30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5824 -[24] وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَافَحَ الرَّجُلَ لَمْ يَنْزِعْ يَدَهُ مِنْ يَدِهِ حَتَّى يَكُونَ هُوَ الَّذِي يَنْزِعُ يَدَهُ وَلَا يَصْرِفُ وَجْهَهُ عَنْ وَجْهِهِ حَتَّى يَكُونَ هُوَ الَّذِي يَصْرِفُ وَجْهَهُ عَن وَجهه وَلم يُرَ مقدِّماً رُكْبَتَيْهِ بَين يَدي جليس لَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص سے مصافحہ کرتے تھے تو اپنا ہاتھ نہ کھینچتے حتی کہ وہ ہی اپنا ہاتھ کھینچتا تھا ۱؎ اور آپ اپنا منہ اس کے منہ سے نہیں پھیرتے تھے حتی کہ وہ ہی اپنا منہ حضور کے چہرے سے پھیرتا اور حضور کو کبھی نہ دیکھا گیا کہ حضور اپنے ہم نشین کے سامنے گھٹنے پھیلا کر بیٹھے ہوں۲؎(ترمذی) |
۱؎ الرجل اس لیے فرمایا گیا کہ حضور انور نے کبھی کسی عورت سے مصافحہ نہیں کیا،مردوں سے اکثر مصافحہ فرمایا،کبھی کسی سے معانقہ یعنی گلے ملنا بھی فرمایا ہے جیسے حضرت جعفر یا حضرت زید ابن حارثہ رضی اللہ عنہم۔یہ حضور کے اخلاقِ کریمانہ ہیں کہ کسی سے جب مصافحہ فرماتے تو اپنا ہاتھ نہ کھینچے وہ جنتی دیر تک آپ کا ہاتھ تھامے رہتا آپ بھی ویسے ہی اس کا ہاتھ پکڑے رہتے وہ دستگیر عالم جو ہوئے۔
۲؎ یعنی حضور انور کبھی کسی مجلس میں کسی کی طرف پاؤں پھیلا کر نہیں بیٹھتے تھے نہ اولاد کی طرف،نہ ازواج پاک کی طرف،نہ غلاموں خادموں کی طرف کہ اس عمل سے شاید اس کو تکلیف ہو کہ اس میں سامنے والے کی تحقیر ہوتی ہے،نیز یہ طریقہ متکبرین اور غرور والوں کا ہے۔دوسروں کی طرف پاؤں پھیلا کر بیٹھنا اپنی عزت اس کی حقارت ظاہر کرنا اللہ تعالٰی ہم سب کو اخلاق محمدی نصیب کرے۔آمین!
|
5825 -[25] وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَدَّخِرُ شَيْئًا لِغَدٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے انہیں سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل کے لیے کوئی چیز ذخیرہ نہ کرتے تھے ۱؎(ترمذی) |
۱؎ یعنی اپنی ذات کریم کے لیے کوئی چیز کل کے لیے نہ رکھتے،روزانہ حالت یہ ہوتی تھی کہ نیا روز نئی روزی یہ انتہائی توکل ہے۔رہا مہمانوں اور گھر والوں کا معاملہ اس کے متعلق طریقہ یہ تھا کہ فتح خیبر سے پہلے تو گھر شریف میں بھی کچھ نہ ہوتاتھا دو دو ماہ صرف کھجوروں اور پانی پر گزارہ کبھی بالکل فاقہ۔شعر
اور کبھی تھوڑے چھوارے کھانا پانی پی کر پھر رہ جانا دو دو مہینے یوں ہی گزارا صلی اللہ علیہ وسلم
جس کی تمنا روز نہ کھانا اک دن فاقہ اک دن کھانا جس دن کھانا شکر کا کرنا صلی اللہ علیہ وسلم
مگر فتح خیبر کے بعد ہر بی بی صاحبہ کو ایک سال کے لیے جو اور کھجوریں عطا فرمادیتے تھے وہ ذخیرہ بال بچوں اور مہمانوں کے لیے ہوتا تھا۔(مرقات و اشعہ)لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں کیونکہ سب کو تو حضور کا سا توکل میسر نہیں۔شعر
ہوسیا آداب دانا دیگر اند سوختہ جان در داناں دیگر اند
|
5826 -[26] وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوِيلَ الصَّمْتِ. رَوَاهُ فِي «شرح السّنة» |
روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دراز خاموشی والے تھے ۱؎(شرح سنہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع