30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5841 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ فِي النَّوْمِ فَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّ حُبِّبَ إليهِ الخَلاءُ وكانَ يَخْلُو بغارِ حِراءٍ فيتحنَّثُ فِيهِ - وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ - قَبْلَ أَنْ يَنْزِعَ إِلَى أَهْلِهِ وَيَتَزَوَّدَ لِذَلِكَ ثُمَّ يَرْجِعَ إِلَى خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدَ لِمِثْلِهَا حَتَّى جَاءَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فَقَالَ: اقْرَأْ. فَقَالَ: «مَا أَنَا بِقَارِئٍ» . قَالَ: " فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ: اقْرَأْ. فَقُلْتُ: مَا أَنَابِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ: اقْرَأْ. فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ. فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجهد ثمَّ أَرْسلنِي فَقَالَ: [اقرَأْ باسمِ ربِّكَ الَّذِي خَلَقَ. خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ. اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ. الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ. عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لم يعلم] ". فَرجع بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ فَدَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ فَقَالَ: «زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي» فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ فَقَالَ لخديجةَ وأخبرَها الخبرَ: «لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي» فَقَالَتْ خَدِيجَةُ: كَلَّا وَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وتقْرِي الضيفَ وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ثُمَّ انْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ إِلَى وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ابْنِ عَمِّ خَدِيجَةَ. فَقَالَتْ لَهُ: يَا ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ. فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ: يَا ابْنَ أَخِي مَاذَا تَرَى؟ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَ مَا رَأَى. فَقَالَ وَرَقَةُ: هَذَا هُوَ النَّامُوسُ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُوسَى يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا يَا لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا إِذْ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَ مُخْرِجِيَّ هُمْ؟» قَالَ: نَعَمْ لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمِثْلِ مَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرُكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا. ثُمَّ لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَةُ أَنْ تُوَفِّيَ وَفَتَرَ الوحيُ. |
روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے ۱؎ فرماتی ہیں کہ اولًا جس وحی کی رسول الله صلی الله علیہ و سلم پر ابتداء ہوئی وہ سوتے میں سچی خواب تھی۲؎ کہ آپ کوئی خواب نہ دیکھتے مگر وہ صبح کے ظہور کی طرح ظاہر ہوجاتی۳؎ پھر حضور کو خلوت پسند ہوگئی تو غار حرا میں خلوت کرتے تھے وہاں اس میں عبادت کرتے۴؎ تحنث کےمعنی ہیں اپنے گھر لوٹنے سے پہلے چند راتیں عبادت کرنا حضور اس کے لیے توشہ لے جاتے تھے۵؎ پھر جناب خدیجہ کی طرف لوٹتے تھے اور اتنی راتوں کے لیے توشہ لے جاتے تھے ۶؎ حتی کہ آپ پر حق آیا جبکہ آپ غار حراء میں تھے آپ کے پاس فرشتہ آیا ۷؎ عرض کیا پڑھئے فرمایا میں نہیں پڑھنے والا۸؎ پھر اس نے مجھے پکڑا مجھے گلے لگایا۹؎حتی کہ اسے مجھ سے مشقت پہنچی۱۰؎پھر مجھے چھوڑ دیا پھر کہا پڑھیئے میں نے کہا میں نہیں پڑھنے والا اس نے مجھے پھر پکڑا پھر مجھے دوبارہ گلے لگایا حتی کہ اس کو مجھ سے مشقت پہنچی پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا پھر کہا پڑھیئے میں نے کہا میں نہیں پڑھنے والا اس نے مجھے تیسری بار پکڑا اور مجھے گلے لگایا حتی کہ اسے مجھ سے مشقت پہنچی پھر مجھے چھوڑ دیا ۱۱؎ پھرکہا پڑھیئے اپنے رب کا نام جس نے سب کچھ بنایا،جس نے جمے خون سے انسان بنایا پڑھیئے اور آپ کا رب عزت والا ہے جس نے قلم سے سکھایا ۱۲؎ انسان کو وہ سب سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا۱۳؎ یہ وحی لے کر رسول الله صلی الله علیہ و سلم واپس ہوئے اس طرح کہ آپ کا دل کانپ رہا تھا۱۴؎ جناب خدیجہ کے پاس گئے فرمایا مجھے چادر اوڑھا دو انہوں نے حضور کو چادر اوڑھائی حتی کہ آپ سے رعب جاتا رہا ۱۵؎ پھر بی بی خدیجہ کو یہ خبر دے کر فرمایا کہ میں اپنی جان پر خوف کرتا ہوں۱۶؎ خدیجہ بولیں رب کی قسم ہرگز نہیں الله آپ کو کبھی غمگین نہ کرے گا ۱۷؎کیونکہ آپ رشتہ جوڑتے ہیں،بات سچی کرتے ہیں، دوسروں کے بوجھ اٹھاتے ہیں،نیستی والوں کے لیے کمائی کرتے ہیں،مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں، حق کی طرف لے جانے والوں کی مدد کرتے ہیں ۱۸؎ پھر حضور کو جناب خدیجہ ورقہ ابن نوفل کے پاس لےگئیں جو خدیجہ کے چچا زاد تھے ۱۹؎ ان سے بولیں اے چچیرے بھائی آپ اپنے بھتیجے سے تو سنیے۲۰؎ حضور نے ورقہ سے کہا اے میرے بھتیجے تم کیا دیکھتے ہو ۲۱؎ انہیں رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے وہ خبریں سنائیں جو آپ نے دیکھا تھا تو وررقہ نے کہا یہ وہی فرشتہ ہے جو الله نے موسیٰ علیہ السلام پر اتارا تھا۲۲؎ ہائے کاش میں اس زمانہ میں قوی جوان ہوتا۲۳؎ ہائے کاش میں زندہ ہوتا جب کہ آپ کو آپ کی قوم نکالے گی۲۴؎ تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ لوگ مجھے نکالیں گے عرض کیا ہاں۲۵؎ کوئی صاحب وہ پیغام نہ لائے جو آپ لائے ہیں مگر ان سے دشمنی کی گئی۲۶؎ اور اگر مجھ کو آپ کا وہ زمانہ نصیب ہو تو میں آپ کی بلیغ مددکروں۲۷؎ پھر ورقہ نہ ٹھہرے کہ ان کی وفات ہوگئی اور وحی بند ہوگئی ۲۸؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یہ حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی مرسل حدیث ہے یعنی صحابی کے مراسیل میں سے ہےکیونکہ وہ زمانہ حضرت عائشہ صدیقہ نے پایا نہیں۔غالب یہ ہے کہ کسی صحابی سے سن کر فرما رہی ہیں،صحابی کی مرسل حدیث سب کے نزدیک حجت ہے۔ (مرقات)اور ہوسکتا ہے کہ ام المؤمنین حضور سے سن کر فرمارہی ہوں مگر کسی روایت میں آپ نے حضور انور سے نقل نہ فرمائی۔
۲؎ اگرچہ حضور انور کو ہمیشہ ہی سچی خوابیں آتی تھیں مگر قریب ظہور نبوت یعنی چھ ماہ پہلے ان خوابوں کا سلسلہ بندھ گیا اور تعبیر کا ظہور بہت جلد ہونے لگا۔
۳؎ یعنی حضور کی خواب کا ظہور بہت جلد اور بالکل درست ہوتا تھا جیسے رات کے بعد بہت جلد سویرا ہوتا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع