30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
راہ میں ملاقات ہوئی حضور نے فرمایا کہ عباس خاتم المہاجرین یعنی آخری مہاجر ہیں،جنت البقیع میں آپ کی قبر ہے حضرت فاطمہ زہرا کے پاس،فقیر نے زیارت کی ہے الله پھر نصیب کرے۔
(۷۳)عباس ابن مرداس: آپ کی کنیت ابو الہیثم ہے سلمی ہیں،بڑے شاعر تھے فتح مکہ سے کچھ پہلے ایمان لائے،مؤلفۃ القلوب سے تھے پھر کامل مؤمن ہوئے،آپ نے زمانہ جاہلیت میں بھی شراب نہیں پی۔
(۷۴)عبدالمطلب ابن ربیعہ: آپ ربیعہ ابن حارث ابن عبدالمطلب ابن ہاشم کے بیٹے ہیں،قرشی ہیں،مدینہ منورہ میں رہے،پھر دمشق چلے گئے وہاں ہی ۶۲ باسٹھ میں آپ کی وفات واقع ہوئی۔
(۷۵)عبداﷲ ابن محصن: آپ انصاری خطمی ہیں،اہلِ مدینہ میں آپ کا شمار ہے۔
(۷۶)عبید ابن خالد: آپ سلمی بہزی ہیں،مہاجر ہیں،آخر میں کوفہ میں رہے۔
(۷۷)عتاب ابن اسد: آپ قرشی اموی ہیں،فتح مکہ کے دن اسلام لائے حضور نے اسی سال آپ کو مکہ معظمہ کا حاکم مقرر فرمایا یعنی حنین کی طرف روانگی کے وقت حضور انور کی وفات تک آپ مکہ کے حاکم رہے خلافت صدیقی میں بھی اسی عہدے پر رہے ۱۳ تیرہ میں خاص صدیق اکبر کے وفات کے دن آپ نے مکہ معظمہ میں وفات پائی سرداران قریش میں سے ہیں۔
(۷۸)عتبہ ابن اسید: آپ کی کنیت ابو بصیر ہے،ثقفی ہیں اور بنی زہرہ کے حلیف ہیں،پرانے مؤمنین میں سے تھے غزوہ حدیبیہ میں آپ کا ذکر آتا ہے آپ نے ہی مکہ والوں پر حملہ کیا جو آپ کو پکڑنے مدینہ منورہ آئے تھے آپ ہی کے متعلق حضور نے فرمایا تھا کہ یہ تو جنگ بھڑکانے والا ہے،قصہ مشہور ہے حضور انور کے زمانہ ہی میں وفات ہوئی۔مترجم کہتا ہے کہ آپ نے ہی پانی کے گھاٹ پر ان مسلمانوں کی جماعت جمع کرلی جو مکہ معظمہ میں کفار کے ہاتھوں قید تھے آپ نے ہی کفار مکہ کا یہ راستہ بند کردیا جس پر وہ چیخ اُٹھے۔
(۷۹)عتبہ ابن عبدالسلمی: بعض نے فرمایا کہ انہی کا نام عتبہ ابن نذر ہے بعض نے کہا ہے کہ یہ دو حضرات ہیں،ان کا نام عتلہ تھا حضور انور نے عتبہ رکھا غزوہ خیبر میں شریک ہوئے،چورانوے سال عمر پائی ۸۷ ستاسی میں حمص میں وفات ہوئی،واقدی کہتے ہیں کہ آپ شام کے آخری صحابی ہیں جن کی وفات سے شام صحابہ سے خالی ہوگیا۔
(۸۰)عتبہ ابن غزوان: آپ مازنی ہیں،پرانے مؤمن ہیں،پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی،پھر مدینہ منورہ کی طرف،بدر وغیرہ میں شریک ہوئے،آپ ساتویں مسلمان ہیں،حضرت عمر نے آپ کو بصرہ کا حاکم بنایا،پھر آپ حضرت عمر کے پاس آئے تو آپ نے وہاں ہی واپس فرمادیا راستے میں انتقال ہوا ۵۷ سال عمر ہوئی ۱۵ میں وفات ہوئی۔
(۸۱)عداء ابن خالد: آپ خالد ابن ھوزہ کے بیٹے ہیں،عامری ہیں،فتح مکہ کے بعد ایمان لائے،دیہات میں رہتے تھے اہل بصرہ میں آپ کی احادیث مشہور ہیں۔
(۸۲)عدی ابن حاتم: آپ حاتم طائی(مشہور سخی)کے بیٹے ہیں،آپ کا نسب نامہ یہ ہے عدی ابن حاتم ابن عبد ابن سعد طائی ہے سخی ابن سخی ہیں،شعبان ۷ سات میں حضور انور کی خدمت میں حاضر ہوکر ایمان لائے کوفہ میں قیام رہا،جنگِ جمل میں حضرت علی کے ساتھ تھے،اسی جنگ میں آپ کی ایک آنکھ جاتی رہی،صفین اور نہروان میں شریک ہوئے،ایک سو بیس سال عمر ہوئی ۶۷ سرسٹھ میں کوفہ میں وفات پائی بعض نے فرمایا کہ مقام فرفیسا میں وفات ہوئی۔
(۸۳)عدی ابن عمیرہ: آپ کندی حضرمی ہیں،اولا کوفہ میں رہے پھر جزیرہ میں وہاں ہی آپ کی وفات ہوئی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع