30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۴)زید ابن حارثہ: آپ کی کنیت ابو اسامہ ہے،آپ کی ماں سعدہ بنت ثعلبہ ہیں،بنی معن قبیلہ سے آپ کی والدہ آپ کو لے کر اپنی قوم کی طرف چلیں،آپ پر معن ابن ابی الجریر والوں نے حملہ کردیا آپ کو غلام بنالیا،اس وقت آپ کی عمر آٹھ سال تھی،آپ کو عکاظ بازار میں لائے آپ کو حکیم ابن حزام نے اپنی پھوپھی خدیجہ بنت خویلد کے لیے چار سو درہم میں خرید لیا،جب حضرت خدیجہ حضور کے نکاح میں آئیں تو انہوں نے آپ کو حضور انور کی خدمت عالیہ میں پیش کردیا حضور انور نے قبول فرمالیا،اس کے بعد آپ کے والد حارثہ اور چچا کعب آپ کا فدیہ لے کر حضور کے پاس آئے اور عرض کیا کہ یہ ہمارا بیٹا ہے ہم کو عنایت کردیا جائے حضور نے فرمایا کہ زید کو اختیار ہے چاہیں میرے پاس رہیں چاہیں تمہارے پاس آپ نے فرمایا رسول الله میرے گھر بار ماں باپ قرابت دار آپ پر فدا آپ پر قربان میں تو آپ ہی کے پاس رہوں گا آپ جیسا محسن اور محبت والا میں نے کوئی نہیں دیکھا حضور انور آپ کو بیت الله شریف میں لائے اور فرمایا کہ حاضرین کعبہ گواہ رہو کہ میں نے زید کو اپنا بیٹا بنالیا چنانچہ آپ کو زید ابن محمد کہا جانے لگا،پھر جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے نبوت کا اعلان فرمایا اور آیت کریمہ "اُدْعُوۡہُمْ لِاٰبَآئِہِمْ"نازل ہوئی تب آپ کو زید ابن حارثہ کہا گیا،بعض مؤرخین نے کہا کہ پہلے آپ ہی حضور پر ایمان لائے حضور انور نے پہلے تو اپنی لونڈی ام ایمن سے آپ کا نکاح کیا جن سے اسامہ ابن زید پیدا ہوئے،پھر زینت بنت جحش سے آپ کا نکاح کیا،آپ حضور کے محبوب ترین صحابی ہیں قرآن مجید میں صرف آپ کا نام آیا ہے اور کسی صحابی کا نام نہیں آیا"فَلَمَّا قَضٰی زَیۡدٌ مِّنْہَا وَطَرًا"۔آپ غزوہ موتہ ۸ آٹھ میں شہید ہوئے،اس لشکر کے آپ ہی امیر تھے،آپ نے پچپن سال عمر پائی،غزوہ موتہ جمادی اول ۸ آٹھ میں ہی ہوا۔
(۵)زید ابن خطاب: آپ قرشی عدوی ہیں،حضرت عمر فاروق کے بڑے بھائی ہیں،مہاجرین اولین سے ہیں،حضرت عمر سے پہلے ایمان لائے بدر وغیرہ تمام غزوات میں شریک ہوئے،خلافت صدیقی میں غزوہ یمامہ میں شہید ہوئے۔
(۶)زید ابن سہیل: آپ کی کنیت ابوطلحہ ہے اسی میں مشہور ہوئے،آپ کا ذکر طاء کی تختی میں ہوگا۔
(۷)زبیر ابن عوام: آپ کی کنیت ابو عبداﷲ ہے،قرشی ہیں،آپ کی والدہ صفیہ بنت عبدالمطلب ہیں یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی پھوپھی آپ اور آپ کی والدہ بڑے پرانے مؤمنین میں سے ہیں،آپ سولہ برس کی عمر میں ایمان لائے آپ کے چچا نے آپ کو دھوئیں کی سزا دی تاکہ اسلام چھوڑ دیں مگر نہ چھوڑا تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہے سب سے پہلے آپ نے الله کی راہ میں تلوار سونتی احد میں حضور انور کے ساتھ ثابت قدم رہے،آپ عشرہ مبشرہ سے ہیں،آپ کو عمرو ابن جرموز نے بصرہ کے قریب مقام سفوان میں قتل کیا،۳۶ میں چونسٹھ سال عمر ہوئی پھر بصرہ لاکر آپ کو دفن کیا گیا،مقام وادی السباع میں آپ کی قبر زیارت گاہ عام ہے۔مترجم نے زیارت کی ہے۔
(۸)زیاد ابن لبید: آپ کی کنیت ابو عبدالله ہے،انصاری ہیں،زرقی ہیں،تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہے،حضور نے حضر موت پر حاکم مقرر کیا،امیر معاویہ کے زمانہ میں وفات ہوئی۔
(۹)زید ابن حارث: آپ صدائی ہیں،آپ نے جب حضور سے بیعت کی تو آپ کے سامنے اذان دی آپ کا شمار بصرہ والوں میں ہے۔
(۱۰)زراع ابن عامر: آپ عامر ابن عبدالقیس کے بیٹے ہیں،وفد عبدالقیس میں حضور کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوکر ایمان لائے،آخر میں بصرہ میں رہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع