30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی ذات کا بدلہ کسی سے نہ لیا بلکہ ہمیشہ در گزر کی معافی دی،یہ ہے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی وسعت قلبی۔
۳؎ یعنی کبھی آپ کے بال شریف تابگوش ہوتے تھے لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی بال شریف کندھوں تک تھے۔
۴؎ یہاں سرخ سے مراد خالص سرخ نہیں کہ مردوں کے لیے خالص سرخ لباس ممنوع ہے بلکہ مخطط بالا حمر مراد ہے یعنی اس کپڑے میں سرخ خطوط بھی تھے اور ہرے بھی اور کپڑا ریشمی نہ تھا سوتی تھا۔حلہ سوتی کپڑے کا بھی ہوتا ہے یہ حلہ یمنی تھا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو یمنی لباس محبوب تھا۔
۵؎ جو بال کانوں کی گدیوں تک ہوں انہیں وفرہ کہتے ہیں،جو کانوں اور کندھوں کے درمیان ہوں انہیں جمہ کہا جاتا ہے اور جو کندھوں تک پہنچیں انہیں لمہ کہتے ہیں۔حضور انور کے بال کبھی لمہ بھی ہوتے تھے اسی کا یہاں ذکر ہے۔
۶؎ خیال رہے کہ عورتوں کی طرح بہت لمبے بال رکھنا مردوں کو ممنوع ہیں،کندھوں تک مردوں کے بالوں کی انتہا ہے۔
۷؎ یعنی حضور کے جسم شریف میں وہ درازی یا پستی نہ تھی جو بری معلوم ہو۔(مرقات)
|
5784 -[9] وَعَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْكَلَ الْعَيْنَيْنِ مَنْهُوشَ الْعَقِبَيْنِ قِيلَ لَسِمَاكٍ: مَا ضَلِيعُ الْفَمِ؟ قَالَ: عَظِيمُ الْفَمِ. قِيلَ: مَا أَشْكَلُ الْعَيْنَيْنِ؟ قَالَ: طَوِيلُ شَقِّ الْعَيْنِ. قِيلَ: مَا مَنْهُوشُ الْعَقِبَيْنِ؟ قَالَ: قليلُ لحم الْعقب. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت سماک ابن حرب سے ۱؎ وہ حضرت جابر ابن سمرہ سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کشادہ منہ والے۲؎ سرخ و سفید آنکھ والے پتلی ایڑیوں والے تھے۳؎ سماک سے پوچھا گیا کہ ضلیع الفم کیا چیزہے فرمایا کشادہ منہ۴؎ کہا گیا کہ اشکل العین کیا ہے فرمایا آنکھ کی لمبائی دراز ۵؎ کہا گیا کہ منھوش العقبین کیا ہیں فرمایا ایڑی شریف پر گوشت تھوڑا ۶؎(مسلم) |
۱؎ آپ مشہورتابعی ہیں،کوفی ہیں،تیس صحابہ سے آپ کی ملاقات ہے،بہت مقبول الدعاتھے،خود کہتے ہیں کہ میری بینائی جاتی رہی تھی اللہ تعالٰی سے دعا کی اس نے مجھے بینائی واپس فرمادی۔(اشعہ)
۲؎ منہ کی کشادگی حسن ہے اور منہ کی تنگی بدزیب مگر کشادگی زیادہ مراد نہیں کہ وہ بدزیب ہوتی ہے۔بعض نے فرمایا کہ یہاں کشادگی منہ سے مراد ہے فصاحت و بلاغت مگر یہ قوی نہیں کہ یہاں حلیہ شریف کا ذکر ہے فصاحت کو حلیہ شریف سے تعلق نہیں۔
۳؎ اشکل بنا ہے شکلہ سے شکلہ کے معنی ہوتے ہیں مخلوط رنگ جس میں سفیدی میں سرخ ڈورے ہوں یا آنکھ کی سفیدی مائل بہ سرخی ہو اسی سے بنا ہے اشکل۔
۴؎ عربی میں وجہ کہتے ہیں چہرہ کو اور فم کہتے ہیں دہان یعنی منہ کو،کشادہ منہ سے مراد ہے ہونٹ قدرے دراز ہوں یہ بھی حسن و خوبی ہے۔
۵؎ محدثین فرماتے ہیں کہ سماک نے جو اشکل العین کی تفسیر کی ہے وہ درست نہیں تمام محدثین کا اسی پر اتفاق ہے کہ اشکل کے معنی یہ نہیں،اس کے معنی وہ ہی ہیں جو ابھی مذکور ہوئے یعنی آنکھ کی تیز سفیدی میں سرخ باریک ڈورے یہ بھی حسن ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع