30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۳)ذوالیدین: آپ کا نام خرباق ابن ساریہ،لقب ذوالیدین،صحابی ہیں،حجازی ہیں،جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو ایک بار نماز میں سہو ہوگیا تو آپ ہی نے اس کی اطلاع عرض کی تھی۔
ر۔۔۔صحابہ کرام
(۱)رافع ابن خدیج: آپ کی کنیت ابو عبدالله ہے،حارثی ہیں،انصاری ہیں،غزوہ احد میں آپ کو تیر لگا حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں قیامت میں تمہارا گواہ ہوں پھر عبدالملک ابن مروان کے زمانہ میں یہ ہی زخم ہرا ہوگیا،اس زخم سے آپ کی وفات ہوئی،آپ کی وفات مدینہ منورہ میں۷۳ تہتّر میں ہوئی،۸۶ چھیاسی سال عمر پائی،ایک خلقت نے آپ سے روایات لیں۔
(۲) رافع ابن عمرو: آپ غفاری ہیں،اہل بصرہ میں آپ کا شمار ہے،حضرت عبداﷲ ابن ارفع نے آپ سے احادیث نقل کیں۔
(۳)رافع ابن مکیث: جہنی ہیں،حدیبیہ میں حاضر ہوئے،بہت لوگوں نے آپ سے روایات لیں۔
(۴)رفاعہ ابن رافع: آپ کی کنیت ابو معاذ ہے،زرقی انصاری ہیں،بدر وغیرہ تمام غزوات میں حاضر ہوئے،جنگ جمل و صفین میں حضرت علی کے ساتھ رہے،امیر معاویہ کی سلطنت میں وفات پائی۔
(۵)رفاعہ ابن سموال: آپ قرظی ہیں،آپ نے ہی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں آپ کی مطلقہ بیوی نے عبدالرحمن ابن زبیر سے نکاح کیا تھا۔
(۶)رفاعہ ابن عبدالمنذر: آپ انصاری ہیں،آپ کی کنیت ابو لبابہ ہے،آپ کا ذکر لام کی تختی میں ہوگا۔
(۷)رویفع ابن ثابت: آپ سکن کے پوتے ہیں،انصاری ہیں آپ کا شمار اہل مصر میں ہے،امیر معاویہ نے آپ کو ۴۶ چھیالیس میں طرابلس المغرب کا حاکم بنایاتھا،آپ کی وفات یا تو مقام برقہ میں ہوئی یا شام میں۔خیال رہے کہ افریقہ امیر معاویہ نے ۴۷ میں فتح کیا دیکھو اشعۃ اللمعات جلد ثالث صفحہ ۴۴۷ کتاب الجہاد قسمۃ الغنائم۔(مترجم)
(۸)رکانہ ابن عبد یزید: آپ رکانہ ابن عبد یزید ابن ہاشم ابن عبد المطلب ہیں،آپ قرشی ہیں،حضرت عثمان کے زمانہ تک رہے، بعض نےفرمایا کہ ۴۲ بیالیس میں وفات پائی،آپ اہل حجاز سے ہیں۔
(۹)ریاح ابن ربیع: آپ اسیدی ہیں،آپ کی احادیث اہل بصر ہ میں مشہور ہیں ۔
(۱۰)ربیعہ ابن کعب: آپ کی کنیت ابو افراس ہے،اسلمی ہیں،اہل مدینہ میں آپ کا شمار ہے،اہل صفہ سے تھے،حضور کے خاص خادم ہیں،سفر و حضر میں حضور کے ساتھ رہے،۶۳تریسٹھ میں وفات پائی،آپ نے ہی حضور سے جنت مانگی اور حضور نے عطا کی۔ (مترجم)
(۱۱)ربیعہ ابن حارث: آپ ربیعہ ابن حارث ابن عبدالمطلب ابن ہاشم ہیں یعنی حضور انور کے چچا زاد صحابی ہیں،خلافت فاروقی ۳۲ھ میں وفات ہے،حضور انور نے آپ ہی کے متعلق فتح مکہ کے دن فرمایا کہ میں ربیعہ ابن حارث کا خون معاف کرتا ہوں کہ آپ ہی کا بیٹا زمانہ جاہلیت میں قتل کیا گیا تھا جس کا نام آدم تھا۔
(۱۲)ربیعہ ابن عمرو: آپ جرشی ہیں،واقدی نےکہا کہ آپ قتل کئے گئے۔
(۱۳)ابو رافع: آپ کا نام اسلم ہے،حضور انور کے آزاد کردہ ہیں،کنیت میں مشہور ہیں،قطبی تھے اولًا حضرت عباس کے غلام تھے انہوں نے حضور کی خدمت میں دے دیا یعنی مالک کردیا،غزوہ بدر سے پہلے ایمان لائے انہوں نے ہی حضور انور کو حضرت عباس کے ایمان کی خبر دی تو حضور نے خوشی میں آپ کو آزاد کیا،عثمان کی شہادت سے کچھ پہلے وفات پائی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع