30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ اس سے دو مسئلہ معلوم ہوئے: ایک یہ کہ جیسے خود قسم کھانا جائز ہے ایسے ہی دوسرے کو قسم دینا بھی جائز ہے۔ دوسرے یہ کہ جب کسی کو قسم دی جائے یا اس سے قسم لی جاوے تو قسم میں ایسے الفاظ استعمال کیے جائیں جس سے اس کے دل پر رعب چھا جاوے۔یہود کے نزدیک توریت شریف اور موسیٰ علیہ ا لسلام بڑے عزت و عظمت والے ہیں اور توریت کا نزول ان کے ہاں اللہ کی بڑی نعمت ہے ان وجوہ سے حضور انور نے ان الفاظ سے اسے قسم دی۔
۵؎ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سوال اس سے اقرار کرانے کے لیے ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور توریت بلکہ ساری کتب الہیہ سے واقف ہیں۔توریت و انجیل میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے نام، حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے کام،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے حالات طیبہ حتی کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سب کچھ موجود ہے۔
۶؎ اس یہودی نے دیدہ دانستہ جھوٹ بولا اس نے توریت میں یہ تمام کچھ پڑھا تھا،وہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا نام،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سب کچھ توریت میں پڑھ چکا تھا۔
۷؎ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لڑکا اگرچہ تھا تو کم عمر مگر توریت شریف سے واقف تھا اور اس کے دل میں حضور انور کی محبت تھی، اسے یہ نعمت حضور انور کی صحبت پاک سے نصیب ہوئی تھی۔
۸؎ حضور انور کے سامنے مسلمان ہوگیا کوئی اسلام و ایمان میں آتا ہے مگر اس شخص کے پاس ایمان و اسلام آیا کیونکہ جس ذات کریمہ پر ایمان لایا جاتا ہے جن کے نام سے انسان مسلمان بنتا ہے وہ خود اس کے گھر تشریف لے گئے یہ اثر صحبت پاک کا تھا۔
۹؎ فرمایا یعنی اس کی تیمار داری کرو،جب یہ مرجاوے تو اس کے کفن و دفن،نماز جنازہ کا انتظام کرو۔اب اسے یہ یہودی باپ ہاتھ نہ لگائے۔اس فرمان عالی سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ نابالغ سمجھ دار بچے کا ایمان معتبر ہے۔دوسرے یہ کہ مرتے وقت کا ایمان قبول ہے جب کہ غررہ غررہ کی حالت سے پہلے ہو۔تیسرے یہ کہ اسلامی رشتہ جانی رشتوں سے قوی تر ہے کہ مؤمن کا کفن دفن اجنبی مسلمان تو کریں گے مگر اس کا باپ دادا کافر نہ کرے گا۔چوتھے یہ کہ اسلام میں نے نئے پرانے مسلمان برابر ہیں۔
|
5800 -[25] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:«إِنَّمَا أَنَا رَحْمَةٌ مُهْدَاةٌ». رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ حضور انور نے فرمایا کہ میں رحمت ہوں،رب کا ہدیہ ہوں ۱؎ (بیہقی شعب الایمان) |
۱؎ یعنی رب نے مجھے تمہارے لیے رحمت بھی بناکر بھیجا ہے اور اپنا ہدیہ و تحفہ بھی۔اس فرمان عالی میں اس امت کی بہت ہی عزت فزائی ہے کیونکہ ہدیہ تحفہ اپنے پیاروں کو ہی دیا جاتا ہے۔معلوم ہوا کہ یہ امت رب کو پیاری ہے اس لیے اسے تحفہ دیا گیا فرماتاہے:"وَمَاۤ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیۡنَ"اعلٰی حضرت قدس سرہٗ فرماتے ہیں۔شعر
رب اعلٰی کی نعمت پہ اعلٰی درود حق تعالٰی کی منت پہ لاکھوں سلام
ہم غریبوں کے آقا پر دائم درود ہم فقیروں کی ثروت پر لاکھوں سلام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع