30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب فی اخلاقہ و شمائلہ صلی اللہ علیہ وسلم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلا ق و عادات کا بیان ۱؎
۱؎ اب تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری صورت کا بیان تھا،اب حضور کی باطنی سیرت کا ذکر شریف ہے۔اخلاق جمع خلق کی ہے بمعنی عادت اور شمائل جمع ہے شمال کی میم کے فتح سے بمعنی طبیعت و جبلت۔اخلاق عام ہے اور شمائل خاص،انسان کی جو عادت دنیا میں آکر پڑے وہ بھی خلق ہے مگر شمال پیدائشی عادت کو ہی کہا جاتا ہے۔حضور کے اخلاق کو رب تعالٰی نے عظیم فرمایا کہ ارشاد ہوا"اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ"کوئی شخص بھی کما حقہٗ حضور کے اخلاق کا بیان نہیں کرسکتا۔جب ہم دنیا کی نعمتیں نہیں گن سکتے جو کہ بہت تھوڑی ہیں"قُلْ مَتٰعُ الدُّنْیَا قَلِیۡلٌ"تو جسے رب عظیم کہے اسے کیسے گن سکتے ہیں اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں۔شعر
تیری خلق کو رب نے جمیل کیا تیرے خلق کو رب نے عظیم کہا
کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہوگا شہا تیری خالق حسن ادا کی قسم
|
5801 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا قَالَ لِي:أُفٍّ وَلَا: لِمَ صَنَعْتَ؟ وَلَا: أَلَّا صَنَعْتَ؟ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال خدمت کی ۱؎ کبھی مجھ سے تف نہ فرمایا اور نہ یہ کہ تم نے یہ کیوں کیا اور نہ یہ کہ کیوں نہ کیا ۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ حضور انور کے مدینہ طیبہ میں تشریف لانے پر حضرت انس رضی اللہ عنہ کی عمر آٹھ سال تھی،ان کے والدین اس وقت حضور انور کی خدمت میں انہیں لائے اور بولے کہ ہم نے انہیں آپ کی خدمت کے لیے وقف کردیا۔وفات شریف ۱۰ ہجری میں ہوئی،وفات شریف تک حضور انور کی خدمت میں رہے بعد وفات مدینہ سے باہر آگئے،مقام موصل میں آپ کامزار ہے۔
۲؎ یعنی میں کم عمر بھی تھا اور کم سمجھ بھی،مجھ سے قصور بھی ہوتے تھے اور کبھی کچھ نقصان بھی ہوجاتا تھا جیسے کوئی چیز ٹوٹ جانا وغیرہ مگر اس سراپا رحم و کرم نے مجھے کبھی جھڑکا نہیں اور ملامت کے طریقہ پر یہ نہ فرمایا کہ تم نے یہ کیوں کردیا یہ کیوں چھوڑ دیا۔اف کا ترجمہ اردو میں ہے افوہ یہ سرزنش اور ملامت کے وقت بولا جاتا ہے یہاں دنیاوی کاموں میں اف نہ فرمانا مراد ہے شرعی غلطی پر پکڑ کرنا تو اصلاح ہے۔(مرقات و اشعہ)
|
5802 -[2] وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا فَأَرْسَلَنِي يَوْمًا لِحَاجَةٍ فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَا أَذْهَبُ وَفِي نَفْسِي أَنْ أَذْهَبَ لِمَا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْتُ حَتَّى أَمُرَّ عَلَى صِبْيَانٍ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي السُّوقِ فَإِذَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَبَضَ بِقَفَايَ مِنْ وَرَائِي قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقَالَ: «يَا أُنَيْسُ ذَهَبْتَ حَيْثُ أَمَرْتُكَ؟» . قُلْتُ: نَعَمْ أَنَا أَذْهَبُ يَا رَسُول الله. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے اچھے اخلاق والے تھے ۱؎ حضور نے مجھے ایک دن کسی کام کے لیے بھیجا ۲؎ میں نے کہا اللہ کی قسم میں نہ جاؤں گا۳؎ اور میرے دل میں یہ تھا کہ اس کام کے لئے جاؤں جس کا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا۴؎ چنانچہ میں روانہ ہوگیا حتی کہ میں کچھ بچوں پر گزرا جو بازار میں کھیل رہے تھے ۵؎ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پیچھے سے میری گردن پکڑی ۶؎ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور کی طرف دیکھا آپ ہنس رہے تھے۷؎ فرمایا اے انیس کیا تم وہاں جارہے ہو۸؎ جہاں جانے کا میں نے تم کو حکم دیا تھا میں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ میں جارہا ہوں۹؎ (مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع