30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ رب کا منشا یہ تھا کہ کوئی شخص میرے محبوب سے آگے نہ چل سکے"لَا تُقَدِّمُوۡا بَیۡنَ یَدَیِ اللہِ وَ رَسُوۡلِہٖ" پر عمل خود رب تعالٰی نے ان سے کرا لیا تھا۔
|
5796 -[21] وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ فِي سَاقَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمُوشَةٌ وَكَانَ لَا يَضْحَكُ إِلَّا تَبَسُّمًا وَكُنْتُ إِذَا نَظَرْتُ إِلَيْهِ قُلْتُ: أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ وَلَيْسَ بأكحل. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیوں میں کچھ باریکی تھی ۱؎ اور نہ ہنستے تھے مگر مسکراہٹ سے۲؎ اور میں جب حضور کو دیکھتا تو کہتا تھا کہ آپ آنکھوں میں سرمہ لگائے ہوئے ہیں حالانکہ آپ سرمہ لگائے نہ ہوتے تھے۳؎(ترمذی) |
۱؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیاں بہت موٹی نہ تھیں جو بدنما ہوتی ہیں بلکہ قدرے پتلی تھیں جن سے کمزوری کا نہیں بلکہ لطافت کا ظہور ہوتا ہے،بہت پتلی بھی نہ تھیں جو دوسرے اعضاء کے مناسب نہ ہوں اور اچھی نہ معلوم ہوں۔ (مرقات)
۲؎ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹھٹھا مار کر ہنسنا کبھی ثابت نہیں۔بہت ہنسنا دل کو غافل کردیتا ہے،مسکرانے سے اپنا دل بھی خوش ہوتا ہے سامنے والے کا دل بھی موہ لیتا ہے۔
۳؎ یعنی حضور پیدائشی طور پر سرمگیں آنکھیں والے تھے پھر بھی سوتے وقت ہر آنکھ میں تین سلائی سرمہ لگاتے تھے اگر کبھی سرمہ نہ بھی لگاتے تو وہ قدرتی سرمہ جو رب تعالٰی نے لگا کر دنیا میں بھیجا تھا وہ نمودار ہوتا تھا۔حضور انور قدرتی طورپر ناف بریدہ ختنہ شدہ سرمہ و شانہ کیے ہوئے پیدا ہوئے ولادت پاک اس طرح ہوئی تھی۔شعر
بالوں میں شانہ آنکھوں میں سرمہ دیا ہوا لپٹے ہوئے حریر میں ختنہ کیا ہوا
|
5797 -[22] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْلَجَ الثَّنِيَّتَيْنِ إِذَا تَكَلَّمَ رُئِيَ كَالنُّورِ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ ثَنَايَاهُ. رَوَاهُ الدَّارمِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثنیہ دانتوں میں کھڑکی والے تھے ۱؎ جب کلام فرماتے تو آپ کے ثنیہ دانتوں کے درمیان سے نور سا نکلتا تھا ۲؎(دارمی) |
۱؎ آگے والے اوپر نیچے کے چار دانتوں کو رباعیہ کہتے ہیں،ان سے متصل ایک ایک دانت ثنائی کہلاتے ہیں،کیلوں کو انیاب کہتے ہیں،داڑھوں کو اضراس۔حضور کی ثنائیہ دانت رباعیہ سے بالکل ملے ہوئے نہ تھے بلکہ ان کے درمیان باریک کھڑکیاں تھیں۔یہ بھی حسن کا بہترین مرقع ہے یہ کھڑکی اوپر نیچے والے دونوں ثنایا میں تھیں۔(اشعہ)
۲؎ یہ نور دن میں بھی دیکھا جاتا تھا مگر رات میں تو دانتوں کے اس نور سے سوئی تلاش کرلی جاتی تھی۔اعلٰی حضرت نے فرمایا ؎
سوزن گم شدہ ملتی ہے تبسم سے تیرے رات کو صبح بناتا ہے اُجالا تیرا
|
5798 -[23] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْهُهُ حَتَّى كَأَنَّ وَجْهَهُ قِطْعَةُ قَمَرٍ وَكُنَّا نَعْرِفُ ذَلِكَ. |
روایت ہے حضرت کعب بن مالک سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خوش ہوتے تو آپ کا چہرہ انور دمک جاتا تھا گویا آپ کا چہرہ چاند کا ٹکڑا ہے ہم یہ جان لیتے تھے ۱؎ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع