دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

5832 -[32]

وَعَن عَليّ أَنَّ يهوديّاً يُقَالُ لَهُ: فُلَانٌ حَبْرٌ كَانَ لَهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَنَانِيرُ فَتَقَاضَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: «يَا يَهُودِيُّ مَا عِنْدِي مَا أُعْطِيكَ» . قَالَ: فَإِنِّي لَا أُفَارِقُكَ يَا مُحَمَّدُ حَتَّى تُعْطِيَنِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذًا أَجْلِسُ مَعَكَ» فَجَلَسَ مَعَهُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ الْآخِرَةَ وَالْغَدَاةَ وَكَانَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَدَّدُونَهُ وَيَتَوَعَّدُونَهُ فَفَطِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا الَّذِي يَصْنَعُونَ بِهِ. فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَهُودِيٌّ يَحْبِسُكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنَعَنِي رَبِّي أَنْ أَظْلِمَ مُعَاهِدًا وَغَيْرَهُ» فَلَمَّا تَرَجَّلَ النَّهَارُ قَالَ الْيَهُودِيُّ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ وَشَطْرُ مَالِي فِي سبيلِ الله أَمَا وَاللَّهِ مَا فَعَلْتُ بِكَ الَّذِي فَعَلْتُ بِكَ إِلَّا لِأَنْظُرَ إِلَى نَعْتِكَ فِي التَّوْرَاةِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلِدُهُ بِمَكَّةَ وَمُهَاجَرُهُ بِطَيْبَةَ وَمُلْكُهُ بِالشَّامِ لَيْسَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِيظٍ وَلَا سَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا مُتَزَيٍّ بِالْفُحْشِ وَلَا قَوْلِ الْخَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ وَهَذَا مَالِي فَاحْكُمْ فِيهِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ وَكَانَ الْيَهُودِيُّ كَثِيرَ المالِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي «دَلَائِل النُّبُوَّة»

روایت ہے حضرت علی سے کہ ایک یہودی جس کا نام فلاں پادری تھا  ۱؎  اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ دینار قرض تھے۲؎ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تقاضا کیا۳؎ حضور نے اس سے فرمایا کہ اے یہودی میرے پاس کچھ نہیں ہے جو تجھے دوں۴؎  وہ بولا کہ میں آپ کو چھوڑوں گا نہیں حتی کہ آپ مجھے قرضہ ادا کردیں ۵؎ تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تب تو میں تیرے ساتھ ہی بیٹھوں گا آپ اس کے ساتھ بیٹھ گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر عصر مغرب عشاء آخری اور فجر کی نمازیں پڑھیں ۶؎  اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اسے ڈراتے دھمکاتے تھے۷؎  تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھ لیا ۸؎  جو وہ اس کے ساتھ کرتے تھے،صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ ایک یہودی آپ کو روکے ہوئے ہے ۹؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے میرے رب نے اس سے منع فرمایا ہے کہ کسی عہد والے کافر وغیرہ پر ظلم کروں۱۰؎ پھر جب دن چڑھ گیا تو یہودی بولا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی مبعود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں ۱۱؎  اور میرا آدھا مال اللہ کی راہ میں ہے۱۲؎ حضور جو کچھ میں نے آپ کے ساتھ برتاؤ کیا یہ صرف اس لیے کہ میں آپ میں صفات دیکھ لوں جو توریت میں ہیں۱۳؎  کہ محمدعبداللہ کے بیٹے ہیں،ان کی جائے ولادت مکہ اور جائے ہجرت طیبہ ہے اور ان کی سلطنت شام میں ہے۱۴؎ نہ تو سخت دل ہیں نہ سخت زبان اور نہ بازاروں میں شور مچانے والے،نہ تو بری باتوں سے متصف ہیں اور نہ سخت کلام برے کلام سے۱۵؎  میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں اور یہ ہے میرا مال آپ اس میں وہ فیصلہ فرمائیں جو اللہ آپ کو دکھائے ۱۶؎ یہودی بہت بڑا مال دار تھا ۱۷؎ (بیہقی دلائل النبوۃ)

۱؎ یعنی حضرت علی نے اس یہودی کا نام بتایا تھا مگر راوی کو یاد نہ رہا تھا وہ اپنے مذہب کا بڑ ا عالم تھا۔حبر عالم یہود کو کہتے ہیں، جمع ہے احبار،محدثین نے بھی اس یہودی کا نام نہ بتایا۔

۲؎  یعنی حضور انور نے اس یہودی پادری سے ضرورۃً چند اشرفیاں قرض لی تھیں۔اس سے معلوم ہوا کہ کفار سے مالی معاملات حتی کہ قرض کا لین دین بھی جائز ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ جس کا مال مخلوط ہو کہ اس کی کمائی حرام بھی ہو حلال بھی اس سے قرض ہدیہ لینا درست ہے،دیکھو یہود کے متعلق قرآن کریم فرماتاہے:"اَکّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ "یہ بڑے حرام خور ہیں،رشوتیں، سود جوئے بھی ان کی کمائیاں تھیں مگر حضور انور نے ان سے قرض لیا،اس سے بہت دینی مسئلے حاصل ہوں گے۔

۳؎  اس یہودی کا یہ تقاضا مقررہ مدت سے پہلے تھا۔خیال رہے کہ قرض یعنی دست گرداں میں مدت مقرر لازم نہیں ہوتی،قرض خواہ طے شدہ وقت سے پہلے بھی تقاضا کرسکتا ہے مگر کاروباری قرض جسے دین کہتے ہیں جیسے کوئی چیز خریدی اس کی قیمت قرض کرلی اس میں طے شدہ مدت سے پہلے قرض خواہ کو تقاضا کرنے کا حق نہیں ہوتا۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن