دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

page-66

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

بنا دو میرے سینہ کو مدینہ                                        نکالو بحر غم سے یہ سفینہ

۴؎ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ حضور انور نے خالص سرخ کپڑے کبھی نہ پہنے بلکہ اس سے مردوں کو منع فرمایا،ان جیسی احادیث میں سرخ دھاریوں والا جوڑہ مراد ہوتا ہے وہ ہی یہاں مراد ہے۔

۵؎ ان حضرات کی نگاہ حقیقت بین تھی،حقیقت میں چہرہ مصطفوی چاند سے کہیں زیادہ حسین ہے کہ چاند صرف رات میں چمکے یہ چہرہ دن رات چمکے،چاند صرف تین رات چمکے یہ چہرہ ہمیشہ ہر دن رات چمکے،چاند جسموں پر چمکے یہ چہرہ دلوں پر بھی چمکے،چاند نور ابدان دے یہ چہرہ نور ایمان دے،چاند گھٹے بڑھے یہ چہرہ گھٹنے سے محفوظ رہے،چاند کو گرہن لگے یہ کبھی نہ گہے،چاند سے عالم اجسام کا نظام قائم ہے حضور سے عالم ایمان کا۔حضور انور کا چاند سے زیادہ حسین ہونا صرف ان کی عقیدت میں نہ تھا بلکہ واقعہ یوں ہی ہے۔چاند دیکھ کر کسی نے اپنے ہاتھ نہ کاٹے،حسنِ یوسف دیکھ کر زنانِ مصر نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور حسنِ یوسفی سے حسن محمد کہیں افضل ہے لہذا حضرت جابر کا یہ فرمان بالکل درست ہے۔

5795 -[20]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَن الشَّمْس تجْرِي على وَجْهِهِ وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَسْرَعَ فِي مَشْيِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّمَا الْأَرْضُ تُطْوَى لَهُ إِنَّا لَنُجْهِدُ أَنْفُسَنَا وَإنَّهُ لغير مكترث. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے کوئی چیز  ۱؎  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حسین نہ دیکھی۲؎ گویا سورج آپ کے چہرے میں گردش کررہاہے ۳؎ اور میں نے کوئی شخص نہ دیکھا جو اپنی رفتار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تیز ہو۴؎ گویا آپ کے لئے زمین لپٹی جاتی تھی ۵؎ ہم تو اپنی جانوں کو مشقت میں ڈال دیتے تھے اور آپ پر واہ نہ فرماتے تھے ۶؎(ترمذی)

۱؎ کوئی چیز میں چاند سورج تارے اور تمام حسین انسان سب ہی داخل ہیں حضور ان سب سے بہتر ہیں۔

۲؎ یعنی نور اور نورانی کرنیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے انور میں ایسی چکر کاٹتی معلوم ہوتی تھیں جیسے سورج اپنے فلک میں گردش کرتا ہے۔(مرقات)اور اگر تجری کے معنی کرلیے جائیں جگمگا رہا ہے تو مطلب بالکل ظاہر ہے۔

۳؎ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رفتار کی تیزی رستہ طے ہونے کے لحاظ سے تھی نہ کہ سرکار کے چلنے کے لحاظ سے حضور انور نہایت وقار سے آہستہ چلتے تھے،رب فرماتاہے:"وَاقْصِدْ فِیۡ مَشْیِکَ"مگر آپ کے آہستہ چلنے کے باوجود راستہ جلد اور بہت زیادہ طے ہوتا تھا جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔

۴؎ یہ بھی حضور انور کا معجزہ تھا کہ آہستہ چلنے پر زمین زیادہ طے ہوتی تھی،بعض صوفیاء کو بھی یہ کرامت عطا ہوتی ہے اسے طے الارض کہتے ہیں،معراج میں جو حضور انور نے طی الارض ہی نہیں کی بلکہ زمین و آسمان،عرش و کرسی،لوح و قلم سب ہی طے فرما لیے،آصف ابن برخیا کی طی الارض تو قرآن مجید سے ثابت ہے،رب فرماتاہے:"اٰتِیۡکَ بِہٖ قَبْلَ اَنۡ یَّرْتَدَّ اِلَیۡکَ طَرْفُکَ"میں ملکہ بلقیس کا تخت یمن سے آپ کے پاس پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن