30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عبد الملک،سعید، ولید۔بیٹیاں: مریم کبری،ام سعید،عائشہ،ام ابان،ام ایوب۔عائشہ بنت عثمان کا نکاح امام حسن ابن علی سے ہوا،ام ایوب عبد الملک ابن مروان کے نکاح میں آئیں۔
علی مرتضیٰ: آپ کی کل نو بیویاں اور بہت اولاد۔فاطمہ زہرا حسن،حسین بیٹے،زینب،ام کلثوم بیٹیاں۔ام کلثوم کا نکاح حضرت عمر فاروق سے ہوا،ان سے حضرت زید ابن عمر اور رقیہ بنت عمر پیدا ہوئے(فروع کافی جلد دوم،باب ترذیج)حضرت عمر کی شہادت کے بعد ام کلثوم کا نکاح محمد ابن جعفر سے ہوا ان کے بعد عون سے نکاح ہوا عون کے نکاح میں ام کلثوم فوت ہوئیں۔(کتاب المعارف کتاب اہل بیت)
ام بنن بنت حرام: ان کے شکم سے چار بیٹے ہوئے: عباس،جعفر،عبد اللہ،عثمان۔
لیلی بنت مسعود: آپ کے شکم سے دو بیٹے ہوئے: عبد اللہ،ابو بکر۔
اسماء بنت عمیس: آپ کے شکم سے دو بیٹے ہوئے: یحیی،محمد۔یہ تمام مذکورہ حضرات کربلا میں شہید ہوئے۔
امامہ: آپ کے بطن سے ایک بیٹے محمد پیدا ہوئے۔
خولہ بنت جعفر حنفِیہ: آپ خلافت صدیقی میں غزوہ یمامہ میں گرفتار ہوکر آئیں حضرت علی کے نکاح میں دی گئیں آپ سے محمد ابن حنفِیہ پیدا ہوئے۔
صہبہ بنت ربیعہ ثعلبی: آپ کے شکم سے تین لڑکیاں پیدا ہوئیں۔
ام سعید بنت عروہ: آپ سے بھی تین لڑکیاں پیدا ہوئیں۔
محیاء بنت امرء القیس: آپ سے ایک لڑکی پیدا ہوئی۔خیال رہے کہ امام حسن و حسین کی اولاد سید کہلاتی ہے اور عباس،جعفر، محمد ابن حنفِیہ کی اولاد علوی کہلاتی ہے۔
امام حسن(ا بو محمد)امام حسن کے نکاح قریبًا ایک سو ہوئے آپ کے بیٹے چودہ تھے بیٹیاں چھ۔بیٹے: حسن مثنی،حسین،طلحہ، اسماعیل، عبد اللہ،حمزہ،یعقوب،عبد الرحمن،عبد اللہ،ابوبکر،قاسم،عمر،یزید،زید۔عمر،قاسم،عبد الله کربلا میں شہید ہوئے۔بیٹیاں: فاطمہ، ام سلمہ،ام عبد اللہ،ام الحسین،رملہ،ام الحسن۔امام حسن کا نکاح عائشہ بنت عثمان سے ہوا،ان کے شکم سے ابوبکر ابن حسن اور عمر ابن حسن پیدا ہوئے،نیز آپ کا نکاح حفصہ بنت عبد الرحمن ابن ابو بکر صدیق سے ہوا لہذا امام حسن حضرت صدیق اکبر کے پوتے داماد ہیں،حضور غوث اعظم عبد القادر جیلانی عبد الله ابن حسن ابن علی کی اولاد سے ہیں آپ حسنی حسینی سید ہیں۔
امام حسین(ابو عبد اللہ)آپ کے گیارہ بیٹے ہیں اور چار بیٹیاں۔تفصیل یہ ہے کہ بیٹے: عابد،علی اکبر،علی اصغر،زید،ابراہیم،محمد حمزہ،ابو بکر،جعفر،یزید،عمر۔بیٹیاں: فاطمہ کبریٰ،رقیہ،سکینہ،فاطمہ صغریٰ۔آپ کے چار بیٹے: علی اصغر،علی اکبر،ابو بکر اور عمر کربلا میں شہید ہوئے۔عابد،زید،ابراہیم،یزید،محمد،حمزہ سے نسل چلی۔
سکینہ بنت حسین کا شام کی قید میں مرجانے کی روایت بالکل غلط ہے۔آپ زندہ رہیں اور مصعب ابن زبیر کے نکاح میں آئیں،ان کی وفات کے بعد آپ عبد الله ابن عثمان ابن عفان کے نکاح میں آئیں جن سے ایک لڑکا پیدا ہوا،پھر اصبغ ابن عمیر ابن عبد العزیز ابن مروان کے نکاح میں آئیں،آپ یعنی سکینہ کی وفات خلیفہ ہشام کے زمانہ میں ہوئی بلکہ تاریخ داں حضرات پر مخفی نہیں کہ بعد شہادت امام حسین بقیہ اہل بیت کو قیدی بنانا جیل میں رکھنا یہ بھی محض بناوٹی ہے جو رلانے کے لیے گڑھا گیا ہے۔
زین العابدین: آپ کا نام عابد ہے،لقب علی اوسط،خطاب زین العابدین،آپ کی والدہ بی بی شہر بانو بنت یزد گرد شاہ ایران ہیں،شہر بانو ایران کی شاہزادی تھیں جو خلافت فاروقی میں گرفتار ہوکر مدینہ منورہ آئیں،حضرت عمر نے فرمایا کہ شاہزادی شاہزادے کو دی جاوے گی اور امام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع