30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یعنی اتنی زیادہ بکریاں مانگیں جن سے دو پہاڑوں کے درمیان کا سارا جنگل بھرا ہوا تھا یہ سب بکریاں حضور انور کی اپنی تھیں کہ غزوہ حنین میں مال غنیمت کے خمس میں اتنی بکریاں آپ کو ملی تھیں۔
۲؎ یعنی بغیر دغدغہ بے تأمل یہ سب اسے عطا فرمادیں۔بعض روایات میں ہے کہ سائل نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بکریاں دیکھ کر عرض کیا تھا یارسول اللہ حضور تو بڑے مالدار ہوگئے فرمایا کیسے،اس نے عرض کیا کہ اتنی زیادہ بکریاں آپ کی اکیلے کی مِلک ہیں،فرمایا جا سب تجھے عطا فرمادیں لے جا،وہ حیرت سے حضور کا منہ تکتا رہ گیا۔
۳؎ خیال رہے کہ داتا سخی ہے مگر اس کی دین کے دروازے مختلف ہیں کسی کو جمال دکھا کر ایمان بخش دیا،کسی کو جود و نوال یعنی سخاوت دکھا کر اپنا متوالا بنالیا،کسی کو میدان جہاد میں جلال الٰہی دکھاکر مؤمن بنا دیا ہم جیسے دور افتادہ غلاموں کو اپنا نام سناکر ایمان دے دیا۔ان کا نام،ان کے کام،ان کی صورت،ان کی سیرت سب ہی ایمان بخشنے کا ذریعہ ہیں اس بدوی نے اسی عطا کو حضور کی نبوت کی دلیل بنایا مع اپنی قوم کے مسلمان ہوگیا وہ بکریاں کیا ملیں کہ انہیں ایمان مل گیا۔خیال رہے کہ کسی سے مانگنا عیب ہے اس سے منع فرمایا گیا ہے مگر اللہ رسول سے مانگنا ہم سب کے لیے باعث فخر ہے۔
|
5807 -[7] وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ بَيْنَمَا هُوَ يَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْفَلَهُ مِنْ حُنَيْنٍ فَعَلِقَتِ الْأَعْرَابُ يَسْأَلُونَهُ حَتَّى اضْطَرُّوهُ إِلَى سَمُرَةٍ فَخَطَفَتْ رِدَاءَهُ فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَعْطُونِي رِدَائِي لَوْ كَانَ لِي عَدَدَ هَذِهِ الْعِضَاهِ نَعَمٌ لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ ثُمَّ لَا تَجِدُونِي بَخِيلًا وَلَا كذوباً وَلَا جَبَانًا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت جبیر ابن مطعم سے ۱؎ کہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے حنین کی واپسی کے موقعہ پر ۲؎ تو بدوی لوگ حضور سے لپٹ گئے آپ سے مانگتے تھے حتی کہ آپ کو ایک خاردار درخت کی طرف لے گئے آپ کی چادر الجھ گئی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر گئے فرمایا مجھے میری چادر تو دے دو۳؎ اگر میرے پاس ان درختوں کی برابر جانور ہوتے تو میں تم میں تقسیم کردیتا۴؎ پھر تم مجھے نہ تو کنجوس پاتے نہ جھوٹ بولنے والا نہ بزدل ۵؎(بخاری) |
۱؎ آپ جبیر ابن مطعم ابن عدی ابن نوفل ابن عبدمناف ہیں،قریشی ہیں،بڑے عالم ہیں،حضرت ابوبکر صدیق کے شاگرد اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔(اشعہ)
۲؎ حنین ایک جنگل ہے جو مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ہے،فقیر نے اس کی زیارت کی ہے۔غزوہ حنین فتح مکہ کے بعد واقع ہوا،اسی علاقہ بلکہ اسی قوم کی حضرت حلیمہ دائی تھیں یعنی قبیلہ بنی ہوازن کی اس لیے حضور انور نے تمام قیدیوں کو آزاد فرما دیا جو اس غزوہ میں گرفتار ہوئے تھے۔
۳؎ اس غزوہ میں مال غنیمت بہت زیادہ مسلمانوں کو ملا تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال میں سے زیادہ فتح مکہ میں مسلمان ہونے والے مؤلفۃ القلوب کو بہت مال عطا فرمایا تھا،گذشتہ حدیث کا بکریوں والا واقعہ بھی اس موقعہ پر ہوا تھا۔(اشعۃ اللمعات) یہ لوگ حضور سے ایسے لپٹ گئے تھے جیسے فقراءومساکین ایک کریم غنی کو گھیر لیں حضور کسی منگتے کو ہٹایا نہیں کرتے۔
۴؎ عضاء جمع ہے عضاعۃ کی بمعنی درخت خاردار ببول ہو یا کوئی اور درخت۔
۵؎ یہاں شجاعت صدق کا ذکر اپنے فضائل کی تکمیل کے لیے بیان فرمایا یعنی مجھے اللہ تعالٰی نے ان تین عیبوں سے بری کیا بخل، بزدلی،جھوٹ۔حضور انور سخی نہیں بلکہ جواد ہیں،خود نہ کھائیں زمانہ بھر کو کھلائیں۔شعر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع