30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5830 -[30] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ يَتَحَدَّثُ يُكْثِرُ أَنْ يَرْفَعَ طَرْفَهُ إِلَى السَّمَاء. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن سلام سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب باتیں کرنے بیٹھتے تو اپنی نگاہ شریف آسمان کی طرف زیادہ اٹھاتے تھے۲؎(ابوداؤد) |
۱؎ آپ کی کنیت ابو یوسف ہے،حضرت یوسف علیہ السلام کی اولاد سے ہیں،توریت کے بڑے عالم تھے،آپ کے فرزند ہیں یوسف اور محمد وغیرہم، ۴۳ھ تینتالیس میں مدینہ منورہ میں وفات پائی وہاں ہی دفن ہوئے۔(اکمال)
۲؎ یہ نظر کا اٹھنا انتظار وحی میں ہوتا تھا۔(مرقات،اشعہ)اور نہ معلوم قدرت کے کیا کیا نظارے کرتے ہوں گے،رب فرماتا ہے: "قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَآءِ"۔
|
5831 -[31] عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُهُ مُسْتَرْضَعًا فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ فَكَانَ يَنْطَلِقُ وَنَحْنُ مَعَهُ فَيَدْخُلُ الْبَيْتَ وَإِنَّهُ لَيُدَّخَنُ وَكَانَ ظِئْرُهُ قَيْنًا فَيَأْخُذُهُ فَيُقَبِّلُهُ ثُمَّ يَرْجِعُ. قَالَ عَمْرٌو: فَلَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ابْنِي وَإِنَّهُ مَاتَ فِي الثَّدْيِ وَإِنَّ لَهُ لَظِئْرَيْنِ تُكْمِلَانِ رَضَاعَهُ فِي الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ |
روایت ہے حضرت عمرو ابن سعید سے وہ حضرت انس سے راوی ہیں فرماتے ہیں کہ میں نے کسی کو نہ دیکھا جو بال بچوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مہربان ہو ۱؎ آپ کے فرزند ابراہیم۲؎ بیرون مدینہ میں شیرخوارگی کرتے تھے ۳؎ تو آپ تشریف لے جاتے تھے ہم آپ کے ساتھ ہوتے تھے آپ گھر میں تشریف لے جاتے حالانکہ وہاں دھواں ہوتا تھا ان کا رضاعی والد لوہار تھا۴؎ آپ بچے کو لیتے اسے چومتے پھر لوٹ آتے۵؎ حضرت عمرو نے فرمایا پھر جب ابراہیم وفات پاگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا بچہ ابراہیم شیرخوارگی میں وفات پاگیا ۶؎ اس کے لیے دو دوائیاں مقرر ہیں جو اس کی شیر خوارگی جنت میں پوری کریں ۷؎(مسلم) |
۱؎ عیال بنا ہے عول سے بمعنی پرورش ہر پروردہ پالنے والے کا عیال ہے،رب فرماتاہے:"وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰی"ہم نے آپ کو بڑا عیال والا پایا تو غنی کردیا۔یہاں عیال سے مراد یا تو بیویاں بچے ہیں یا ساری حضور کی امت ہے کہ سب لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردہ ہیں۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ بعض نسخوں میں بالعباد ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بال بچوں پر بہت ہی مہربان تھے یا اپنی امت پر بہت ہی مہربان ہیں،پہلے معنی کی تائید تو اگلا واقعہ کررہا ہے دوسرے معنی کی تائید وہ آیت ہے"بِالْمُؤْمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ"۔
۲؎ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چار بیٹے تھے اور چار بیٹیاں: بیٹے تو طیب،طاہر،قاسم،ابراہیم ہیں۔صاحبزادیاں زینب،رقیہ، کلثوم،فاطمہ ہیں رضی اللہ عنہم ساری اولاد حضرت خدیجۃ الکبری کے بطن شریف سے تھیں سوائے حضرت ابراہیم کے کہ وہ جناب ماریہ قبطیہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع