30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یعنی حضور انور نہ تو خود ملامت کرتے نہ کسی کو ملامت کرنے دیتے تھے۔چیز کا درد گھر کی عورتوں کو بہت زیادہ ہوتا ہے اس وجہ سے ازواج پاک ناراض ہوتی تھیں حضور انہیں منع فرماتے تھے۔
۴؎ یعنی اس برتن کی عمر اتنی ہی تھی اور یہ کام رب کی طرف سے یوں ہی ہونے والا تھا انس تو اس کا مظہر ہیں انہیں کچھ نہ کہو۔ اگر ہم لوگ اس طریقہ نبوی پر عمل کریں تو ثواب بھی پاویں اور ہمارے گھر جنت بن جاویں کبھی لڑائی جھگڑے نہ ہوں،گھروں میں فساد لڑائیاں اس چیز کے بھول جانے کی وجہ سے ہوتی ہے۔
|
5820 -[20] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ:لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَلَا سَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو عادۃً بری باتیں کرتے تھے اور نہ تکلفًا ۱؎ نہ بازاروں میں شورکرنے والے تھے۲؎ اور برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے لیکن معافی دیتے تھے اور درگزر کرتے تھے۳؎ (ترمذی) |
۱؎ فحش کے معنی ہیں حد سے بڑھی ہوئی بات،اکثر گالی کو فحش کہتے ہیں۔بعض لوگوں کے منہ سے عادۃً گالیاں نکلتی رہتی ہیں انہیں خیال بھی نہیں ہوتا کہ میرے منہ سے گالی نکل رہی ہے،بعض لوگ گالی گفتاری کے ایسے عادی تو نہیں ہوتے مگر وہ غصہ میں گالیاں بک دیتے ہیں۔پہلی قسم کے لوگ فاحش کہلاتے ہیں،دوسری قسم کے لوگ متفحش۔ اللہ تعالٰی نے اپنے اس ستھرے پاکیزہ طیبہ و طاہر نبی کو ان دونوں عیبوں سے محفوظ رکھا تھا۔
۲؎ حضور انور کبھی بازار تشریف لے جاتے تھے مگر تاجروں گاہکوں کو احکام شرعیہ کی تبلیغ کرنے کے لیے کبھی خرید و فروخت بھی فرماتے تھے۔یہاں اس کی نفی ہے کہ جیسے بعض لوگوں کو بازار میں پھرنے گھومنے بلا وجہ چیزوں کا بھاؤ پوچھنے کی عادت ہوتی ہے اس سے حضور محفوظ تھے۔
۳؎ عفو کے معنی ہیں معافی دینا سزا نہ دینا۔صفح کے معنی ہیں دیکھی کو ان دیکھی بنا دینا،مجرم کی طرف سے منہ پھیر لینا جیسے دیکھا ہی نہیں،اس سے سامنے والے پر بڑا ہی رعب پڑتا ہے ہر بات کی گرفت کرنے سے رعب جاتا رہتا ہے۔بڑے بننے کے لیے صفح درگزر ضروری ہےفرماتاہے:"فَاعْفُ عَنْہُمْ وَاصْفَحْ اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیۡنَ"۔حضور انور اس آیت کے نزول سے پہلے ہی اس پر عامل تھے حضور انور بچپن شریف میں نماز پڑھتے تھے اور قریبًا سارے احکام شرعیہ پر عامل تھے فطری طور پر۔
|
5821 -[21] وَعَنْ أَنَسٍ يُحَدِّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كانَ يعودُ المريضَ وَيتبع الْجِنَازَة ويجيب دَعْوَة الْمَمْلُوك ويركب الْحمار لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَوْمَ خَيْبَرَ عَلَى حِمَارٍ خِطَامُهُ لِيفٌ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» |
روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی ہیں کہ آپ بیماروں کی مزاج پرسی کرتے تھے اور جنازوں کے ساتھ جاتے تھے ۱؎ غلام کی دعوت قبول کرلیتے تھے۲؎ اور دراز گوش پر سوار ہوتے تھے میں نے خیبر کے دن دیکھا آپ ایک گدھے پر سوار تھے جس کی مہار پوست کھجور کی تھی ۳؎ (ابن ماجہ،بیہقی شعب الایمان) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع