30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گئے جب ان لوگوں نے دیکھا کہ ہم گھر گئے تو انہوں نے ایک ہموار جگہ میں پناہ لے لی،کفار بولے اپنے کو ہمارے حوالے کردو تم کو امان ہے،عاصم نے کہا کہ مجھے کفار کی امان کی اطمینان نہیں خدایا اپنے حبیب کو ہماری خبر پہنچادے،کفار نے تیروں سے عاصم سمیت سات صحابہ کو شہید کردیا حضور انور نے صحابہ کرام کو مدینہ میں بیٹھے ہوئے اس واقعہ کی خبر دی جب کفار قریش کو پتہ لگا کہ عاصم شہید کر دیئے گئے تو انہوں نے اپنے آدمی آپکی لاش پر بھیجے تاکہ ان کا کوئی عضو کاٹ کر لاویں،الله تعالٰی نے آپ کی لاش پر شہد کی مکھیاں اس قدر بھیج دیں کہ کوئی کافر آپ تک نہ پہنچ سکا پورا واقعہ بخاری شریف میں ہے۔
(۶۵)عامر رام: حق یہ ہے کہ آپ صحابی ہیں،ایک آدھ روایت بھی آپ سے ہے۔
(۶۶)عامر ابن ربیعہ: آپ کی کنیت ابو عبدالله ہے عزی ہیں،دو ہجرتیں کیں بدر وغیرہ تمام غزوات میں شریک ہوئے، پرانے مؤمن ہیں،۳۲ بتیس میں وفات پائی۔
(۶۷)عامر ابن مسعود: آپ مسعود ابن امیہ ابن خلف کے بیٹے ہیں یعنی امیہ کے پوتے صفوان ابن امیہ کے بھتیجے۔حق یہ ہے کہ آپ تابعی ہیں،آپ سے ایک مرسل حدیث ترمذی نے کتاب الصوم میں روایت کی ابن مندہ اور ابن عبدالبر نے آپ کو صحابی مانا ہے ابن معین کہتے ہیں کہ آپ تابعی ہیں۔
(۶۸)عائذ ابن عمرو: آپ مدنی ہیں،بیعت الرضوان میں شریک ہوئے،آخر میں بصرہ میں رہے۔
(۶۹)عباد ابن بشر: آپ انصاری ہیں،سعد ابن معاذ سے پہلے مدینہ منورہ میں اسلام لائے بدر وغیرہ تمام غزوات میں شریک ہوئے،کعب ابن اشرف کے قتل میں آپ شریک ہوئے،فضلاء صحابہ سے ہیں۔
(۷۰)عباد ابن عبدالمطلب: آپ غزوہ بدر میں شریک ہوئے،آپ سے کوئی حدیث مروی نہیں۔
(۷۱)عبادہ ابن صامت: آپ کی کنیت ابو الولید ہے انصاری سالمی ہیں،نقیب انصار تھے،عقبہ کی دونوں بیعتوں میں شریک ہوئے،پھر بدر وغیرہ تمام غزوات میں شریک ہوئے،حضرت عمر نے آپ کو شام کا قاضی اور معلم بنا کر بھیجا آپ حمص میں مقیم رہے پھر وہاں سے فلسطین چلے گئے رملہ یا بیت المقدس میں وفات پائی،بہتّر سال عمر پائی ۳۴ چونتیس میں وفات ہوئی،مشہور صحابی ہیں۔
(۷۲)عباس ابن عبدالمطلب: آپ حضور انور کے چچا ہیں،حضور انور سے دو سال بڑے تھے آپ کی والدہ نمر بن قاسط قبیلہ کی ایک بی بی تھیں آپ پہلی وہ بی بی ہیں جنہوں نے کعبہ معظمہ کو ریشمی اور اعلٰی درجہ کے غلاف پہنائے کیونکہ ایک بار حضرت عباس گم ہوگئے تھے تو انہوں نے نذر مانی تھی کہ خدایا میرا بچہ مل جاوے تو میں کعبہ کو بہترین غلاف پہناؤں گی،زمانہ جاہلیت میں حضرت عباس خادم کعبہ حجاج کو زمزم دینے والے اور کعبہ کو آباد کرنے والے تھے،جو طواف کعبہ کرنے آتا اس سے آپ تقویٰ و طہارت کا عہد لیتے تھے آپ نے اپنی وفات کے وقت ۷۰ ستر غلام آزاد کیے،واقعہ فیل سے پہلے پیدا ہوئے،اٹھاسی سال عمر پائی،بارہ رجب جمعہ کے دن ۳۲ بتیس کو وفات ہوئی بقیع میں دفن ہوئے،آپ پہلے مسلمان ہوچکے تھے مگر اپنا ایمان ظاہر نہ کرتے تھے بدر میں کفار جبرًا آپ کو اپنے ساتھ لائے تھے،حضور انور نے اعلان فرمایا تھا کہ کوئی عباس کو قتل نہ کرے وہ مجبورًا لائے گئے ہیں،اسی غزوہ میں ابو یسر یعنی کعب ابن عمر نے آپ کو قید کرلیا تھا،آپ فدیہ دے کر چھوٹے مکہ معظمہ واپس گئے پھر مہاجر ہوکر مدینہ منورہ آئے۔مترجم کہتا ہے کہ فتح مکہ کے لیے حضور جارہے تھے اور حضرت عباس مکہ سے مدینہ آرہے تھے کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع