دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

۳؎  خیال رہے کہ حضور انور کے سر یا کپڑوں میں جوئیں پڑتی نہ تھیں ہاں دوسرے کی چڑھ جاتی تھیں وہ آپ اپنے کپڑوں سے صاف کرتے تھے اور ام حرام آپ کے سر شریف سے نکالتی تھیں،ہاں مکھی جسم پاک پر نہیں بیٹھتی تھی مچھر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا نہ دیتے تھے۔(اشعہ)بعض شارحین نے فرمایا کہ کبھی ایک دو جوں پڑجاتی جوں پڑنا صفائی خون کی علامت ہے اس لیے جذامی کے سریا کپڑوں میں جوں نہیں ٖپڑتی مگر فقیر کے نزدیک پہلی بات قوی ہے۔

۴؎  یعنی اپنے کام خود آپ بھی کرلیتے تھے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ حضرت انس اور دوسرے صحابہ حضور انور کی خدمت کرتے تھے۔

5823 -[23]

وَعَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: دَخَلَ نَفَرٌ عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَقَالُوا لَهُ: حَدِّثْنَا أَحَادِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُنْتُ جَارَهُ فَكَانَ إِذَا نزل الْوَحْيُ بَعَثَ إِلَيَّ فَكَتَبْتُهُ لَهُ فَكَانَ إِذَا ذَكَرْنَا الدُّنْيَا ذَكَرَهَا مَعَنَا وَإِذَا ذَكَرْنَا الْآخِرَةَ ذَكَرَهَا مَعَنَا وَإِذَا ذَكَرْنَا الطَّعَامَ ذَكَرَهُ مَعَنَا فَكُلُّ هَذَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت خارجہ ابن زید ابن ثابت ۱؎ سے فرماتے ہیں کہ ایک جماعت زید ابن ثابت کے پاس آئی وہ بولے ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں سنایئے فرمایا کہ میں حضور کا پڑوسی تھا۲؎ تو جب آپ پر وحی نازل ہوتی تو مجھے بلاتے میں اسے لکھتا تو جب ہم دنیا کا ذکر کرتے تو آپ بھی وہ ہی ذکر کرتے تھے۳؎  ہمارے ساتھ میں اور جب ہم آخرت کا ذکر کرتے تو آپ بھی ہمارے ساتھ وہ ہی ذکر کرتے اور جب ہم کھانے کا ذکر کرتے تو آپ بھی ہمارے ساتھ وہ ہی ذکر کرتے ۴؎ یہ تمام باتیں میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خبر دے رہا ہوں ۵؎(ترمذی)

۱؎  حضرت زید ابن ثابت تو مشہور صحابی ہیں،کاتب وحی ہیں مگر آپ کے فرزند خارجہ تابعی ہیں،خلافت عثمانیہ کا زمانہ پایا ہے،مدینہ منورہ کے سات قاریوں میں سے ایک ہیں۔

۲؎  یعنی مجھے حضور انور کے پڑوسی ہونے کا شرف حاصل ہے اور میں حضور انور کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہوں کہ پڑوسی اپنے پڑوسی کے حالات سے باخبر ہوتا ہے مجھ سے پوچھو وہ کیسے تھے۔

۳؎  مطلب یہ ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس پاک میں صرف آخرت ہی کا ذکر نہ ہوتا تھا کہ لوگ اکتا جائیں بلکہ دنیا کی برائی یا بھلائی کا ذکر بھی ہوتا تھا۔دنیا نفس کے لیے بری ہے اور آخرت کی کھیتی ہو تو اچھی ہے۔جب ہم دنیا کی کوئی بات کرتے تو حضور انور بھی اس میں شریک ہوجاتے تھے تاکہ معلوم ہو کہ یہ باتیں بھی جائز ہیں۔

۴؎  مگر ان ذکروں میں بہت سے مسائل شرعیہ بھی حاصل ہوجاتے ہیں کیا کھانا چاہیے،کیسے کھانا چاہیے،کون سا کھانا ہم کو مرغوب ہے،اس کھانے میں کیا فوائد ہیں۔حضور کی مجلس علم کی مجلس تھی ہر بات میں تبلیغ و تعلیم تھی۔

۵؎  بعض صوفیاء فرماتے ہیں کہ جو شیخ جلوت میں ہر وقت اللہ اللہ ہی کرتا ہو اور کوئی بات ہی نہ کرتا وہ مکار ہے مجلس میں ہر طرح کا ذکر چاہیے،ہاں جائز ذکر چاہیے ناجائز نہ چاہیے۔رب تعالٰی کو اپنے محبوب حضور محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ادائیں پسند ہیں جو ان اداؤں کی نقل کرے گا وہ خدا کو محبوب ہوگا۔مجلس کی یہ ادا کہ وہاں ہر طرح کا دین کا دنیا کا ذکر ہو محبوب کی ایک ادا ہے تم بھی اس ادا کی نقل کرو۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن