30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ مشرب باب افعال کا مفعول ہے جس کے معنی ہیں سفیدی میں کچھ تھوڑی سرخی پلائی ہوئی۔بالکل سرخ رنگ بھی اچھا نہیں اور سرخی میں سفیدی کی جھلک بھی حسن نہیں بلکہ سفیدی میں سرخی کی جھلک اعلٰی حسن ہے۔اس حسن کا نام ملاحت ہے یعنی نمکین حسن،پچھلے دو حسنوں کو صباحت کہا جاتاہے۔
۵؎ کرادیس جمع ہے کردوس کی،اس کے معنی ہیں جوڑ جہاں دو ہڈیاں جڑتی ہیں جیسے کندھے،گھٹنے،کلائی،کہنی وغیرہ۔ ہڈیوں کے کناروں کو بھی کردوس کہتے ہیں،یہ اگر موٹے ہوں تو اعضاء میں طاقت و قوت پوری ہوتی ہے۔
۶؎ مشربہ بالوں کی وہ پتلی دوڑی جو سینہ کے کنارہ سے ناف تک ہوتی ہے یہ کسی کے ہوتی ہے کسی کے نہیں۔یہ ڈوری علامت ہے وفاداری کی اگر سینہ بالوں سے ننگا ہو تو آدمی اکثر بے وفا مطلبی ہوتا ہے۔
۷؎ یعنی حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی چال میں ضعف بھی نہ تھا اور تکبر بھی نہیں،قوت والی تواضع والی چال تھی،سرجھکا ہوا قدم پوری طاقت سے اٹھتا پوری طاقت سے زمین پر پڑتا تھا۔یہ لفظ بنا ہے کفو سے بمعنی قدم پر اعتماد۔
۸؎ یہاں قبلہٗ سے مراد ہے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے اور بعدہٗ سے مراد حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کیونکر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت شریف سے پہلے کا زمانہ دیکھا ہی نہیں آپ حضور انور سے قریبًا تیس سال چھوٹے ہیں۔
|
5791 -[16] وَعَنْهُ كَانَ إِذَا وَصَفَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَمْ يَكُنْ بِالطَّوِيلِ الْمُمَّغِطِ وَلَا بِالْقَصِيرِ الْمُتَرَدِّدِ وَكَانَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ وَلَمْ يَكُنْ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبْطِ كَانَ جَعْدًا رَجِلًا وَلَمْ يَكُنْ بِالْمُطَهَّمِ وَلَا بِالْمُكَلْثَمِ وَكَانَ فِي الْوَجْهِ تَدْوِيرٌ أَبْيَضُ مُشْرَبٌ أَدْعَجُ الْعَيْنَيْنِ أَهْدَبُ الْأَشْفَارِ جَلِيلُ الْمَشَاشِ وَالْكَتَدِ أَجْرَدُ ذُو مَسْرُبةٍ شئن الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ إِذَا مَشَى يَتَقَلَّعُ كَأَنَّمَا يَمْشِي فِي صَبَبٍ وَإِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ مَعًا بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ وَهُوَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ أَجْوَدُ النَّاسِ صَدْرًا وَأَصْدَقُ النَّاسِ لَهْجَةً وَأَلْيَنُهُمْ عَرِيكَةً وَأَكْرَمُهُمْ عَشِيرَةً مَنْ رَآهُ بَدِيهَةً هَابَهُ وَمَنْ خَالَطَهُ مَعْرِفَةً أَحَبَّهُ يَقُولُ نَاعِتُهُ: لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے انہیں سے کہ آپ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ شریف بیان کرتے تو فرماتے تھے ۱؎ کہ نہ تو آپ بہت ہی دراز قد تھے اور نہ بہت ہی پستہ قد ۲؎ قوم میں درمیانہ قد تھے اور نہ تو آپ چھلے والے گھونگر بال تھے اور نہ بالکل سیدھے بال والے آپ کے بال خمدار تھے۳؎ اور نہ آپ بہت موٹے تھے۴؎ نہ بالکل گول چہرے والے آپ کے چہرے میں قدرے گولائی تھی سفید رنگ تھے سرخی پلائی ہوئی خوب کالی آنکھیں دراز پلک ۵؎ موٹی ہڈیوں والے موٹے کندھوں والے ۶؎ جسم شریف صاف ۷؎ بالوں کی باریک ڈوری موٹی ہتھیلیاں موٹے موٹے قدم جب چلتے تو پوری طاقت سے چلتے گویا آپ گہرائی میں اُتر رہے ہیں ۸؎ اور جب اِدھر اُدھر توجہ کرتے تو پوری توجہ کرتے ۹؎ آپ کے کندھوں کے بیچ مہر نبوت تھی اور آپ خاتم النبیین ہیں۱۰؎ لوگوں میں سخی دل لوگوں میں بہت سچی بات والے ان میں نہایت نرم طبیعت والے اور ان میں بہت اچھے برتاؤ والے تھے۱۱؎ جو آپ کو اچانک دیکھتا تو آپ سے ہیبت کرتا اور جو آپ سے خلا ملا کرتا جان کر تو آپ سے محبت کرتا۱۲؎ آپ کا نعت گو کہتا تھا کہ میں نے آپ کی مثل نہ آپ کے پہلے دیکھا نہ آپ کے بعد صلی اللہ علی وسلم۱۳؎(ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع