30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲۲)سلمہ ابن ہشام: آپ قرشی مخزومی ہیں،حبشہ کے مہاجرین میں سے ہیں،بہترین صحابی ہیں،ابوجہل کے بھائی ہیں، پرانے مؤمن ہیں،الله کی راہ میں آپ نے بہت ایذائیں جھیلیں،مکہ معظمہ میں قید کرلیے گئے تھے،حضور انور نے قنوت نازلہ میں جن مؤمنین معذبین کے لیے چالیس دن دعائیں کیں ان میں آپ بھی ہیں،غزوہ بدر میں اسی قید و بند کی وجہ سے شریک نہ ہوسکے،خلافت فاروقی میں۱۴ چودہ میں جنگ مرج الصغیر میں شہید کیے گئے۔
(۲۳)سلمہ ابن صخر: آپ انصاری بیاضی ہیں،آپ کا نام سلیمان ہے،انہوں نے ہی اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا پھر صحبت کرلی تھی،الله کے خوف سے بہت گریہ وزاری کرتے تھے،آپ کی احادیث صحیح نہیں ہوتیں۔
(۲۴)سلمہ ابن محبق: آپ کی کنیت ابو سنان ہے اورمحبق کا نام صخر ابن عتبہ ہذلی ہے،اہل بصرہ میں آپ کا شمار ہے۔
(۲۵)سلمہ ابن قیس: آپ اشجعی ہیں،آپ کا شمار اہلِ کوفہ میں ہے۔
(۲۶)سلمان فارسی: آپ کی کنیت ابو عبدالله ہے،آپ حضور انور کے آزاد کردہ ہیں،آپ فارسی النسل رام ہرمز کی اولاد سے ہیں،فارس کے شہر اصفہان کے علاقہ کے رہنے والے تھے،تلاش دین میں دیس چھوڑ پردیسی بنے،پہلے عیسائی بنے ان کی کتابیں پڑھیں بہت مصیبتیں جھیلیں حتی کہ انہیں بعض عربیوں نے غلام بنالیا اور یہود کے ہاتھ فروخت کردیا ان کے آقانے انہیں مکاتب کردیا،حضور انور نے ان کا مال کتابت ادا کرکے آزاد کردیا،آپ دس سے زیادہ آقاؤں کے پاس پہنچے حتی کہ حضور انور تک پہنچ گئے،حضور انور نے فرمایا کہ سلمان ہمارے اہل بیت سے ہیں،جنت ان کی مشتاق ہے، بڑی عمر پائی ڈھائی سو بلکہ ساڑھے تین سو سال عمر ہوئی،ہمیشہ اپنے ہاتھ سے کماکر کھایا صدقہ کیا،مدائن میں وفات ہوئی وہاں ہی مزار ہے، ۵۳ھ میں وفات ہے۔مترجم کہتا ہے کہ مدائن کا نام اب سلمان پاک ہے یہ جگہ بغداد شریف سے ۳۰ تیس میل ہے،ان کے ساتھ حذیفہ ابن یمان اور جابر کے مزارات ہیں،فقیر نے زیارت کی ہے۔مدینہ منورہ کے عوالی میں سلمان کا باغ ہے اس میں دو کھجور کے درخت حضور کے لگائے ہوئے ہیں،فقیر نے زیارت کی ہے۔
(۲۷)سلمان ابن عامر: آپ ضبی ہیں،اہل بصرہ میں آپ کا شمار ہے،بہت کم عمر صحابی ہیں یعنی لڑکپن میں حضور کی زیارت کی ہے۔
(۲۸)سفینہ: آپ کا نام رباح یا رومان ہے،لقب سفینہ،ایک بار حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ سفر میں تھے ایک صحابی نے تھک کر اپنی تلوار،ڈھال نیزہ وغیرہ انہیں دے دیا اور بہت سامان انہوں نے لادا ہوا تھا حضور انور نے فرمایا کہ تم تو ہمارے سفینہ یعنی کشتی ہو تب سے آپ کا لقب سفینہ ہوا،یہ حضور انور کے آزاد کردہ غلام ہیں،بعض نے فرمایا کہ آپ حضرت ام سلمہ کے غلام تھے انہوں نے آپ کو آزاد کیا اس شرط پر کہ زندگی بھر حضورانور کی خدمت کریں۔مترجم کہتا ہے کہ حق یہ ہی ہے کہ حضور انور کے غلام ہیں کیونکہ آپ نے جنگل میں شیر سے کہا تھا کہ اے ابو حارث میں رسول الله کا غلام ہوں جس پر شیر دم ہلاتا ہوا آپ کے ساتھ ہولیا،آپ بدوی ہیں یا فارسی النسل۔
(۲۹)سالم ابن معقل: آپ حضرت حذیفہ ابن عتبہ ابن ربیعہ کے آزاد کردہ ہیں،ملک فارس کے شہر اصطخر کےرہنے والے ہیں، بہترین شاندار صحابی ہیں،قاریوں میں آپ کا شمار ہے،حضور انور نےفرمایا تھا کہ چارشخصوں سے قرآن لو: ابن مسعود،ابی ابن کعب، سالم ابن معقل اور معاذ ابن جبل،آپ غزوہ بدر میں شریک ہوئے۔
(۳۰)سالم ابن عبید: آپ اشجعی ہیں،اہلِ صفہ سے ہیں،آپ کا شمار اہلِ کوفہ میں ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع