دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

۳؎ یعنی حضور انور کے سر یا داڑھی شریف کے بال اتنے سفید نہ ہوئے جن میں خضاب لگایا جاسکتا صرف چند بال سفید ہوئے تھے۔یہاں شیخ نے فرمایا کہ سفید بال تو بہت تھوڑے تھے کچھ بال سرخ ہوگئے تھے یعنی سفید ہونے والے تھے کہ وفات شریف واقع ہوگئی اس پر حدیث پیش کی وکان مثیبہ احمر وہ سرخی بھی قابل خضاب نہ ہوتی۔

۴؎ شمطات جمع ہے شمط کی شمط شین کی فتح میم کے سکون سے سفید اور میم کے بھی فتح سے ہو تو سیاہی سفیدی سے مخلوط، یہاں پہلے معنی ہیں یعنی سفید بال داڑھی شریف میں پانچ بال سفید تھے۔

۵؎ یعنی سر شریف میں بھی گنتی چنتی کے بال شریف سفید تھے اور داڑھی شریف میں بھی سر شریف میں چودہ بال سفید تھے ظاہر ہے کہ اتنے بال ضرور گنے جاسکتے ہیں۔

۶؎  نبذ کے معنی ہیں تھوڑے سے بال وہ بھی الگ الگ،کل بیس بال شریف سفید ہوئے تھے چودہ تو سر شریف میں،پانچ داڑھی مبارک میں،ایک ریش بچی میں۔یہ ہے صحابہ کا عشق رسول کہ حلیہ شریف ہو بہو بیان کردیا۔خدا کرے یہ حلیہ شریف قبر میں یاد رہے کہ اس پر وہاں کی کامیابی موصوف ہے۔

5787 -[12] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْهَرَ اللَّوْنِ كَانَ عَرَقُهُ اللُّؤْلُؤُ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ وَمَا مَسَسْتُ دِيبَاجَةً وَلَا حَرِيرًا أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا شمَمتُ مسكاً وَلَا عَنْبَرَةً أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چمکدار رنگت والے تھے آپ کا پسینہ گویا موتی تھا ۱؎ جب چلتے تو طاقت سےچلتے تھے ۲؎ اور میں نے موٹا باریک ریشم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ شریف سے زیادہ نرم نہ چھوا ۳؎ اور نہ مشک و عنبر سونگھا جو حضور انور کی مہک سے زیادہ خوشبودار ہو ۴؎ (بخاری مسلم)

۱؎ یعنی چمک دار اور نہایت ہی آبدار صاف شفاف خوشبودار یہاں صرف صفائی و آب تاب مراد ہے خوشبو دوسری احادیث سے مروی ہے۔

۲؎  جب طاقتور آدمی چلتے ہیں تو رفتار کے دوران یکدم پاؤں زمین سے اٹھاتے ہیں گویا پاؤں کو ہیڑ رہے ہیں،حضور انور کی چال پہلی قسم کی تھی۔تکفا کے یہ معنی ہیں جیسے انسان اوپر سے اترتے ہوئے قدم اٹھاتا ہے حضور کی رفتار ایسی تھی۔

۳؎ حضور انور کے ہاتھ موٹے موٹے یعنی بھرے ہوئے نہایت طاقتور تھے مگر ساتھ ہی نہایت نرم بھی تھے۔اس گنہگار نے ایک بار خواب میں اس دست اقدس کو بوسہ دیا ہے بالکل ایسے ہی دیکھے نہایت ٹھنڈے کہ مصافحہ ہوا تو کلیجہ ٹھنڈا ہوگیا رب تعالٰی پھر نصیب کرے۔شعر

خدا نے ان کو اپنے حسن کے سانچے میں ڈھالا ہے                  وہ آئے اس جہاں میں سب حسینوں سے حسین ہوکر

۴؎  یہ خوشبو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے جسمِ اطہر سے ہر وقت مہکتی تھی بہت تیز تھی اور دور دور پہنچتی تھی حتی کہ گلی سے گزرتے تو گھروں والے اندرون خانہ محسوس کرلیتے تھے پھر یہ خوشبو بہت دیر تک پھیلی رہتی تھی کہ جس گلی سے گزر جاتے بعد میں بہت دیر تک وہ گلی مہکتی رہتی تھی کہ بعد میں آنے والے پہچان لیتے کہ یہاں سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم گزر گئے ہیں۔اعلٰی  حضرت قدس سرہ فرماتے ہیں۔شعر

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن