دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

۲؎  ظاہر یہ ہے کہ حضور انور راستے سے جارہے تھے کہ یہ مجذوبہ بی بی صاحبہ حاضر ہوکر عرض کرنے لگیں وہ خود حضور انور کے دولت خانہ میں نہ آئی تھی۔(اشعۃ اللمعات)

۳؎ یعنی اگر تو نے مجھ سے کوئی بات تنہائی میں عرض کرنی ہے تو کوئی گلی تجویز کرکے مجھے بتا جہاں میں اکیلے کھڑے ہوکر صحابہ کرام سے جدا ہو کر تیری بات سنوں اور تیرا کام کروں۔

۴؎ اس سے معلوم ہوا کہ گلی کوچہ یا گزر گاہ عام میں کسی عورت کے ساتھ تنہائی خلوت نہیں نہ اس پر خلوت کے احکام جاری ہوں۔(مرقات)اتنی عبارت لکھ کر میں دوپہری میں آرام کے لیے سو گیا،خواب میں اس گنہگار کو اس کی مکمل شرح بتائی گئی وہ یہ ہے کہ خلوت دو قسم کی ہے: خلوت لغویہ،خلوت شرعیہ۔خلوت لغویہ یہ ہے کلام سننے سنانے میں تنہائی ہو کہ کوئی ان کی بات نہ سن سکے اگرچہ دیکھنے دکھانے میں جلوت ہو کہ لوگ دونوں کو دیکھ رہے ہو۔کہ خلوت شرعیہ یہ ہے کہ سننے دیکھنے دونوں کے لحاظ سے خلوت تنہائی ہو کہ نہ کوئی دیکھے نہ کوئی کلام سنے۔خلوت شرعیہ نامحرم کے ساتھ حرام ہے مگر خلوت لغویہ بوقت ضرورت حلال ہے۔یہاں خلوت لغویہ تھی خلوت شرعیہ نہ تھی کہ یہاں گلی میں وہ دیوانی حضور کو الگ لیے کھڑی ہے، راہ گیر یہ ماجرا دیکھ رہے ہیں مگر اس کی عرض و معروض حضور انور کا جواب نہیں سن رہے ہیں۔مسجد کے گوشہ میں گلی کوچہ میں دن کے وقت یہی خلوت ہوسکتی ہے لہذا یہ حدیث اس فرمان عالی کے خلاف نہیں کہ کوئی شخص اجنبی عورت کے ساتھ خلوت نہ کرے نہ اس کے خلاف ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ دیکھ لو یہ میری زوجہ ہیں(الحدیث)کہ وہاں خلوت شرعیہ کا ذکر اور یہاں خلوت لغویہ واقعہ ہوئی۔الحمدلله! فقیر کو یہ خواب میں آج بارہ ذی الحج ۱۳۸۳ھ؁ مطابق بارہ مارچ ۱۹۶۸ء؁ سہ شنبہ کو بوقت دوپہر یہ رہبری فرمائی گئی وہ ہی اس گنہگار نے سپرد قلم کردی،یہ میرے آقا کی کرم نوازی ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔

5811 -[11]

وَعَنْهُ قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا لَعَّانًا وَلَا سَبَّابًا كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْمَعْتَبَةِ: «مَا لَهُ تربَ جَبينُه؟» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تھے فحش گو اور نہ لعنت کرنے والے نہ گالی دینے والے ۱؎ غصہ عتاب میں فرماتے تھے اسے کیا ہوا اس کی پیشانی میں مٹی لگ جاوے ۲؎ (بخاری)

۱؎ یعنی حضور کی عادت کریمہ فحش باتیں کرنے کی کسی پر لعنت پھٹکار کرنے کی نہ تھی،ساری عمر شریف میں ایک بار بھی کسی کو گالی نہ دی،کسی خادم بیوی کو لعنت کے لفظ سے یاد نہ فرمایا۔خیال رہے کہ سباب اور لعان مبالغے کے صیغے ہیں مگر یہاں اصل لعنت اور گالی کی نفی ہے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"وَمَا رَبُّکَ بِظَلّٰمٍ لِّلْعَبِیۡدِ

۲؎ کیسا پیارا کلمہ ہے۔اس کلمے کے دو معنے ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ وہ شخص خواہ ناک رگڑ دے مگر کامیاب نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ اللہ اسے سجدے سجود کی توفیق دے جس سے اس کی پیشانی سجدہ میں لگا کرے،سجدے سے دل میں نرمی پیدا ہوتی ہے کسی نے کیا خوب کہا ہے۔                           ع                            غصہ میں بھی وہ کہتے ہیں کہ تیرا برا نہ ہو

5812 -[12]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:قِيلَ:يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ. قَالَ: «إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں عرض کیا یارسول اللہ مشرکین پر بددعا کیجئے فرمایا میں بددعا کرنے والا نہ بھیجا گیا میں تو رحمت ہی بھیجا گیا ہوں ۱؎(مسلم)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن