30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ غار حرا حضور انور کا چلہ گاہ ہے جو جبل نور کی چوٹی پر واقع ہے،یہ جبل نور مکہ معظمہ سے قریبًا دو میل فاصلہ پر جنت معلی سے آگے ہے،فقیر نے اس غار شریف میں نفل پڑھے ہیں۔
۵؎ یعنی کچھ روٹیاں پکوا کر وہاں غارِ حرا میں لے جاتے اور آٹھ دس دن تک باسی تہ باسی روٹیاں کھاتے،وہاں روزے نوافل، رکوع سجود ادا کرتے رہتے تھے۔اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضور انور نزول قرآن سے پہلے ہی عارف بالله تھے اور عبادات ریاضات سے واقف تھے۔جو کہے کہ حضور صلی الله علیہ و سلم نے قرآن سے الله تعالیٰ کو جانا پہچانا اور قرآن سے عبادات سیکھیں وہ جھوٹا ہے۔دیکھو ابھی قرآن کریم آنا بھی شروع نہ ہوا اور حضور عبادات کر رہے ہیں۔دوسرے یہ کہ بزرگوں کے چلے اور چلوں میں ریاضات،ترک حیوانات کرنا،روزے رکھنا،کم کھانا،معمولی کھانا سب درست ہیں ان سب کی اصل یہ ہی حدیث ہے۔خیال رہے کہ ام المؤمنین کا اس زمانہ کو راتیں فرمانا اس لیے ہے کہ خلوت کے لیے رات ہی مناسب ہے۔ذوات عدد فرماکر بتایا کہ بہت راتوں تک عبادت کرتے تھے،ذوات عدد کثرت کے لیے ہے۔
۶؎ اس میں گفتگو ہے کہ اس زمانہ میں حضور کونسی عبادت کرتے تھے۔حق یہ ہے کہ حضور انور کسی نبی کی شریعت والی عبادت نہیں کرتے تھے کیونکہ حضور صلی الله علیہ و سلم کسی نبی کے امتی نہیں بلکہ اجتہاد اور رائے سے عبادت کرتے تھے جو عبادت ابراہیمی یعنی اسلامی عبادت کے موافق تھیں۔(شامی شروع کتاب الطہارۃ اور شروع کتاب الصلوۃ)کلمہ طیبہ کا ذکر،الله کی صفات میں فکر، اعتکاف،رکوع،سجود وغیرہ(مرقات)میں تو ایک بار غار میں حاضر ہوا ہوں میرے ساتھیوں کو بخار آگیا تھا،سخت دشوار بہت اونچا اور پیچیدہ راستہ ہے۔قربان ان نرم و نازک تلوؤں پر جو ہر ہفتہ وہاں سے چڑھتے اترتے تھے۔
۷؎ یعنی جبریل علیہ السلام حاضر ہوئے وحی لے کر،بعض نے فرمایا یہ اسرافیل علیہ السلام تھے۔(مرقات)یہ فرشتہ الله کا فرمان بھی لایا اور فیضان بھی سینہ سے لگا کر دیا فرمان زبانی پہنچایا جیساکہ آرہا ہے۔خیال رہے کہ اس وقت پہلے فرشتے نے اپنا تعارف نہیں کرایا کہ میں رب کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں جیسے جناب مریم سے کہا تھا"اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوۡلُ رَبِّکِ"نہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم کون ہو کہاں سے ہو کیونکہ آئے ہو۔معلوم ہوا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم انہیں پہلے سے جانتے پہچانتے تھے اگر نہ پہنچانتے تو آیۃ کریمہ"اِقْرَاۡ بِاسْمِ رَبِّکَ"کا قرآن ہونا بھی نہ جانتے،یہ نہ جاننا شانِ نبوت بلکہ شان اسلام کے خلاف ہے۔قرآن کا جاننا پہچاننا ماننا فرض ہے بغیر جانے مانے گا کیا،بعض روایات میں ہے کہ حضور انور کو حریر ریشم کا ایک ٹکڑا دیا جس پر یہ سورت لکھی تھی اور کہا اسے پڑھئے۔(اشعہ)یا یہ معنی ہیں کہ جو میں پڑھاؤں وہ پڑھیئے۔(مرقات)مگر یہ دونوں توجیہیں قوی نہیں۔ظاہر یہ ہے کہ عرض کیا جو ذکر اور الله کا نام پہلے ہی سے آپ کے دل شریف پرنقش ہے وہ پڑھیئے اس لیے اقراء کا مفعول بیان نہ کیا کہ کیا پڑھئے۔
۸؎ عام شارحین اس کے معنی کرتے ہیں کہ مجھے پڑھنا نہیں آتا میں امی ہوں مگریہ قوی نہیں کیونکہ حضور انور کو رب نے لکھنے کی مشق نہیں دی تھی یہ ہی معنی ہیں امی کے۔(اشعہ)حضور کو الله کا نام لینا اس کا ذکر کرنا تو اول ہی سے آتا تھا آپ تو اس غار میں عبادات ذکر الله عرصہ سے کر رہے تھے اور اگر یہ معنی ہوں کہ میں نے پڑھنا کسی سے سیکھا نہیں تو حضرت جبریل یہ تو جانتے ہی تھے پھر اس سوال و جواب کے کیا معنی بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اے جبریل اس وقت میں نہیں پڑھنے والا اس وقت تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع