسف وأنا أرى أن قول محمد أحسن “( درمختار و رد المحتار، 5/ 185 )اور بہار شریعت میں ہے :” روٹیوں کو گن کر بھی قرض لے سکتے ہیں اور تول کربھی۔ “( بھار شریعت، 2/756، مکتبۃ المدینہ ) ساجد (14)اس جزئیہ میں دونوں جگہ اصل نسخے میں”قیمتی“لکھا ہوا ہے اور وہ کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے، اصل عبارت یوں ہونی چاہیے’’ کتاب کو علماء نے قیمی ٹھہرایا ہے‘‘اور”کتاب قیمی ہے۔“جیساکہ سیاق و سباق سے واضح ہے۔ہم نے دونوں جگہ صحیح کرکے لکھ دیا ہے۔ ([15])فتاوی رضویہ میں ہے:’’قول کی دو قسمیں ہیں:(۱) قولِ صوری (۲) قولِ ضروری۔قول صوری وہ جو کسی نے صراحتاً یعنی واضح الفاظ میں کہا ہو اور قول ضروری وہ ہے، جسے قائل نے صراحتاًتو نہ کہا ہو،لیکن وہ کسی ایسے عموم کے ضمن میں اس کا قائل ہو، جس سے ضروری طو ر پر یہ حکم برآمد ہوتا ہےبایں طور کہ اگر وہ اس خصوص میں کلام کرتا،تو اس کا کلام ایسا ہی ہوتا۔پھر کبھی حکم ضروری ، حکم صوری کے خلاف بھی ہوتا ہے ،ایسی صورت میں حکم ضروری حکمِ صوری پر راجح ہوتا ہے، یہاں تک کہ صوری کو لینا قائل کی مخالفت شمار ہوتا ہے اور حکم صوری چھوڑ کر حکم ضروری کی طر ف رجوع کو قائل کی موافقت یا اس کی پیروی کہا جاتا ہے۔مثال: زید نیک شخص تھا،عمر و نے اپنے خادموں کو صراحتاًزید کی تعظیم کا حکم دیا اور بار بار ان کے سامنے اس حکم کی تکرار بھی کرتا رہا،لیکن اس سے ایک زمانہ پہلے ان خدام کو ہمیشہ کے لیے کسی فاسق کی تعظیم کرنے سے منع بھی کر چکا تھا ۔اب کچھ دنوں بعد زید فا سق معلن ہوگیا ، اب اگر عمر و کے خدام اس کے صریح حکم پر عمل کرتے ہوئے زید کی تعظیم کریں، توعمر و کے نافرمان شمار ہوں گے اور اگر اس کی تعظیم ترک کر دیں، تو اطا عت گزار ٹھہریں گے۔ ‘‘ ( فتاوی رضویہ ملخصاً،ج1،ص109تا110،مطبوعہ،لاھور ) (16) البتہ یہ واضح رہے کہ کسی کی چیز ضائع کر دی گئی ہو، تو تاوان لینے میں چیز کے نئے پرانے ہونے اور کوالٹی کے کم یا زیادہ ہونے کا بھی لحاظ رکھا جاتا ہے، لہذا استعمال شدہ اور ردی قسم کی چیز کے تاوان میں نئی اور اعلی قسم کی چیز کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا ، جیسا کہ اسی کتاب کے تیسرے باب کی پہلی فصل میں صفحہ 39تا40پر اس حوالے سے علماء کا کلام گزرا ہے۔ساجد

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن