30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱۰)ابو بردہ: آپ کا نام عامر ابن عبدالله ابن قیس ہے یعنی ابو موسیٰ اشعری کے بیٹے ہیں کہ عبدالله ابن قیس ابو موسیٰ اشعری کا نام ہے،آپ حضرت علی کے ساتھ رہے،قاضی شریح کے بعد کوفہ کے قاضی رہے حجاج ابن یوسف نے آپ کو معزول کیا،اپنے والد اور حضرت علی سے احادیث نقل کیں۔
(۱۱)ابو بکر ابن عیاش: آپ مخزومی ہیں،تابعی ہیں،حضرت عائشہ اور ابوہریرہ سے احادیث سنیں۔
(۱۲)ابو بکر ابن عبدالله ابن زبیر: آپ اسدی ہیں،علماء دین میں سے اعلی درجہ کے عالم ہیں،چھیانوے سال عمر پائی،۱۵۳ ایک سو ترپن میں آپ کی وفات ہوئی۔
(۱۳)ا بو بکر ابن عبد الرحمن کا ذکر عین کی تختی میں آوے گا،آپ حمیدی ہیں،امام بخاری کے استاذ ہیں۔
(۱۴)ابو البختری:آپ کا نام سعید ابن فیروز ہے،آپ نے چاند دیکھنے کے متعلق حدیث روایات کی۔
ب۔۔۔صحابیات
(۱) بریرہ: آپ حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا کی آزادکردہ لونڈی ہیں،حضرت عائشہ صدیقہ،ابن عباس، عروہ ابن زبیر سے روایات لیں۔مترجم کہتا ہے کہ آپ کے فضائل بہت ہیں حضرت عائشہ رضی الله عنہا کو تہمت کے موقعہ پر آپ نے نہایت نفیس طرح پاکدامنی بیان فرمائی آپ کے ذریعہ تین فقہی مسائل ثابت ہوئے۔
(۲)بسرہ:آپ بسرہ بنت صفوان ابن نوفل ہیں،قرشیہ اسدیہ ہیں،ورقہ ابن نوفل کی بھتیجی ہیں۔
(۳)بہیسہ: آپ فزاریہ ہیں،صحابیہ ہیں،آپ نے اپنے والد سے بھی روایت لیں ہیں۔
(۴)ام بجید: آپ کا نام حواء بنت یزید ابن سکن ہے،انصاریہ ہیں،اسماء بنت یزید کی بہن ہیں۔
(۵)بناتہ: حق یہ ہے کہ آپ تابعی ہیں،عبدالرحمن ابن حبان کی آزادہ کردہ لونڈی ہیں،حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت لیتی ہیں۔
ت۔۔۔صحابہ کرام
(۱)تمیم داری: آپ کا نام تمیم بن اوس ہے،قبیلہ بنی عبد الدار سے ہیں،پہلے عیسائی تھے، ۹ نو اسلام لائے،آپ ایک رکعت میں قرآن مجید ختم کرتے تھے،کبھی ایک آیت بار بار پڑھتے تھے حتی کہ ایک رکعت میں سویرا ہوجاتا تھا،آپ ایک رات سوگئے حتی کہ تہجد نہ پڑھ سکے تو اس کےکفارہ میں ایک سال تک نہ سوئے تمام رات عبادت ہی کرتے رہتے،اولًا مدینہ منورہ میں رہے پھر حضرت عثمان کی شہادت کے بعد شام منتقل ہوگئے وہاں ہی وفات پائی،سب سے پہلے مسجد نبوی میں چراغ سے روشنی آپ ہی نے کی آپ نے دجال اور جساسہ کا واقعہ حضور اکرم سے بیان کیا۔
ت۔۔۔تابعین کرام
(۱)ابو تمیمہ: آپ کا نام طریف ابن خالد جمحی ہے،یمن کے باشندے تھے،پھر بصرہ میں رہے،آپ نے بہت صحابہ سے ملاقات کی ہے، ۹۵ پچانوے میں وفات پائی۔
ث۔۔۔صحابہ کرام
(۱)ثابت ابن قیس ابن شماس: آپ انصاری خزرجی ہیں،احد اور بعد کے تمام غزوات میں شریک ہوئے،عظیم الشان صحابی ہیں،آپ کے لیے حضور انور نے جنت کی گواہی دی،حضور انور کے خطیب تھے۔۱۲ بارہ ہجری میں غزوہ یمامہ میں شہید ہوئے جو عہد صدیقی میں مسیلمہ کذاب سے ہوا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع