30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۵۱)عبداﷲ ابن سلام: آپ کی کنیت ابویوسف ہے اسرائیلی ہیں،یوسف علیہ السلام کی اولاد سے ہیں،بنی عوف ابن خزرج کے حلیف تھے بنی اسرائیل کے چوٹی کے عالم تھے حضور انور نے آپ کے جنتی ہونے کی شہادت دی آپ کے بیٹوں یوسف اور محمد وغیرہما نے آپ سے روایات لیں،مدینہ منورہ میں۴۳ تینتالیس میں وفات ہوئی آپ کے فضائل بہت ہیں،آپ کے متعلق بہت آیات ہیں۔(مترجم)
(۵۲)عبداﷲ ابن سہل: آپ انصاری حارثی ہیں،عبدالرحمن کے بھائی اور محیصہ کے بھتیجے خیبر میں آپ ہی کو قتل کیا گیا واقعہ مشہور ہے۔
(۵۳)عبداﷲ ابن شخیر: آپ عامری ہیں،قبیلہ بنی عامر کے وفد میں آپ بھی تھے جو حضور انور کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔
(۵۴)عبداﷲ ابن صنابحی: کا نام ابو عبدالله ہے بعض نے آپ کو صحابہ میں شمار کیا ہے مگر قوی یہ ہے کہ صنابحی تو صحابی ہیں مگر آپ کے بیٹے تابعی ہیں۔
(۵۵)عبداﷲ ابن عامر: آپ عبداﷲ ابن کریز کے بیٹے ہیں،قرشی ہیں،حضرت عثمان غنی کے ماموں زاد ہیں،حضور انور کے زمانہ میں پیدا ہوئے،حضور نے آپ کو اپنا لعاب دہن لگایا اور دعا دی،حضور کی وفات کے وقت آپ تیرہ سال کے تھے آپ سے کوئی حدیث مروی نہیں حضرت عثمان نے بصرہ اور خرسان کا حاکم کیا،آپ قتل عثمان تک وہاں ہی حاکم رہے،امیر معاویہ کے زمانہ میں مستعفی ہوگئے،بڑے سخی کریم تھے خراسان کے فاتح آپ ہی ہیں،آپ ہی کی ولایت میں کسریٰ قتل کیا گیا آپ نے ہی بصرہ کی نہر کھدوائی فارس کے بہت سے شہر خراسان اصفہان آپ نے ہی فتح کیے ۵۹ انسٹھ میں وفات پائی آپ کے بہت فضائل ہیں۔
(۵۶)عبدالله ابن عباس: آپ حضور انور کے چچا زاد بھائی ہیں،آپ کی والدہ لبابہ بنت حارث ہیں،یعنی ام المؤمنین میمونہ کی بہن ہجرت سے تین سال پہلے پیدا ہوئے،حضور کی وفات کے وقت آپ کی عمر تیرہ سال تھی،حضور انور نے آپ کو علم و حکمت کی دعائیں دیں آپ کا لقب حبر الامت ہے یعنی مسلمانوں کے بڑے عالم،آپ نہایت حسین عالم فقیہ مجتہد تھے،حضرت عمر نے آپ کو اپنا مشیر خاص بنایا تھا ہر بات میں جلیل القدر صحابہ کے ساتھ آپ سے بھی مشورہ کرتے تھے آخر میں نابینا ہوگئے تھے ۶۸ اڑسٹھ میں طائف میں وفات پائی،اکہتّر سال عمر ہوئی۔مترجم نے قبر انور کی زیارت کی ہے آپ سے ایک خلق نے روایات لی ہیں۔
(۵۷)عبداﷲ ابن عمر: آپ قرشی عدوی ہیں،حضرت فاروق کے فرزند اپنے والد کے ساتھ مکہ معظمہ میں ایمان لائے،بدر میں لڑکپن کی وجہ سے شریک نہ ہوئے۔حق یہ ہے کہ غزوہ احد میں بھی حضور انور نے ان کے بچہ ہونے کی وجہ سے شریک نہیں کیا،غزوہ خندق میں شریک ہوئے،غزوہ احد میں آپ چودہ سالہ تھے،بڑے عابد زاہد محتاط اور متبع سنت تھے،حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں کو دنیا نے اپنی طرف راغب کرلیا سواء حضرت عبداﷲ ابن عمر کے،حضرت میمون ابن مہران فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر جیسا متقی،ابن عباس جیسا عالم نہ دیکھا۔حضرت نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر نے ایک ہزار غلام آزاد کیے،ظہور نبوت سے ایک سال پہلے پیدا ہوئے اور ۷۳ تہتّر میں حضرت ابن زبیر کے قتل کے تین مہینہ بعد وفات پائی،آپ کی وصیت تو یہ تھی کہ آپ کو حل میں دفن کیا جاوے مگر حجاج نے ایسا نہ کرنے دیا تو آپ ذی طویٰ میں دفن کئے گئے مہاجرین کے قبرستان میں۔آپ کی وفات کا واقعہ یہ ہے کہ ایک بار حجاج نے جمعہ کا خطبہ دراز کیا آپ نے فرمایا کہ سورج تیرا انتظار نہ کرے گا وہ بولا کہ میں چاہتا ہوں کہ تمہیں اندھا کردوں آپ نے فرمایا کہ اگر تو چاہے تو ایسا کرسکتا ہے کہ تو ایک احمق شخص ہے جو ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے،نیز آپ حج میں حجاج سے پہلے ہی عرفہ میں حضور انور کی قیام گاہ میں جا کر ٹھہر جاتے تھے ان وجوہ سے حجاج
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع