دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

5802 -[2]

وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا فَأَرْسَلَنِي يَوْمًا لِحَاجَةٍ فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَا أَذْهَبُ وَفِي نَفْسِي أَنْ أَذْهَبَ لِمَا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْتُ حَتَّى أَمُرَّ عَلَى صِبْيَانٍ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي السُّوقِ فَإِذَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَبَضَ بِقَفَايَ مِنْ وَرَائِي قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقَالَ: «يَا أُنَيْسُ ذَهَبْتَ حَيْثُ أَمَرْتُكَ؟» . قُلْتُ: نَعَمْ أَنَا أَذْهَبُ يَا رَسُول الله. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے اچھے اخلاق والے تھے ۱؎ حضور نے مجھے ایک دن کسی کام کے لیے بھیجا ۲؎ میں نے کہا اللہ کی قسم میں نہ جاؤں گا۳؎ اور میرے دل میں یہ تھا کہ اس کام کے لئے جاؤں جس کا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا۴؎ چنانچہ میں روانہ ہوگیا حتی کہ میں کچھ بچوں پر گزرا جو بازار میں کھیل رہے تھے ۵؎  اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پیچھے سے میری گردن پکڑی ۶؎ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور کی طرف دیکھا آپ ہنس رہے تھے۷؎ فرمایا اے انیس کیا تم وہاں جارہے ہو۸؎ جہاں جانے کا میں نے تم کو حکم دیا تھا میں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ میں جارہا ہوں۹؎ (مسلم)

۱؎  ناس سے مراد سارے ہی انسان ہیں خلق سے مراد برتاوا ہے۔(مرقات)

۲؎ یعنی مجھے وہاں جانے کا حکم دیا لہذا اگلا مضمون بالکل درست ہے۔

۳؎ یہ جواب نافرمانی یا مخالفت حکم نہیں بلکہ ناز بردار بے نیاز کریم پر نیاز مندانہ ناز ہے۔شعر

کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرے                    نیاز مند نہ کیوں عاجزی پہ ناز کرے         (اقبال)

جیسے بچے ماں باپ پر ضد کرتے ہیں کہتے ہیں کہ ہم تو نہیں کرتے،نیز یہ والله قسم کے لیے نہیں کہ اس پر قسم کے احکام جاری ہوں بلکہ بلاقصد یہ لفظ بولا گیا ہے۔امام شافعی کے ہاں یہ قسم لغو ہے،امام اعظم کے ہاں یہ قسم ہی نہیں۔

۴؎ یعنی میرا یہ انکار صرف زبانی تھا دل سے نہ تھا،چونکہ یہ کام لڑکپن میں تھا اس لیے حضور انور نے بار بار جانے کا حکم نہ دیا بلکہ نہایت ہی نرمی فرماتے ہوئے خاموش ہوگئے صلی اللہ علیہ وسلم ۔(لمعات)

۵؎ جب میں ان کھیلنے والے بچوں پرگزرا تو میں بھی ان کا کھیل دیکھنے کے لیے کھڑا ہوگیا یہ ہی مطلب ہے اس عبارت کا جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔

۶؎ گردن پکڑنا انتہائی پیارومحبت سے تھا۔قفا کہتے ہیں گردن کے پچھلے حصہ کو یا کہو کہ پچھلا حصہ قفا یعنی گردن ہے اگلا حصہ حلقوم یعنی گلا ہے۔

۷؎ یعنی مسکرارہے تھے۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جہاں کہیں لفظ ضحك آتا ہے وہاں تبسم مراد ہوتا ہے کیونکہ حضور انور نے کبھی ٹھٹھا نہ لگایا۔

۸؎ لفظ انس کو انیس فرمانا تصغیر کرکے یہ بھی محبت کرم سے تھا یہ نام کا بگاڑنا نہیں جیسے ہمارے ہاں ساجدہ کو سجو غلام کو گاماں کہہ دیتے ہیں۔

۹؎ یہ ہے اپنے ارادہ کا اظہار یعنی میں نے صرف زبان سے انکار کیا تھا جانے کا ارادہ اس وقت ہی تھا چنانچہ میں مطابق حکم کے جارہا ہوں۔

5803 -[3]

 وَعَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ فجبذه جَبْذَةً شَدِيدَةً وَرَجَعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ الْأَعْرَابِيِّ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عَاتِقِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أثرت بِهِ حَاشِيَةُ الْبُرْدِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عنْدك فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ضَحِكَ ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ.

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا حضور پر نجرانی موٹے کنارے والی چادرتھی ۱؎حضور کو ایک بدوی نے پکڑ لیا اور حضور کو آپ کی چادر سے کھینچا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بدوی کے سینہ میں پہنچ گئے ۲؎ حتی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن کے کنارہ میں دیکھا اس کی سخت بھنچنے کی وجہ سے چادر کے کنارہ نے اثر کیا تھا۳؎ پھر بولا اے محمد اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے میرے لیے بھی حکم دیجئے۴؎ تو اس کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا پھر ہنسے پھر اس کے لیے عطا کا حکم دیا ۵؎(مسلم،بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن