30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لیا،حاضرین نے خوشی سے نعرہ تکبیر لگایا جو حرم شریف میں سنا گیا آپ نے عرض کیا یارسول الله کیا ہم حق پر اور کفار باطل پر نہیں ہیں،حضور انور نے فرمایا خدا کی قسم تم حق پر ہو عرض کیا پھر ہم چھپتے کیوں ہیں۔چنانچہ مسلمان دو صفوں میں نکلے ایک میں حضرت حمزہ تھے دوسری صف میں حضرت عمر آپ کے سینے سے چکی کی سی آواز نکل رہی تھی آپ کو اور حضرت حمزہ کو کفار قریش نے مؤمنین کی صف میں دیکھا تو ان کے ہاں صف ماتم بچھ گئی بہت غمگین ہوئے حضور نے آپ کو فاروق کا لقب دیا جب آپ ایمان لائے تو جبریل ا مین حاضر خدمت ہوکر بولے یارسول الله آج حضرت عمر کے ایمان پر فرشتوں میں مبارکباد کی دھوم مچی ہے۔حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں اگر تمام دنیا والوں کے علوم ایک پلہ میں رکھے جاویں اور حضرت عمر کا علم دوسرے پلہ میں تو حضرت عمر کا علم وزنی ہوگا۔حضرت عمر کی وفات سے نو حصے علم اٹھ گیا دسواں حصہ باقی رہ گیا،آپ حضور کے ساتھ تمام غزوات میں شریک ہوئے،پہلے آپ ہی کا لقب امیر المؤمنین ہوا ابوبکر صدیق کے بعد آپ خلیفہ ہوئے،آپ چھبیس ذی الحجہ ۲۳ھ تئیس بدھ کے روز ایک یہودی غلام ابو لولو کے خنجر سے محراب النبی میں نماز فجر پڑھاتے ہوئے شہید کیے گئے اور دسویں محرم اتوار کے دن ۲۴ کو پہلوئے مصطفویٰ میں گنبدِ خضرا کے اندر دفن کیے گئے ساڑھے دس سال خلافت کی تریسٹھ سال عمر پائی،حضرت صہیب نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔خیال رہے کہ آپ سے پانچ سو انتالیس احادیث مروی ہیں دس حدیثیں متفق علیہ ہیں،نو حدیثیں صرف بخاری میں ہیں پندرہ حدیثیں مسلم میں ہیں۔(مترجم از حاشیہ)عمر کے معنی ہیں آباد کرنے والے آپ نے اسلام کو آباد کیا آپ کی شہادت سے اسلام گویا یتیم ہوگیا۔(مترجم)
(۲)عمرابن ابی سلمہ: آپ کے والد ابو سلمہ کا نام عبدالله ابن عبدالاسد ہے،آپ مخزومی قرشی ہیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے سوتیلے بیٹے ہیں یعنی جناب ام سلمہ کے فرزند آپ حبشہ میں پیدا ہوئے،۲ ہجری میں حضور انور کی وفات کے وقت نو سال کے تھے عبدالملک ابن مروان کی حکومت میں ۸۳ تراسی میں وفات پائی۔
(۳)عثمان ابن عفان: آپ کی کنیت ابو عبدالله ہے اموی قرشی ہیں،آپ شروع اسلام میں ہی حضرت ابوبکر صدیق کی تبلیغ سے انہیں کے ہاتھ پر اسلام لائے ابھی حضور انور دار ارقم میں نہیں گئے تھے آپ نے حبشہ کی طرف دو ہجرتیں کیں آپ غزوہ بدر میں شریک نہ ہوسکے کیونکہ آپ کی زوجہ رقیہ بنت رسول الله بیمار تھیں حضور انور کے حکم سے مدینہ منورہ میں رہے حضور نے بدر کی غنیمت سے حصہ آپ کو دیا،نیز صلح حدیبیہ کے موقعہ پر بیعت الرضوان میں جسمًا شریک نہ ہوئے کیونکہ حضور انور نے آپ کو اپنا نمائندہ بنا کر اہل مکہ کے پاس صلح کی بات چیت کرنے بھیجا تھا اور یہ بیعت آپ کے پیچھے ہوئی تھی اس خبر پر کہ عثمان کو اہل مکہ نے شہید کردیا۔حضور انور نے اپنے بائیں ہاتھ کے متعلق فرمایا کہ یہ عثمان کا ہاتھ ہے اور آپ نے داہنے ہاتھ کے متعلق فرمایا کہ یہ محمد مصطفی کا ہاتھ ہے صلی الله علیہ وسلم اور بیعت کی چونکہ حضور انور کی دو بیٹیاں رقیہ و کلثوم آگے پیچھے حضرت عثمان کے نکاح میں آئیں اسی لیے آپ کا لقب ذوالنورین ہے یعنی دو نور والے۔آپ یکم محرم۲۴ چوبیس کو خلیفہ بنے بیاسی سال عمر پائی بارہ برس خلافت کی آپ کو اسود تجیبی مصری نے یا کسی اور نے شہید کیا اور جنت البقیع کے کنارے پر دفن ہوئے،شہادت اٹھارہ ذی الحجہ جمعہ کے دن ۳۵ پینتیس کو ہوئی۔
(۴)عثمان ابن عامر: آپ کی کنیت ابو قحافہ ہے حضرت ابوبکر صدیق کے والد ماجد ہیں،قرشی تیمی ہیں،فتح مکہ کے دن ایمان لائے خلافت فاروقی تک زندہ رہے ۱۴ھ چودہ میں فات پائی ۹۷ ستانوے سال عمر ہوئی آپ سے ابوبکر صدیق اور اسماء بنت صدیق نے روایات لیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع